362

پوری دنیا میں سکول کھلے مگر پاکستان میں بند کیوں؟

تحریر شئیر کریں

تعلیمی اداروں کی بندش سے طلباء پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔مگر اس طرف کوئی بھی دھیان نہیں دے رہا. چھوٹے بچوں کو ماسک پہنایا جا رہا جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پانچ سال کے بچے کو ماسک کی بھی ضرورت نہیں ہے۔مگر ہمارے ہاں پھر بھی پہنایا جا رہا ہے۔

جہاں تک تعلیمی ادارے بند کرنے کی بات ہے تو اس سے

بچوں کے مستقبل پر بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔یہ سچ ہے کہ ان لائن طریقوں سے بچوں کو پڑھایا جا رہا ہے۔مگر بچے فوکس نہیں ہو پارہے۔گھروں میں اسطرح سے چیک نہیں ہوتا جس کی وجہ ہوم ورک کسی اورسے کروا رہے ہوتے۔ٹیسٹ تک میں نقل چل رہی ہوتی۔یہ سب ہمارے گھروں میں ہو رہا۔اوپر سے بڑی کلاس کے طلباء کا سڑکوں پہ آکر خوشی کا اظہار کرنا۔یعنی انکو ادراک ہی نہیں ہے کہ اس میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔جبکہ اقوام متحدہ نے لاک ڈاون میں سکولوں کو استثناء قرار دیا ہت۔پھر یہ کون لوگ ہیں جو سکول بند کر وارہے؟
امریکہ میں کرونا کیسز پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں مگر تعلمی ادارے کھلے ہیں۔فن لینڈ کا تعلیمی نظام دنیا کا بہترین مانا جاتا ہے۔اور ہے بھی۔اس کاانداز اس بات سے لگا لیجے کہ لاک ڈوان کے دوران ایک دن بھی سکول بند نہیں ہوا۔جب آپ ایس او پیز پی زور دے رہے تو پھر سکولوں کی

بندش کس لیے؟

یہ بھی پڑھیے ہوم سکولنگ اور کچھ مشورے


جہاں تک جاپان کے سکولوں کی بات ہے تو انھوں نے بھی کلاس روم سٹرکچر تبدیل کروا کر تعلیمی عمل کو جاری رکھا ہے۔اندازہ لگائیے ۔یہی حال دیگر ترقی یافتہ ممالک کا بھی ہے۔جب پارکس ہوٹل جلسے جلوس اور مارکیٹس کھلی ہیں تو کیا وائرس صرف سکولوں میں آتا ہے؟جب تین سو کے اجتماع پر پابندی نہیں تو تیس چالیس بچوں کی کلاس پر پابندی کیوں۔آخری آپشن پہ سکول بند ہوتے ہیں ہمارے ہاں پہلے آپشن پہ بند کیے جا رہے ہیں۔جب اعدادو شمار سے وزیر تعلیم نے تعلیمی ادارے کھلے رہنے کی تجویز پیش کی تھی تو پھر کس کے ایماء پر بند ہوۓ؟
ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کا مستقبل تعلیم سے جڑا ہے ۔پاکستان میں تعلیمی عمل کی بندش لاکھوں کروڑوں بچوں کے مستقبل پہ سوالیہ نشان ہے جس کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں