مشہور مذہبی سکالر انجئینر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ جس سے وہ معمولی زخمی ہوۓ ہیں۔مسلح اور نے چاقو سے وار کیے جس سے ان کے بازو ہر زخم آۓ۔
محمد علی مرزا پیشے کے لحاظ سے انجئنر ہیں۔بہت کم عرصے میں انھوں نے اسلامی سکالرز کی حثیت سے اپنا نام بنا یا ہے۔جہلم میں اپنی اکیڈمی چلاتے ہیں۔یوٹیوب پہ کافی مقبول ہیں۔انکو دیکھنے اور سننے والے لاکھوں میں ہیں۔
یہ مکاتب فکر سے ہٹ کر قرآن وسنت کی تعلیمات پر زور دیتے ہیں۔عام علماء سے ہٹ کر کھل کر تنقید کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے مداحوں کے ساتھ ساتھ انکے مخالفین بھی زیادہ ہیں۔وہ خود کو مسلم کتابی کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کچھ ماہ قبل ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔وجہ یہ تھی کہ انھوں نے کچھ مخالفین پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ ان کو قتل کر دینا چاہیے۔تاہم ان کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
قاتلانہ حملہ آور کا تعلق لاہور سے ہے۔جس کا نام شہزاد یے۔تھانہ سٹی میں ان کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔اس سے قبل 2017 ء میں بھی ان پر حملہ ہوا تھا جس میں وہ بچ گۓ تھے۔حمزہ علی عباسی نے ان جیسی شخصیت پر حملے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔مزہبی سکالر محمد علی مرزا پرقاتلانہ حملہ ہوا جس کی قلم کتاب بھرپور مذمت کرتا ہے۔ا۔