قرآن کے آٹھویں پارے کے نکات ملاحظ کیجیے۔
Parah # 8
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi
اہم نكات پاره#8
موضوعات:*
1- اصل حاكميت ﷲ تعالیٰ كى ہے
2- اسلام اور كفر كى كشمكش اور اعمال کے مطابق جزا و سزا
3- انسانیت کے سفر كا آغاز ، لباس انسانيت كى نشانى
4- جنت اور دوزخ کے مناظر اور دنيا كى جھلک
5- كائنات اپنے رب كى مطيع ہے
6- قافلہ اہل ايمان اور انبیاء
ہر دور میں ہر نبى کے دشمن شياطين رہے ہیں جنوں میں سے بهى اور انسانوں میں سے بهى وه چاہتے ہیں کے انسان دھوکے كى طرف مائل ہو،انسان برائى سے راضى ہو جاۓ اور برائیاں کرنے لگے-
جو لوگ آخرت پر يقين نہیں رکھتے وه دھوکے كى طرف مائل ہوں راضى ہوں،برائیاں کریں-
ہدایت اور گمراہی کے ليے Motivational factors دل کے اندر ہوتے ہیں اس ليے دل كا علاج کرنے كى ضرورت ہے-
ﷲ تعالیٰ كى كتاب دلوں کے امراض كى شفا ہے
مرده اور زنده برابر نہیں
مرده انسان كون ہوتا ہے؟
مرده سے مراد ہے كافر جس كا دل حق سے غافل ہوتا ہے اور مرده كى طرح اسكو فائدہ بخش اور ضرر رساں چیزوں میں امتياز نہیں ہوتا-
حرام اشياء
مردار ، بہايا ہوا خون ، سور كا گوشت ، ہر وه چيز جس پر ﷲ کے سوا دوسروں كا نام ليا گيا ہو حرام ہیں
صراط المستقيم پر چلنے کے لیے ہدايات
ﷲ تعالیٰ کے ساتھ كسى كو شریک نہ كرو،والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،اپنى اولاد كو مفلسى کے ڈر سے قتل نہ كرو،بے حيائى خواه كهلى ہو يا چهپى اس کے قريب نہ جاؤ،كسى جان كو حق کے علاوه قتل نہ كرو،يتيم کے مال کے قريب نہ جاؤ،ناپ تول میں انصاف كرو،انصاف كى بات کرو خواه معاملہ رشتہ دارى كا ہى کیوں نہ ہو، ﷲ تعالیٰ کے عہد كو پورا كرو،ﷲ تعالیٰ کے بتاۓ ہوۓ سیدھے راستے پر چلو..
انسان اندھیروں سے کیسے نكل سكتا ہے؟
ايمان اور كفر كى حقيقت كو سمجھ كر،ہدایت اور گمراہی كى حقیقت جان كر،ايمان لا كر ﷲ تعالیٰ كى رسى كو مضبوطی سے تھام كر،ﷲ تعالیٰ کے كلام سے حقيقت كا علم حاصل كر کے،اپنى زندگى كو ﷲ تعالیٰ کے پروگرام “دين اسلام” کے مطابق ڈهال كر انسان كفر کے اندھیروں سے نكل سكتا ہے-
مجرموں كو ﷲ تعالیٰ کے ہاں ذلت كا عذاب كن جرائم كى وجہ سے ديا جاۓ گا؟
تكبر اور غرور كى وجہ سے کیونکہ اسى وجہ سے مجرم حق كا انكار کرتے ہیں،مجرم دين كى دعوت دینے والوں کے ليے سازشوں كت جال پھیلاتے ہیں،مجرم رسولوں سے دشمنى رکھتے ہیں اور مجرم ايمان والوں كو اذيت دیتے ہیں اس ليے انہیں ذلت كا عذاب ديا جاتا ہے-
جو دین کی بات نہیں ماننا چاہتا وہ فرشتے اترتے دیکھ کر یا مردوں کو بولتا سن کر بھی نہیں مانے گا۔
اکثریت کی پیروی کے بجائے حق کی پیروٰی میں نجات ہے۔ اکثریت تو بھٹکانے والی ہے۔
ہر طرح کے گناہ سے بچنا۔ گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔
جس کو ہدایت کی توفیق مل جائے اس کا سینہ کھل جاتا ھے۔ عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
درجات کا تعین عمل کے مطابق ہو گا۔ﷲ تعالیٰ ہر ایک کا عمل جانتا ہے۔ قیامت کے دن معلوم ہو جائے گا کون عمل میں آگے رہا۔
ایمان وعمل لازم وملزوم ھیں ایمان لا کر عمل کرنا ضروری ھے کیونکہ عمل ،ایمان میں داخل ہے۔
- جو دین میں اختلاف کرتے ھوئے فرقہ پرستی پر ابھاریں اور گروہوں میں بٹ جائیں ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں۔*
ﷲ تعالیٰ کے ہاں ایک نیکی کا اجر 10 گنا جبکہ ایک برائی کا بدلہ اسی کے مطابق ہے-
اعمال کے درجے میزان میں متعین ھونگے، بھاری پلڑے والے کامیاب جبکہ ہلکے پلڑے والے خسارے میں ہونگے۔
شیطان نے سجدے کا انکار تکبر کی وجہ سے کیا تو ﷲ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہے۔
لباس، زینت اور ستر پوشی کا ذریعہ ھے ۔جس مقصد کے لئے ﷲ تعالیٰ نے بنانے اور پہننے کا حکم دیا اس کو پورا کرنا ہے۔
کھاؤ، پیئو، پہنو مگر اسراف نہیں کرنا کہ یہ ﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں۔
ﷲ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے اور تکبر کرنے والے کے لئے جنت میں داخلہ محال ہے۔ اس کا اوڑھنا بچھونا جہنم ہوگی۔
جنت کی خوبصورتی یہ ھے کی اہل جنت کے دلوں سے کینہ کدورت نکال کر جنت میں بھیجا جائےگا
- انکساری و خاموشی۔خوف و امید کے ساتھ رب کو پکارنا دعا کے آداب میں سے ہے۔*
- تمام انبیاء نے ایک ﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور غلط کام چھوڑ دینے کی طرف دعوت دی-*
- مقصد زندگى:*
1- ﷲ كى ہدايت پانے كى كوشش كرنا ، اسلام کے مطابق زندگى گزارنا
2- آخرت کے دن ملاقات كا خوف ركهنا ، ﷲ كا حق ادا كرنا
3- حلال و حرام كى پابندى كرنا ، ﷲ کے لئے خالص ہونا
4- گناہوں پر توبہ كرنا ، تقوى اور علم حاصل كرنا
5- ديانت دارى اور خير خواہى سے رب کے پيغامات پہنچانا
ہم كيا کریں؟*
1- ﷲ تعالیٰ كا شكر ادا كرنا ہے کے اس نے ميرى ہدایت کے ليے قرآن حكيم نازل كيا
2- رازوں كى حفاظت كرنى ہے ، اور كسى كا راز فاش نہیں كرنا
3- صدقہ ايسى نيت سے كرنا ہے كہ واقعى افضل ہو جاۓ ( ان شاء ﷲ )
قرآن کے آٹھویں پارے کے نکات پڑھنے کے بعد اس میں تدبر کیجیے کہ میرا اللہ مجھ سے کس چیز کا تقاضا کر رہا