قرآن کے نویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے۔
Parah # 9
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi
*📝 اہم نكات پاره#9
*موضوعات:*
1- قافلہ دعوت حق
2- مكافات عمل كا قانون الہى_
3- حضرت موسی علیہ السلام کے خلاف فرعون كى محاذ آرائى
4- كفر كى پارليمنٹ كا فیصلہ اور اثرات
5- جب تخت گراۓ جاتے ہیں
6- انوكهى ملاقات ، اور بلندی سے پستى تک كا سفر
7- ﷲ تعالیٰ كا فیصلہ ، آخرى نبى صلی الله علیہ وسلم اور قوم موسى کے حالات
- ناپ تول میں کمی کرنا، شعیب علیہ السلام کی نصیحت کا کوئی اثر نہ لینا نتیجہ زلزلے نے انہیں آ لیا۔*
- بڑے عذاب سے قبل تنگی اور خوشحالی کے ذریعے امتحان لیا جاتا ہے تا کہ ﷲ تعالیٰ کے آگے عاجزی اختیار کی جائے۔*
- حالت امن ایک امتحان ہے۔ امن میں ہوتے ہوئے ﷲ تعالیٰ کو بھول جانا استدراج ہے۔ جس کی پکڑ سخت ہے۔*
- معجزات موسیٰ یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا سفید چمکتا ہوا نکلنا حق کی دلیل کے طور پر دئیے گئے۔*
- فرعون کے جادوگروں نے حق کو پہچان کر فورا قبول کر لیا اور اس پر جم گئے۔*
- ال فرعون کی آزمائشیں مثلا قحط، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون کا بھیجنا۔ عذاب ٹالنے کے لیے ہر دفعہ ایمان لانے کا وعدہ کرنا مگر عذاب ٹلتے ہی پھر خلاف ورزی کرنا۔*
- بت پرستی کی نفسیات یہ ہے کہ بتوں کے گرد موجود زیب وزینت سے متاثر ھو کر انسان ان کی پرستش کرنے لگتا ہے برخلاف اس کے ﷲ تعالیٰ کی ہستی نگاہ سے اوجھل ہے اور کوئی ظاہری کشش نہیں اس لیے اس کی عبادت پر یکسو ہونا مشکل لگتا ہے۔*
- حق سے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا تکبر کہلاتا ہے۔ رائی کے دانے کے برابر تکبر کرنے والا شخص جنت میں نہ جا سکے گا۔*
- ﷲ تعالیٰ کی وسیع رحمت متقی، زکواۃ دینے والوں اور آیات پر ایمان لانے والوں کے لئے ہے۔*
- کامیابی کا راز نبی امی کا مقام پہچاننے ،ان کی تائید کرنے اور ان پر نازل کر دہ کتاب کی پیروی کرنے میں ہے۔*
- حالات کچھ بھی ہوں ﷲ تعالیٰ کی کتاب کو نہیں چھوڑنا۔ کیونکہ نجات اسی میں ہے۔*
- سب روحوں سے ﷲ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار لیا گیا تا کہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو علم ہی نہ تھا-*
- دین کا علم آنے کے بعد دین چھوڑ کر دنیا کی طرف لپک پڑنا کتے کی طرح کا لالچ ہے۔*
- دل ۔کان ۔آنکھ سے حق کو نہ سمجھنے اور قبول نہ کرنے والوں کی اکثریت جہنم میں ہو گی۔*
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کا علم نہیں تھا۔ اگر علم ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچ سکتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بروقت پیش بندی کر لیتے۔*
- ﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں پکارنا کیونکہ باقی سب ﷲ تعالیٰ کے بندے ہیں اور کچھ قدرت نہیں رکھتے۔*
- درگزر کے ساتھ بھلائی کا حکم دینا اور جاہلوں سے الجھنے کے بجائے اعراض کرنا چاہیے۔*
قرآن پڑھا جا رہا ہو تو خاموش رہنا اور غور سے سننا آداب قران میں سے ہے۔
- تعلقات کی اصلاح دنیا بھر کے مال و متاع سے بہتر ہے اس لئے مال کی خاطر لڑنے سے بچنا۔*
مومن وہ ہیں جن کے دل ذکر الہٰی سے ہل جائیں، ایمان بڑھ جائے۔ نماز قائم کریں، ﷲ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں۔
- متقی بننے کا فائدہ یہ ہو گا کہ دل میں میزان حاصل ہو گی اور گناہ معاف ہونگے ۔*
- ﷲ تعالیٰ ہی سچا دوست ہے۔ نعم المولیٰ ونعم النصیر۔*
- مقصد زندگى:*
1- خير خواہى سے رب کے پيغامات پہنچانا، ﷲ تعالیٰ كا تقوى اختيار كرنا
2- گزشتہ قوموں کے حالات سے سبق لينا ، وفات تک اسلام پر قائم رہنا
3- نصيحت حاصل كرنا ، ﷲ كا كلام مضبوطى سے پكڑنا
4- ﷲ سے استغفار كرنا ، وحى كى پيروى كرنا
5- حق کے ساتھ راہنمائى كرنا، ڈراوے دينا اور خوشخبرياں سنانا - ہم كيا کریں؟*
1- آج عہد كرنا ہے كہ میں نے اپنے آپ كو قرآن سے دور كر کے ويران گھر كبهى نہیں بننے دينا
2- اپنى چال میں عاجزى پيدا كرنى ہے ، چہرے سے بهى عاجزى كا اظہار كرنا ہے اور دل میں بهى جھکاؤ پيدا كرنا ہے ( ان شاء الله)
قرآن کے نویں پارے کے اہم نکات آپ نے دیکھے۔اب ان نکات کو اپنے عمل کا حصہ بنا کر آخرت کمانی ہے۔
قرآن کے نویں پارے کے اہم نکات