72

ساون آیا ہے

تحریر شئیر کریں

ساون آیا ہے

بارش کی پہلی بوند جب صحن کی خشک مٹی پر گری تو ایک مانوس سی خوشبو چاروں طرف پھیل گئی۔ آسمان پر گہرے بادل چھائے تھے اور دور کہیں کوئل کی آواز ساون کی آمد کا اعلان کر رہی تھی۔

عائشہ کھڑکی کے پاس کھڑی بارش کو دیکھ رہی تھی۔ بچپن سے اسے ساون بہت پسند تھا۔ کبھی وہ بھیگنے کی ضد کرتی، کبھی کاغذ کی کشتیاں بنا کر پانی میں بہاتی۔ مگر اس سال کچھ مختلف تھا۔ دل میں ایک خاموشی تھی، جیسے بارش کی ہر بوند کوئی پرانی یاد جگا رہی ہو۔

اس نے آہستہ سے صحن میں قدم رکھا۔ ٹھنڈی ہوا نے چہرے کو چھوا تو آنکھیں بے اختیار بند ہو گئیں۔ اسے اپنی دادی کی بات یاد آئی:

“بیٹا! بارش اللہ کی رحمت ہے، اس وقت دعا مانگو، شاید آسمان کے دروازے تمہارے لیے کھل جائیں۔”

عائشہ نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔ دنیا کی خواہشوں سے زیادہ اس نے دل کے سکون کی دعا مانگی۔

اتنے میں گلی کے کونے سے چند یتیم بچے بارش میں بھیگتے ہوئے ہنس رہے تھے۔ ان کے کپڑے پرانے تھے مگر چہروں پر خوشی نئی تھی۔ عائشہ گھر کے اندر گئی، امی سے اجازت لی اور ان بچوں کے لیے گرم پکوڑے اور چائے لے آئی۔

بچوں کی مسکراہٹ دیکھ کر اسے محسوس ہوا کہ اصل خوشی بارش میں بھیگنے سے نہیں، کسی کے چہرے پر خوشی بکھیرنے سے ملتی ہے۔

بارش تیز ہوتی گئی۔ درخت دھل گئے، فضا نکھر گئی اور دل بھی جیسے ہلکا ہو گیا۔

عائشہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا:

“یا اللہ! جیسے تو نے اس بارش سے زمین کو زندگی دی ہے، ویسے ہی ہمارے دلوں کو بھی ایمان، امید اور محبت سے زندہ کر دے۔”

ساون صرف موسم کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ یاد دلاتا تھا کہ خشک زمین کی طرح انسان کا دل بھی اللہ کی رحمت سے پھر سے ہرا بھرا ہو سکتا ہے۔

اختتام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں