2ناول: جب قرآن جلائے گئے 212

 2ناول: جب قرآن جلائے گئے

تحریر شئیر کریں

قسط نمبر: 02

تحریر: روبینہ شاہین

  2ناول: جب قرآن جلائے گئے

اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نے ونسٹن کی لیب کے شفاف شیشوں کو چھوا، تو وہ وہیں کرسی پر نیم دراز تھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی—یہ سرخی صرف نیند کی کمی کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اس اضطراب کی تھی جو اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔ اس نے رات بھر انسانی وجود کے تضادات کو کاغذ پر اتارا تھا۔ اس نے نوٹ بک پر لکھا:
“انسان اپنی پوری زندگی صرف اپنی بقا کی مشینری (جسم) کو ٹھیک رکھنے میں گزار دیتا ہے۔ ہم وقت کے قیدی ہیں۔ اگر ہم یہاں کے اصل باسی ہوتے، تو ہم اس زمین کے نظام کے محتاج نہ ہوتے۔ ہماری روح اس ‘وقت’ سے بڑی ہے جو ہمیں یہاں میسر ہے۔”

ونسٹن کو محسوس ہو رہا تھا کہ انسان کا “حیاتیاتی کلاک” اس زمین کی گردش سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ وہ جتنا وقت بچانے کی کوشش کرتا ہے، وقت اتنی ہی تیزی سے اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل جاتا ہے۔
اسی دوران کیتھی لیب میں داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور ہاتھ میں پکڑے ٹیبلٹ کی نیلی روشنی اس کی پریشانی کو واضح کر رہی تھی۔
“سر! آپ نے خبریں دیکھیں؟ باہر حالات بہت کشیدہ ہو چکے ہیں۔” اس نے ٹیبلٹ ونسٹن کے سامنے کر دیا۔
سکرین پر ایک جنونی ہجوم نظر آ رہا تھا جو اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ آزادیِ اظہار کے نام پر ایک ایسی مہم کا آغاز ہو چکا تھا جس کا مقصد کروڑوں انسانوں کی مقدس ترین کتاب کی توہین تھا۔ ونسٹن نے سکرین کی اس مصنوعی روشنی کی طرف دیکھا جو کیتھی کے چہرے کے تاثرات کو دھندلا رہی تھی۔
“کیتھی!” ونسٹن کی آواز میں ایک عجیب سی گہرائی تھی۔ “تمہیں نہیں لگتا کہ یہ سکرینیں انسان کو اس کے اپنے آپ سے دور کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہیں؟ باہر جو لوگ چیخ رہے ہیں، وہ سچائی کی تلاش میں نہیں ہیں، وہ صرف اس ڈیجیٹل ہیجان کا حصہ ہیں جو ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین چکا ہے۔ یہ سکرین مینجمنٹ نہیں، یہ ذہنوں کی قید ہے۔”
کیتھی خاموش رہی۔ وہ ونسٹن کے فلسفیانہ موڈ سے واقف تھی، مگر آج اس کی باتیں اسے ڈرا رہی تھیں۔
“سر، آپ کی ریسرچ اپنی جگہ، مگر یہ لوگ ‘قرآن’ جلانے کی بات کر رہے ہیں۔ شہر میں ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں۔”
ونسٹن نے ایک سرد آہ بھری اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ “کتابیں جلانے سے علم نہیں جلتا، کیتھی۔ مجھے تو ان پر ترس آ رہا ہے۔ وہ ایک ایسی کتاب کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس زمین کی نہیں بلکہ ‘اوپر’ سے آئی ہے۔ اگر میرا نظریہ درست ہے کہ انسان اس زمین کا نہیں ہے، تو پھر وہ کلام جو انسان کی رہنمائی کے لیے آیا ہے، وہ بھی تو اسی ‘اصل گھر’ کا پتہ دیتا ہوگا۔”
وہ تھوڑی دیر رکا، پھر مڑا۔ اس کی نظریں میز پر رکھی جینیاتی نقشوں کی فائلوں پر تھیں۔
“کیتھی، آج ہم ڈیٹا میں ایک نیا اضافہ کریں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ ‘وقت کا دباؤ’ انسانی اعصاب پر کیا اثر ڈالتا ہے اور کیوں انسان ہمیشہ کسی ایسی جگہ کی تلاش میں رہتا ہے جہاں وقت تھم جائے، جہاں بڑھاپا نہ ہو، جہاں زوال نہ ہو۔”
اسے معلوم نہیں تھا کہ جس “ابدی زندگی” کا سراغ وہ اپنی لیب میں ڈھونڈ رہا تھا، شہر کے دوسرے کونے میں جلائے جانے والے کلام کے اوراق اسی کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں