پانی اور قدرتی مشروبات کا استعمال بڑھائیں

شدید گرمی میں جسم سے پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات مسلسل خارج ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لیے صرف پیاس لگنے کا انتظار کرنا کافی نہیں۔
دن بھر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں اور کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی ضرور استعمال کریں۔ لسی، ستو کا شربت، گنے کا رس، املی اور آلو بخارے کا شربت بھی جسم کو ٹھنڈک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ خاص طور پر زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں او آر ایس یا نمکیات والے مشروبات مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
گرمی میں کیا کھائیں؟
موسم گرما میں خوراک کا انتخاب بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ بھاری، چکنائی والی اور تلی ہوئی غذائیں جسم میں گرمی کا احساس بڑھا سکتی ہیں۔
جَو کا دلیہ، جَو کا پانی یا تلبینہ گرمی کے موسم میں مفید غذا سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کھیرا، تربوز، خربوزہ، فالسہ اور دیگر موسمی پھل جسم کو پانی فراہم کرتے ہیں اور تازگی کا احساس دیتے ہیں۔
ایسی غذائیں جن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو، گرمی کی شدت کا مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
مناسب لباس کا انتخاب کریں
گرمی میں لباس کا انتخاب بھی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہلکے رنگوں کے ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہنیں تاکہ ہوا کا گزر برقرار رہے اور جسم کا درجہ حرارت متوازن رہے۔
گہرے رنگ خصوصاً کالا رنگ سورج کی حرارت زیادہ جذب کرتا ہے، اس لیے شدید گرمی میں ہلکے رنگوں کو ترجیح دینا بہتر ہے۔
گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے طریقے
دوپہر کے وقت کھڑکیوں اور پردوں کو بند رکھیں تاکہ باہر کی گرم ہوا اور دھوپ گھر کے اندر داخل نہ ہو۔ شام کے وقت جب موسم نسبتاً بہتر ہو جائے تو کراس وینٹیلیشن کے لیے کھڑکیاں کھول دیں۔
اگر ممکن ہو تو پنکھے کے سامنے پانی سے نم کپڑا رکھنے سے بھی کمرے میں ٹھنڈک کا احساس بڑھ سکتا ہے۔
دن کے گرم ترین اوقات میں احتیاط
صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک گرمی اور دھوپ کی شدت عموماً سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس دوران غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔
اگر باہر جانا ضروری ہو تو سر کو ٹوپی، چھتری یا ہلکے کپڑے سے ڈھانپیں۔ ساتھ پانی کی بوتل رکھیں اور وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔
سادہ یا نیم ٹھنڈے پانی سے نہانا بھی جسم کو راحت دیتا ہے اور گرمی کا اثر کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
ہیٹ اسٹروک کی علامات کو نظر انداز نہ کریں
شدید سر درد، چکر آنا، بے حد کمزوری، متلی، تیز بخار، الجھن یا بے ہوشی ہیٹ اسٹروک کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرہ شخص کو فوراً ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، پانی پلائیں اور ضرورت پڑنے پر طبی امداد حاصل کریں۔
نتیجہ
لاہور کا 44 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت یقیناً ایک کڑا امتحان ہے، لیکن مناسب احتیاط، پانی کا زیادہ استعمال، قدرتی مشروبات، ہلکی غذا اور دھوپ سے بچاؤ کے ذریعے اس گرمی کے اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی صحت کا خیال رکھیں، خصوصاً بچوں اور بزرگوں کو گرمی سے محفوظ رکھنے پر خصوصی توجہ دیں۔
آپ اس شدید گرمی سے بچنے کے لیے کون سا دیسی نسخہ یا طریقہ استعمال کرتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔