290

ذہن سازی

تحریر شئیر کریں

”ذہن سازی“
آرسی رٶف

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ٹرانس جینڈر ایکٹ کا جو بہت شور مچ رہا ہے یہ قصہ بھی ایک دم سے شروع نہیں ہوا۔
کوٸی بھی فصل اگانے سے پہلے زمین نرم کی جاتی ہے۔اس میں کھاد ڈالی جاتی ہے اور پھر موسم کی موافقت اور مناسبت سے اس میں وہ بیج بویا جاتا ہے جس کی فصل کاٹنا مقصود ہو۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے بیج بویا ہو اور ایک دم مکمل پودا نکل آۓ اور پھل دینے لگے۔ایک خاص مقصد کے تحت مسلمانوں کے اندر موجود ایسے لوگ جو خود کو لبرل کہتے ہیں۔وہ مسلمان کہلواتے ہوۓ بھی اسلام کے عین فطرت پر موجود قوانین کی نفی کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں۔


اس طبقے کے لوگ صرف نام نہاد مسلمان ہیں ورنہ وہ مذہب کی بیڑیوں سے آزاد ہو نا چاہتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری بات کا ٹرانس جینڈر والے قضیے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟


جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ اپنا من پسند پودا اگانے کے لیے اسی طرح کا بیج بویا جاتا ہے جیسا پھل درکار ہو۔
کچھ ایسا ہی حال اذہان کی نمو کابھی ہے۔حضرت انسان پہلے پہل ضروریات کی تشفّی کے لیے ایجادات کرتا تھا۔اب ضروریات پہلے ایجاد کی جاتی ہیں۔اور پھر ایسے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں کہ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے ہر فرد سر دھڑ کی بازی لگا دے۔نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ آساٸش سے زیادہ تعیّش کو ضرورت بنا کر ہماری رگوں تک میں اتار دیا گیا ہے۔


انسانی ضروریات کی بھول بھلیوں میں پھنسا انسان ابھی نکل نہیں پایا تھا کی اسے جنسی رحجانات کے اصول سکھاۓ جانے لگے۔ہمیں ہم جنس پرستی کی طرف کبھی ٹی وی ڈراموں اور کبھی مقبول تحریروں کے ذریعے مثبت سے منفی کی طرف سفر کے زریعے ماٸل اور قاٸل کیا جاتا ہے۔

برسوں پہلے پی ٹی وی سے ایک ڈرامہ ”جنجال پورہ“ نشر ہوا کرتا تھا۔جس میں ہیجڑوں کے ایک گروہ کے مساٸل اور معمولات کو پی ٹی وی پر پیش کیاگیا تھا۔اس طنز و مزاح سے بھر پور ڈرامے میں متوازن انداز میں اس دور کے مساٸل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گٸ تھی۔ہیجڑوں کو معاشرے میں خوشیاں بانٹتے کرداروں کے روپ میں پیش کیا گیا۔یعنی ہیجڑوں کو بطور ہیجڑہ ہی پیش کیا گیا نہ کہ بیگم نوازش علی بنا کر۔”بول“ مووی میں بھی ایسے ہی موضوع کو مثبت انداز میں اجاگر کیا گیا۔
لیکن رفتہ رفتہ ان میں قباحتیں شامل کی جانے لگیں۔آذادٸ راۓ سے میرا جسم میری مرضی کے سفر سے لے کر تبدیلٸ جنس تک کی داستانیں گھر گھر تک پہنچاٸی جانے لگیں۔کبھی یاسر شامی جنس تبدیل کرنے والے لڑکے لڑکیوں کا بے باک انٹرویو کرتا نظر آیا اور کبھی ذہنی انتشار کا شکار ڈاکٹر میرب قوم کا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔
یہ صرف پاکستانی معاشرے کا ہی المیہ نہیں۔دنیا کے تمام مسلم ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں۔اور ہر طرف لبرل طبقے کے ذریعے مسلمانوں کی پہلے ذہن سازی کی جاتی ہے اور پھر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قباحتوں کو اسلامی معاشرے کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔دکھتی رگیں تلاش کرکے مسلمانوں کو جذباتی کیا جاتا ہے اور اپنےمقاصد کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے۔
اس وقت تک اگر دیکھا جاۓ تو باوجود اختلافات کے ہمارا عاٸلی نظام بہترین ہے۔اسی کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ماں کی دعاٶں سے محروم اور باپ کی چھتری چھیننے کی کوششیں سر توڑ کی جا رہی ہیں۔
رومی اور تبریز کی محبت میں کتنے ہی لوگوں نے ناول ”چالیس چراغ عشق کے پڑھ ڈالا“ اس میں مصنفہ نے ان بزرگ ہستیوں کے مابین جس تعلق کو قابل قبول بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اگر اسے واشگاف بیان کیا جاۓ تو مسلمان شرم سے پانی پانی ہو جاٸیں۔اور لبرلز کا یہی طریقہ کار ہے میٹھی گولی دے کر بہت محبت اور پیار سے ہمارے ذہنوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے کا۔ یہ ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔غیر مسلم مسلمانوں کے لبرل طبقہ سے دوستیاں گانٹھ کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور ادھر مسلمان خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوۓ ہیں۔
لکھاری معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔تاکہ وہ مسلم مخالف قوانین کے خلاف شعور اجاگر کرسکیں۔ انگریزی ناول ”امیریکن طالبان“ میں لکھاری نے پشاور یونیورسٹی کے ہم جنس طلبا کے مابین جنسی تعلقات کو حقاٸق بنا کر پیش کیا ہے۔مسلمان قاری ایسا مواد پڑھ کر پہلے تو اچھنبے کا شکار ہوتا ہے کیونکہ اس کا ذہن ایسی خرافات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔لیکن پھر رفتہ رفتہ اسے قابل قبول سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔خوشونت سنگھ کا ناول” دہلی“ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ایک زنخہ کو مرکزی کردار بنا کر کیسے مذاق ہی مذاق میں مسلمان حکمرانوں کے خلاف زہر اگلا ہے۔محمود اور ایاز کے درمیان تعلقات کو کس رنگ میں پیش کیا ہے؟
اور ہم ”ایسا ہی ہوا ہو گا“ بنا تحقیق اس کا منہ توڑ جواب پیش کرنے کی بجاۓ اسے من وعن تسلیم کر لیتے ہیں۔گویا ایک وقت میں ناقابل قبول اور ناپسندیدہ باتیں اب دوسری نسل کے لیے قابل قبول ہو کر روایت بننا شروع ہوتی ہیں تو تیسری نسل اسے قانون کا درجہ دے دیتی ہے۔ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے کے مصداق پہلی نسل کا احتجاج دوسری نسل کے مخالفانہ رویے اور باغیانہ روش کو جنم دیتا ہے۔اور ان کی اسی نہج پر کوششوں کے نتیجے میں تیسری نسل میں وہ سب کچھ مروّجہ شکل اختیار کر لیتا ہے۔یہی صورت حال رہتی ہے ہر بیانیے کو عملی جامہ پہنانے تک۔پہلے مسٸلے کو پیدا کیا جاتا ہے۔اس پر جتنی شدت سے مخالفت ہوتی ہے اتنی ہی شدت کے ساتھ چند گنے چنے لوگ اس کو تسلیم کرنے کے لیے آ موجود ہوتے ہیں۔اور پھر یہ گنے چنے لوگ اذہان سازی میں جت جاتے ہیں۔لفظوں کےہیر پھیر،ذومعنی جملوں کے استعمال سے دستاویزات تیار کرکے قانون سازی کے مراحل سے گزار دی جاتی ہیں۔ بھولی عوام جو روزی روٹی کے چکر میں الجھی ہو اسے تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہو کیا رہا ہے؟اور جن کو آگاہی ہوتی ہے وہ بھی فقط لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں کہ آستین کے سانپ اپنا کام کر کے جا چکے ہوتے ہیں۔دوسری طرف غیر مسلم ہماری مقدس کتاب قرآن پاک، فرقان حمید تک میں کوٸی نہ کوٸی سقم ڈھونڈنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگاۓ بیٹھے ہیں۔اس کی حفاظت کا زمہ تو خود خدا نے اٹھا رکھا ہے ورنہ
ذہن سازوں کو تھما کر ڈوریاں ہم
سوچ بیٹھے واژگانی دان لی ہے
آرسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں