افسانچہ
لگتا آپ نے بلیچ تک نہیں کی۔اپنی نند کی بات سن کر وہ ہکا بکا رہ گئ تھی۔۔اتنی دیدہ دلیری سے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے۔وہ بھی تین دن کی بیاہی دلہن کو۔پھر وقت نےسکھایا کہ ہاں ایک ہی مخلوق اتنی دیدہ دلیری سے کچھ بھی کہہ سکتی ہے۔اس کا نام سسرال ہے۔
پھر تو جیسے روزانہ کا معمول بن گیا تھا۔کبھی کسی کام میں نقص تو کبھی کسی کام میں، اس کی ذات کے بخیے ادھیڑے جاتے۔وہ سادہ مزاج کی لڑکی تھی۔رنگ و کتابوں کی دنیا میں رہنے والی۔فیشن کی الف بے سے بے خبر ،لفظوں کے پیچھے بھاگتی کب بڑی ہوئی اسے خبر ہی نا ہوسکی۔
وہ روزانہ خود کو جوڑتی ۔۔۔اسی ادھیڑ بن میں تین سال بیت گۓ وہ ایک بیٹی کی ماں بھی بن گئ۔۔۔مگر اس کی سادگی کو اب بھی نشانہ بنایا جاتا تھا۔ان کو کون سمجھاتا کہ گندہ ہونے اور سادہ ہونے میں فرق ہے۔اگر وہ اوور میک اپ نہیں کرتی ،بھاری بھرکم جیولری اور چھچھورے کپڑے نہیں پہنتی تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ گندی ہے۔لفظ گندی اب اس کے لیے مخصوص ہوگیا تھا۔وہ چپ چاپ سنتی رہتی۔
کچھ انکشافات بھی عجیب ہوتے ہیں۔خوداحتسابی کی یہی خوبی کہ یہ خود سے روشناس کرواتی ہے۔آج شاید خودشناسی کا دن تھا۔اپنے حالات سے تنگ آکر وہ سوچتی کہ میں نے کہیں کسی کا دل تو نہیں دکھایا تھاجو ایسا سسرال ملا۔۔پھر جھماکا ہوا۔۔۔سر پہ سندھی ٹوپی ،پاؤں میؔ پرانی چپل اور چادر لپٹا وجود،جو شاید سردی کی وجہ سے وجود سے لپٹا تھا۔۔توبہ ہے اسے تو پہننے کی بھی تمیز نہیں۔۔اتنا بھی کیا سیدھا ہونا۔۔بھلا اسے پتہ نہیں کہ لڑکی والے اسے دیکھنے آ رہے ہیں تیار ہی ہوجاتا۔اس کے گھر سے ملی جلی آوازیں آ رہیں تھیں۔اس کا موڈ سخت آف ہوگیا تھا۔۔۔اور مگنی کے تیسرے ہی دن اس نے مگنی توڑ ڈالی تھی۔۔ وجہ لڑکے سیدھا سا تھا۔جدید دور کے تقاضوں سے نابلد۔۔آوازیں اب بھی آ رہیں تھیں مگر اب غصہ نہیں آرہا تھا۔۔۔ صدمہ تھا۔۔۔اسے سمجھ آیا تھا کہ مذاق اڑانے کی اذیت کہا ہوتی ہے۔پھر مالک المک کا قول سب قولوں سے سچا یاد آگیا۔”مجھے میری عزت کی قسم میں تب تک موت نہیں دوں گا جب تک وہ چیز اس پر لوٹا نا دوں جس کا مذاق اڑایا گیا تھا۔”ندامت ہی ندامت تھی ۔۔ اس کا سر شرم سے جھک گیا تھا۔