532

لیلتہ القدر ( عظمتوں والی رات )

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

قرآن پاک کی تیسویں پارے میں سورة القدر کے نام سے ایک سورة ہے جو شب قدر کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔ اس کا ترجمہ یوں ہے

”بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا، کیا شب قدر؟ ٭شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ٭ اس رات میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے، ہر کام کے لیے، وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔“

شب ”رات“ کو کہتے ہیں جبکہ ”قدر “ کے معنی ” مقدر یا نصیب“ کے ہیں یوں شب قدر کو ہم وہ رات کہیں گے جو انسان کو اس کے نصیبوں سے میسر آتی ہے اور جس رات عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار راتوں کے برابر ہے۔ قدر کے معانی مختلف صورتوں میں لیے جاتے ہیں اس حوالے سے مستند یہی معانی ہوں گے۔

شب قدر کب ہوتی ہے؟

شب قدر رمضان شریف کی آخری طاق راتوں اکیسویں, تئیسویں, پچسویں , ستائیسویں یا پھر انتیسویں رات۔میں چپھی ہے ۔ یہ حتمی طور پر نہیں بتایا جا سکتا.

ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ‎ نے فرمایا ” لیلة القدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو جبکہ مہینہ ختم ہونے میں نو دن باقی (اکیسویں) ہوں یا سات دن (تیئسویں) یا پانچ دن باقی (پچیسویں/ستائیسویں

بعض علمائے کرام نے اسے راجح قرار دیا ہے یعنی کہ شب قدر ہر سال ہی کسی ایک معین رات میں نہیں ہوتی بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے۔

لیلة القدر کا نزول

نبی پاک ﷺ‎ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ایک ہزار مہینے اللہ کی راہ میں جہاد کیا صحابہ کو اس کے جہادی قصے سن کر اس پر بے انتہا رشک آتا تھااس وجہ سے امت محمدی ﷺ‎ پر شب قدر نازل کی گئی ۔۔۔ بحوالہ معارف القرآن جلد اول ..

اس سلسلے میں بعض روایات یہ بھی ہیں کہ اس سے قبل لوگوں کی عمریں 500 سال یا اس سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھیں تو انہیں اللہ کی عبادت کے لیے زیادہ وقت میسر ہوتا تھا۔ صحابہ یہ سوچ کر رنجیدہ ہو جاتے تھے کہ ان کے دورمیں اوسط عمر انتہائی کم ہو چکی ہیں کہ اگر نیک اعمال میں پچھلی امتوں کی برابری کرنابھی چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہے تو بدلے میں یہ رات اللہ نے عطا کی کہ جو ڈھونڈھ کر اسے پا لے گا وہ دنیا و آخرت میں فیضیاب ہو جاۓ گا۔

لیلة القدر کی اہمیت و فضائل

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے آقا دوعالم ﷺ‎ نے فرمایا جس نے شب قدرمیں ایمان اور طلب اجر کے ساتھ عبادت کی تو اس کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں (مسلم شریف 259)

ححضرت ابو ہریرہؓ سے ہی ایک اور روایت ہے رسول اللہ ﷺ‎ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس سے محروم رہ گیا گویا ساری بھلائیوں سے محروم رہ گیا ہے (ترغیب جلد 2 صفحہ 94)

رمضان کا مہینہ ویسے بھی مسلمانوں کے لیے بہت مبارک ہوتا ہے اس کے بعد اسے شرف بھی حاصل ہے کہ اس مہینے میں قرآن نازل کیا گیا اور برکتوں و رحمتوں کے نزول والی رات بھی اس مہینے کا حصہ ہے۔ عموماََ رمضان کی ستائیسویں شب پر تمام صحابہ اکرام کا اتفاق تھا کہ یہ شب قدر ہے اس لیے اس رات خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے نوافل ادا کیے جاتے ہیں مسجدوں میں مغفت کی دعائیں مانگی جاتیں ہیں ۔قرآن کی تلاوت ہوتی ہے اپنے رب کی رحمتیں سمیٹے کے لیے انسان عاجز ہو جاتا ہے۔

اس رات فرشتے و جبرائیل زمین پر آتے وہیں خاص طور پر اس شخص کی عظمت کو سلام کرتے ہیں جو سجدے میں اپنے رب کی رحمتیں سمیٹ رہا ہوتا ہے۔

شب قدر کی پہچان

قرآن و احادیث میں جو نشانیاں بیان ہوئیں ہیں ان کے مطابق :-

  1. اس صبح سورج طلوع ہو تو اس میں تمازت نہیں ہوتی۔ شب قدر معتدل نہ تو گرم اور نہ ہی سرد ہوتی ہے، اس دن صبح سورج کمزور اور سرخ طلوع ہوتا یعنی تمازت نہیں ہوتی۔ (مسند ابو داؤد طیالسی)
  2. شب قدر روشن رات ہوتی ہے نہ تو گرم اور نہ ہی سرد ہوتی اور اس میں کوئی ستارہ نہیں پھینکا جاتا، یعنی شہاب ثاقب نہیں گرتا۔ (مسند احمد بن حنبل)
  3. آسمانوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے سے آنکھوں میں نور اور دل میں سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی شب قدر کی پہچان کی سیکڑوں مثالیں بیان کیں جاتیں ہیں لیکن یہ سب سے مستند ہیں۔

لیلۃ القدر میں کیا دعا مانگنی چاہیے؟

ایک حدیث کے مطابق اس رات رحمتوں کے تین سو دروازے کھلتے ہیں۔ جو اس رات کو پاۓ وہ جو بھی دعا مانگے وہ قبول ہو گی۔
اپنے گناہوں پر توبہ و استغفار کہیں اور ہمیشہ عجز و انکساری سے رو رو کر دعامانگیں اور اس اللہ کو بتائيں کہ اس کے احکامات ہمارے لیے کتنے اہم ہیں

شب قدر کو یہ دعا بطور خاص مانگیں

اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی یَا کَرِیْمُ۔

ایک صحابہ کا بیان ہے کہ اگر توبہ ٹوٹ بھی جائے تو دوبارہ کر لینی چاہیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو لیلۃ القدر کی برکات نصیب فرمائے۔ (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں