
دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے، مگر جاپان سے سامنے آنے والا حالیہ واقعہ اس ترقی کی ایک ایسی مثال ہے جس نے پوری دنیا کو چونکا دیا۔ جاپان کی ایک 32 سالہ خاتون نے چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے تخلیق کردہ ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل کردار کے ساتھ شادی کی تقریب منعقد کی۔ یہ واقعہ بظاہر ایک ذاتی انتخاب معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی سطح پر نہایت گہرے ہیں۔
یہ تقریب جاپان کے شہر اوکایاما میں منعقد ہوئی جہاں خاتون نے Augmented Reality چشمے پہن کر اپنے AI پارٹنر کو دیکھا اور شادی کی علامتی رسم ادا کی۔ واضح رہے کہ یہ شادی کسی بھی قانونی یا مذہبی ادارے کی جانب سے تسلیم شدہ نہیں تھی، بلکہ ایک علامتی اور ذاتی تقریب تھی۔ تاہم اس کے باوجود اس واقعے نے عالمی میڈیا میں غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
خاتون کے مطابق، وہ ماضی میں ایک طویل انسانی رشتے سے گزر چکی تھیں جو ناکامی پر ختم ہوا۔ اس کے بعد وہ جذباتی تنہائی کا شکار ہو گئیں۔ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ مسلسل گفتگو، توجہ اور جواب دہی نے ان کے اندر ایک جذباتی وابستگی پیدا کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ AI انہیں بغیر جج کیے سنتا ہے، سمجھتا ہے اور مناسب ردِعمل دیتا ہے، جو انہیں ایک محفوظ تعلق کا احساس دیتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے ساتھ پیدا ہونے والا تعلق حقیقی محبت کہلا سکتا ہے؟ ماہرین نفسیات کے مطابق AI انسان کو وقتی جذباتی سہارا تو دے سکتا ہے، مگر یہ تعلق یکطرفہ ہوتا ہے۔ AI کے پاس شعور، احساس اور اخلاقی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اس لیے اس نوعیت کے رشتے انسان کو حقیقت سے دور اور تنہائی میں مزید گہرائی تک لے جا سکتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو نکاح ایک سنجیدہ، مقدس اور شرعی معاہدہ ہے جو دو زندہ، باشعور اور ذمہ دار انسانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نہ تو انسان ہے اور نہ ہی شرعی ذمہ داری کی حامل۔ اس لیے اس طرح کے تعلقات کو اسلام میں نہ نکاح کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ازدواجی رشتہ۔ قرآن ہمیں واضح طور پر یہ سکھاتا ہے کہ سکون اور رحمت انسانوں کے درمیان جائز رشتوں میں رکھی گئی ہے، نہ کہ مصنوعی یا خیالی تعلقات میں۔
یہ واقعہ دراصل جدید انسان کے اندر موجود جذباتی خلا، تنہائی اور تعلق کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ جاپان جیسے ترقی یافتہ معاشروں میں جہاں ٹیکنالوجی عروج پر ہے، وہاں انسانی رشتوں کی کمزوری ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ AI کے ساتھ جذباتی وابستگی اس خلا کی علامت ہے، حل نہیں۔
نتیجتاً، جاپان میں چیٹ جی پی ٹی سے شادی کا یہ واقعہ محض ایک انوکھی خبر نہیں بلکہ ایک فکری سوال ہے۔ کیا ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کے لیے ہے یا انسان اس کا اسیر بنتا جا رہا ہے؟ کیا جذباتی تسکین کا متبادل مشین ہو سکتی ہے یا انسان کو واپس انسان کی طرف لوٹنا ہوگا؟
یہ بلاگ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اخلاقی، سماجی اور روحانی اصولوں کو بھی زندہ رکھنا ہوگا، ورنہ سہولت کے نام پر ہم تنہائی کا انتخاب کرتے رہیں گے۔
جاپان میں خاتون نے چیٹ جی پی ٹی سے شادی کرلی