لاہور میں سموگ اورکروڑوں لوگوں کی زندگی متاثر
گزشتہ دنوں سے لاہور میں بڑھتے سموگ کی وجہ سے زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔ اوراس مسلے کا حل دور دور تک نظر نہیں آتا۔ گزشتہ مہینے سے فضا میں آلودگی کی وجہ سے لاہور کا کوائلٹی اینڈیکس کی سطح پانچ سو تک تین بار پہنچ چکی ہے جو خطرے سے خالی نہیں۔
سموگ کیا ہے؟
سموگ دراصل فضا میں پھیلی آلودگی جن میں نائٹروجن ایسیڈ اور زہریلی گیسیں جب سردی سے ہونے والی دھند یعنی فوگ سے ملتی ہے تو سموگ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہ وہ فضائی آلودگی ہے جو پورا سال فضامیں رہتی ہے مگر سردی میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث دھند کے ساتھ مکس ہوجاتی ہے۔
یہ کیمیکل کے ذرات ہوتے ہیں جو انسانی جسم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سموگ میں سانس لینا بھی دشوار ہوتا ہے۔ یہ کیمکل کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو عام آنکھوں سے نظر نہیں آتے اور سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتے ہیں۔
سموگ سے ہونے والی بیماریاں:
سموگ میں موجود مٹی اور کیمیکل کے ذرات جب انسان کے اندر جاتے ہیں تو فوری طور پر جو بیماریاں جنم لیتی ہیں ان میں کھانسی ، نزلہ ، زکام ، سانس لینے میں دشواری ، آنکھوں میں جلن اور خارش جیسی بیماریاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اس کے علاوہ یہ اگر پھیپڑوں میں چلے جائیں تو کچھ بیماریاں جن کے اثرات بعد میں ہوتے ہیں۔ اور اس سے پھیپڑوں کا خراب ہونا اور پھیپڑوں کے کینسر ہونے کے چانسس بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی بیماری بھی ہوسکتی ہے جو مضر صحت ہیں۔ اور ذندگی کو ختم کرسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے سبب لاہور کے لوگوں کی زندگی نو ماہ کم ہورہی ہے۔ جو خطرے کے باعث ہے۔ اس طرح حالات رہے تو بیماریاں مزید بڑھنے کے امکان ہیں۔
لاہور شہر اور ماحولیاتی آلودگی:
حالیہ ڈیٹا کے مطابق لاہور شہر ماحولیاتی آلودگی میں پہلے نمبر پر ہے۔ اور یہ تین بار پہلے نمبر پر آچکا ہے جو کافی پریشان کن بات ہے۔ لاہور میں بڑھنے والی آلودگی کا سبب شہر کا ٹریفک جس میں گاڑیوں سے نکلتے دھوئیں فضا کو آلودہ بناتی ہیں ۔
اور سردی میں یہ سموگ کی شکل میں لاہور کے شہری کو مشکلات میں ڈال رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں اوربڑوں کو اس سموگ کے موسم میں گھر پر رہنا چاہے۔ لاہور میں سموگ کی یہ صورتحال رہی تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
لاہور میں سموگ اورکروڑوں لوگوں کی زندگی متاثر