506

سردیاں اور احتیاطی تدابیر

تحریر شئیر کریں

سردیاں اور احتیاطی تدابیر


موسم سرما کا نام آتے ہی خنکی کا احساس حواس پر غالب آنے لگتا ہے۔میدانی علاقوں میں سردی کا موسم زرا دیر سے شروع ہوتا ہے۔جبکہ پہاڑی علاقوں میں جلدی آغاز ہو جاتا ہے۔سردی کی آمد کے ساتھ ہی سردی کےساییڈ ایفیکٹس بھی شروع ہوجاتے ہیں۔نزلہ کھانسی اور بخار سردیوں میں عام ہو جاتا ہے۔اور اب تو ایک اور وبا کرونا بھی سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی پھر سے شروع ہوچکی ہے۔ایسے میں احتیاط احتیاط اور صرف احتیاط ہی بہترین حل ہے۔

خود کو سردی سے بچائیں

سب سے پہلا کام خود کو اور اپنے بچوں کو سردی سے بچانا ہے۔اس مقصد کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال کریں۔باہر نکلتے ہوۓ خصوصی اہتمام کریں۔بچے تو بہت نازک ہوتے ہیں۔انکی حفاظت تو اور بھی ضروری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے موسم کے بدلتے تیور بچوں کو چھوڑ بڑوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔

گرم غذاؤں کا استعمال

گرم کپڑوں کے ساتھ ساتھ گرم غذاؤں کا استعمال بھی سردی سے بچاتا ہے۔بچوں اور بڑوں کو انڈے سوپ یخنی اور مچھلی کا استعمال سردی اور مختلف انفیکشن سے بچاتا ہے۔اس کے علاوہ صاف پانی اور سبزیوں کا استعمال بھی بہت فائدہ مند ہے۔پانی اگر روم ٹمپریچر کے مطابق استعمال کریں۔تو اس سے گلے کے انفیکشن اور کرونا میں بھی مفید ہے۔مختلف قہوجات کا استعمال بھی الرجیزمیں مفید ثابت ہوتا ہے۔شہد اور قسط البحری کی معجون سانس کی

سردیوں کی آمد اور کرونا کے خدشات یہ بھی پڑھیے

بیماریوں ،ٹانسلز اور چسٹ انفیکشن کے لیے اکسیر ہے۔

چھوٹے بچوں کو خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔سردی میں نمونیے کے چانس بہت بڑھ جاتےہیں۔جس سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال اورصفائی ستھرائی بہت ضروری ہے۔بلا وجہ انھیں گھر سے مت نکالیں۔یہ کووڈ اور سردی دونوں کے لیے مفید ہے۔روزانہ شہد چٹانے سے بھی دیگر بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔بچے ہمارا سکون اور چین ہوتے ہیں۔ان کا درد گھر بھر کے سکون کو درہم برہم کر دیتا ہے۔انکی حفاظت اور احتیاطی تدابیر ہی مسائل کا حل ہے۔اپنے بچوں کو سردی سے بچائیے۔اپنے لیے اپنے گھر کی خوشیوں کے لیے۔

سردیاں اور احتیاطی تدابیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں