تحریر : لبنٰی جمشید
عیدالفطر کے فوراََ بعد شوال میں چھ روزے رکھنا سنت نبوی ﷺ ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :
“مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْر”ِ.
ترجمہ : جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔
نبی مکرم ﷺ نے تفسیر اس طرح بیان فرمائی کہ :جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اس کے پورے سال کے روزے ہیں۔کیونکہ :”الحسنة بعشرة أمثالها”۔یعنی:جو کوئی نیکی کرتا ہے اسے اس کا اجر دس گنا بڑھا کر ملتا ہے ۔
شوال کے روزوں کے فوائد
شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ روزے رمضان المبارک کے روزوں کی کمی اورنقص کو پورا کرتے ہیں۔ کیونکہ روزہ دار سےحالت روزہ میں کمی بیشی ہو جاتی ہے اور اکثر اوقات جانے انجانے میں گناہ بھی سرزد ہوجاتے ہیں جوکہ روزوں کے ثواب میں خلل کا باعث بنتے ہیں ۔ اب اس کمی کو پورا کرنے کیلئے رسول اللہ ﷺ نے شوال کے چھ روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔
نفلی عبادت کی اہمیت
روز قیامت فرائض میں پیدا شدہ نقص نوافل سے پورا کیا جائے گا ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی فرمایا :روز قیامت بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ فرشتوں سے کہیں گے کہ میرے بندے کی نماز میں اگر کوئی کمی بیشی ہے تو وہ اس کے نوافل میں سے پوری کی جاۓ ۔ اس لیے نفلی عبادت کی بہت اہمیت ہے نماز کے علاوہ بھی اگر کسی اعمال میں کمہی ہو گی تو اس خلا کو نفلی عبادت مکمل کرے گی۔ اس لیے شوال کے ان روزوں کو رکھ لینا چاہیے کیا معلوم ہمیں ان کی ضرورت کس موڑ پر پڑ جاۓ۔
شوال کے روزوں کے مسائل
کسی کے ذمہ رمضان کے روزے قضا ہوں تو اس کو بھی شوال کے نفلی روزے رکھنا اگرچہ جائز ہے مگر بعض علماء کے نزدیک مذکورہ فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے رمضان کے روزوں کی گنتی اور تعداد پورا کرنا پہلے ضروری ہے البتہ بعض اہل علم حضرات کہتے ہیں کہ اگر رمضان کے روزے کسی عذر کی وجہ سے قضا ہوئے ہوں تو وہ ان میں ہے شمار کیے جائیں گے مگر احتیاط کاتقاضا یہی ہے کہ پہلے قضا روزے رکھے جائیں پھر شوال کے نفلی روزے رکھیں۔
.شوال کے یہ چھ روزے لگا تا ر رکھنا یا عید کے اگلے دن سے فوری طور پر بھی رکھنا لازم نہیں بلکہ شوال کے مہینے میں صرف عید کا دن چھوڑ کر جب اور جس دن چاہیں رکھ سکتے ہیں البتہ کچھ لوگوں کے نزدیک ان روزوں کو عید کے بعد لگا تار رکھنا زیادہ افضل ہے
یہ بات بھی قابل اہم ہے کہ عورت کو شوہر کے اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا منع ہے۔
شوال کے روزوں کی نیت پہلے سے کرنا ضروری نہیں جس دن روزہ رکھنے کا ارادہ ہو نیت تب ہی کی جا سکی ہے لیکن اور نیت کر لی اور روزہ نہیں رکھا تو اس کا کفارہ ادا کرناضروری ہو جاتا ہے۔
اللہ ہم سب کو نیک اعمال اورنفلی عبادات کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین