جب رمضان اور مدرز ڈے ایک ساتھ دستک دیں
اس بار مئی کی دھوپ اور رمضان کی برکتوں کے بیچ ایک ایسا دن آیا ہے جو دو مٹیالی خوشبوؤں کو ایک کر رہا ہے؛ ایک افطار کے دسترخوان پر سجتی دعاؤں کی خوشبو اور دوسری ماں کے آنچل کی ٹھنڈک۔
عام طور پر ہم “مدرز ڈے” پر کیک کاٹتے ہیں یا تحفے دیتے ہیں، لیکن اس بار کا مدرز ڈے کچھ مختلف ہے۔ اس بار تحفہ پھولوں کا گلدستہ نہیں، بلکہ وہ ‘خاموش خدمت’ ہے جو ہم روزے کی حالت میں اپنی ماں کے لیے کر سکتے ہیں۔
سحری کی وہ جاگتی آنکھیں
ہم تو الارم بجنے پر کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں، لیکن کچن سے آنے والی ہلکی سی آہٹ بتا دیتی ہے کہ کوئی ہستی ہم سے پہلے جاگ چکی ہے۔ وہ ماں جو خود روزے سے ہے، لیکن اس کی فکر کا مرکز یہ ہے کہ “بچے سحری میں کیا کھائیں گے؟” اس کی محبت کی لغت میں ‘تھکن’ کا لفظ شاید درج ہی نہیں ہے۔ رمضان میں ماں کا پیار اس تپتی دوپہر میں ابرِ کرم کی طرح ہوتا ہے جو خود پیاسی رہ کر دوسروں کو سیراب کرتی ہے۔
افطار کی دعا اور ماں کا ہاتھ
کہتے ہیں افطار کے وقت کی دعا رد نہیں ہوتی۔ ذرا سوچئے، اس قبولیت کی گھڑی میں جب ہم اپنے لیے مغفرت مانگ رہے ہوتے ہیں، ہماری ماں کے ہاتھ ہمارے روشن مستقبل اور سلامتی کے لیے اٹھے ہوتے ہیں۔ اس بار مدرز ڈے پر ہمیں اسے کوئی مہنگا گفٹ دینے کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے مصلے کے پاس بیٹھ کر اسے یہ کہنا کافی ہے: “امی، آج میں نے آپ کی وجہ سے اللہ سے جنت مانگی ہے۔”
ایک انوکھا زاویہ: ‘خدمت کا روزہ’
آئیں اس بار مدرز ڈے کو صرف ایک “ٹرینڈ” نہ بنائیں بلکہ اسے ایک “عمل” بنائیں۔
جس ماں نے بچپن میں ہمارے لیے سحری بنائی، آج اسے کچن سے آرام دیں۔
جس ماں نے ہماری اسکرین ٹائمنگ اور پڑھائی کی فکر کی، آج اس کے پاس بیٹھ کر اسے اپنا وقت دیں۔
جو پیار وہ سال بھر بانٹتی ہے، اسے رمضان کے اس ایک دن میں سمیٹ کر اسے واپس لوٹا دیں۔
سچ تو یہ ہے: رمضان ہمیں خدا تک پہنچاتا ہے، اور ماں ہمیں اس رستے پر چلنا سکھاتی ہے۔ جب یہ دونوں مل جائیں، تو سمجھ لیں کہ آپ کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں۔
“اس رمضان، جنت کی تلاش دور کیوں کرنا؟ ایک جنت (رمضان) دروازے پر ہے اور دوسری جنت (ماں) گھر کے اندر۔ اس مدرز ڈے پر اپنی ‘جنت’ کی خدمت کر کے اللہ کو راضی کر لیں۔”