افسانہ: نقشِ جاوداں
بارش کے قطرے آہستہ آہستہ کھڑکی کے شیشے پر ٹکرا رہے تھے۔ کمرے میں زرد بلب کی ہلکی روشنی دیواروں پر اداسی کی لکیر کھینچ رہی تھی۔ اماں جان کی سانسیں ہولے ہولے چل رہی تھیں۔ بستر پر لیٹی وہ کسی گہری سوچ میں تھیں، چہرے پر سکون اور تھکن کی ملی جلی کیفیت۔
صائمہ کمرے کے کونے میں پرانی کرسی پر بیٹھی، نظریں اماں کے چہرے پر جمائے بیٹھی تھی۔ اسے یاد آ رہا تھا کہ کبھی یہی اماں ہر رات اسے گود میں لے کر لوریاں سنایا کرتی تھیں۔
“چندا تارا توں وڈا میرا پتر…”
تب صائمہ کو یہ سب محض محبت بھرے جملے لگتے تھے۔ وہ سوچتی، محبت تو ہر ماں کرتی ہے، مگر اب جب اماں کی جھریوں سے بھرا چہرہ، بار بار صائمہ کو آواز دے رہا تھا، تب جیسے ہر بات کا مطلب بدل گیا تھا۔
“اماں… پانی لا دوں؟”
صائمہ کی آواز کمرے کی سنجیدگی میں جیسے چھن سے بجی۔
اماں نے دھیمی مسکراہٹ سے آنکھیں کھولیں۔
“نئیں بیٹا… بس تو بیٹھ، میرے کول…”
صائمہ کی پلکیں بھیگ گئیں۔
اب وہ ماں جو ساری عمر صائمہ کی تکلیف کو پڑھ لیتی تھی، اب خود تکلیف میں تھی۔
چند دن پہلے ڈاکٹر کی بات اس کے دل میں کیل کی طرح گڑی ہوئی تھی:
“آپ کی والدہ کے دل میں زخم بنتے ہیں، مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے جسم میں ایسے خلیے ہیں جو ہر بار دل کی مرمت کر دیتے ہیں۔ میڈیکل سائنس میں اسے فیٹل مٹرنل مائیکروچائمریزم کہتے ہیں۔ شاید یہ خلیے آپ کے ہی ہوں۔”
صائمہ کی سوچوں میں طوفان آ گیا۔
کیا واقعی…؟
کیا وہ ابھی تک اماں کے دل میں بستی ہے؟
کیا اس کی پرورش کرنے والی گود، آج بھی اسی کے خلیوں سے مضبوط ہو رہی ہے؟
وہ ماضی میں کھو گئی۔
اماں کی انگلی پکڑ کر چلنے کا پہلا دن…
بارش میں اماں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش…
اور اماں کا بھیگتی بارش میں ہنستے ہوئے کہنا:
“میری جان… تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گی۔”
وہ لمحے آنکھوں کے سامنے آکر ساون کی بوندوں کی طرح دل پر برسنے لگے۔
“بیٹا… ایک گل پچھنی سی۔”
اماں کی کمزور سی آواز ابھری۔
صائمہ جلدی سے ان کے قریب ہوئی۔
“جی اماں… بولیں۔”
“تو میرے دل وچ ہمیشہ رہی اے… اے رب دا وڈا کرم اے کہ تیری محبت میرے وجود دا حصہ بن گئی اے۔”
صائمہ نے اماں کا ہاتھ چوما۔
“اماں… میں تو آج بھی آپ کے دل میں رہتی ہوں… اور رہوں گی… آپ کو پتا ہے نا؟”
اماں نے بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا:
“پتا اے… رب کول جاواں گی… تے وی تیرے خلیے لے کے جاواں گی۔”
کمرے میں ایک سکوت چھا گیا…
بارش کی آواز، اماں کی سانسوں کے ساتھ دھیرے دھیرے مدھم پڑتی جا رہی تھی۔
فضا میں صائمہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو اور اماں کے لبوں کی مسکراہٹ رہ گئی تھی۔
نہ جانے کب… اماں کی سانسیں تھم گئیں…
لیکن صائمہ کو یوں لگا جیسے اماں کی محبت اس کے جسم میں تحلیل ہو گئی ہو…
جیسے ماں اپنی آخری سانس تک بھی اس کے خلیے اپنے دل میں لیے، اپنے رب کے حضور جا رہی ہو۔
زندگی میں کچھ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے، وہ روح اور جسم کی دیواروں میں سدا کے لیے رقم ہو جاتے ہیں…
اور ماں…
ماں وہ ہستی ہے جس کی محبت کا لمس مرنے کے بعد بھی ہماری رگوں میں دوڑتا رہتا ہے۔