پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلم مفکرین کی نظر میں
نبی کریم کی ذات گرامی وہ ذات مبارک ہیں جن کی مدح وتحسین کال اپنوں نے تو کی ہی ہے مگر غیر بھی اس سے مستثنی نہیں۔ذیل میں ان غیر مسلم مفکرین کا خراج تحسین پیش کیا جاۓ گا جو انہوں نے ہادی عالمﷺ کی ذات مبارک کے حوالے سے کیا۔
پاویلو کوویلو کا نام برازیلی ادب کا جانا پہچانا نام ہے۔الکیمسٹ ان کا شہرہ آفاق ناول ہے جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ان کا کہنا ہے “میں ہمیشہ ماگومیت یعنی محمدﷺ کے دیے گۓ قانون کے مطابق جینا چاہتا تھا،مجھے بہت ارمان تھا کہ مکہ دیکھوں ، میں نے بارہا سوچا کہ عرب کے صحراوں میں جاؤں انھیں عبور کروں اور حجر اسود تک پہنچوں اور جہاں طواف کیے جاتے ہیں۔ “
مورخ ایڈورڈ گبن
انگریز مورخین کی لسٹ میں ایک بڑا نام ایڈورڈ گبن کا بھی ہے۔انھوں نے اسلام قرآن اور محمد عربی ﷺ کے حوالے سے جو الفاظ کہے وہ سنہری حروف کی صورت تا قیامت جگمگاتے رہیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد عربیﷺ کا مذہب وہ مذہب ہے جس کی طویل سرگرمیاں ہماری توجہ کا مرکز بن کر علم و ریسرچ کا موضوع بنیں ۔بلاشبہ قرآن نے ایشیاء سے لے کر افریقہ کے میدانوں تک ہر قوم کو راستہ دکھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔میں دل و جان سے اقرار کرتا ی2ں کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں۔
مہاتما گاندھی
“میں اس معاملے میں یقین کی حدوں سے بھی گزر جانا چاہتا ہوں کہ اسلام تلوار کے زور پہ نہیں پھیلا۔بلکہ اس کے اندر کی پاکیزگی اور سچائی کی بدولت پھیلا۔اس کے اندر قربانی دینے کا جذبہ اتنا اعلی و ارفع ہے کہ اس نے اسے چاردانگ عالم میں ہھیلا دیا۔پیغمبراسلام ﷺ نے نہایت جدوجہد اور انمٹ کاوشوں سے اس فریضے کو انجام دیا ۔انھیں کمال کے دوست اور جان نثار امتی ملے جنہوں نے اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
ماہر عربیات رچرڈ بیل
یورپ اپنے زوال کی دہلیز پہ کھڑا ہے۔اس کی چکا چوند اور روشنیوں کے پیچھے شدید ترین ذہنی دباو اور خودکشیوں کا لامتناہی سلسلہ ہے۔پیار محبت سب نام کی رسمیں ہیں۔خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔حکومتوں سے لے کر دانشور طبقے تک سب ان ناسور کو حل کرنے سے قاصر ہیں جنہوں نے سوسائٹی کو تباہی کے دہانے پہ لا کھڑا کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں یورپ کے پاس ایک ہی واحد راستہ
ہے جو اسے نجات دے سکتا ہے وہ ہے اسلام کا راستہ۔اس کے علاوہ کوئی آپشن ہے ہی نہیں۔
روسی مصنف پیوتر چاردائیو
پیوتر نبی کریمﷺ کی غریب پروری مسیحائی سے بہت متاثر ہوا۔وہ لکھتا ہے” کہ محمدﷺ ان مدبرین سے بارہا بہترین ہیں جنہوں نے دلوں میں اترے بغیر ان کے دکھ درد اور مسائل جانے بغیر انھیں تقسیم کر دیا۔اور انھیں کبھی نا ختم ہونے والی تکلیف میں مبتلا کر دیا۔
تھامس کارلائل
تھامس کارلائل سے کون واقف نہیں۔انھوں نے اسلام اور محمد عربیﷺ کے بارے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہتے ہیں کہ کیا آپ نے کوئی ایسا شخص دیکھا جو دروگو بھی ہو اور اس نے حیران کن مذہب بھی تخلیق کیا ہو ؟جس نے تاحیات اپنے لیے چونے کا گھر تعمیر نہیں کیا۔وہ بارہ صدیوں تک موجود رہے۔جس میں کروڑوں انسان بھی بستے ہوں۔بظاہر تو ایسے انسان کا وجود باقی نہیں رہنا چاہیے تھا۔
وولف گینگ گوئٹے
ان کا کہنا ہے آپ ﷺ ایک شاعر نہیں بلکہ پیغمبر ہیں اور وہ ایسی کتاب لاۓ جو ربانی قوانین پر مشتمل ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلم مفکرین کی نظر میں