معروف رائٹر نسیم حجازی
نسیم حجازی کون تھے؟
نسیم حجازی بیسویں صدی کے مشہور مصنف ناول نگاروں ، ادیبوں اور صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا اصل نام شریف چوہدری تھا مگر آپ اپنے قلمی نام نسیم حجازی سے ہی مشہور ہوئے دنیا ان کو ان ہی ناموں سے جانتی ہے۔ نسیم حجازی مشرقی پاکستان بنگال میں پیداہوئے اور ہندوستان کے ہجر کے وقت آپ کا خاندان پاکستان ہجرت ہو کر آیا جس کے گہرے زخم آپ کے دل پرتھے ۔ نسیم حجازی نے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے اسلامیہ کالج سے ایم اے کیا۔ کالج کے زمانے سے نسیم حجازی لکھنا شروع ہوگئے تھے۔
ان کا پہلا افسانہ ماہنامہ حقائق اسلام میں شائع ہوا پھر آپ کا افسانہ جستجو بھی منطر عام پر آیا اس طرح مختلب رسائل میں آپ کی تحریر شائع ہوتی رہی۔ آپ کے افسانوں میں ہندو کے معاشرے میں ذات پات کا ذکر ہوتا تعلیم سے فراغت کے بعد آپ صحافت میں آگئے جہاں بہت سے کالمز لکھے اور کراچی کے دو راخبارات کے مدیر رہے پھر بہت سے اخباروں کے مدیر کے فرائض انجام دینے کے بعد آپ نے اپنا چوہدری عنایت کے ساتھ اپنا اخبار کو ہستان جاری کیا۔
جو تیزی سے ترقی کی راہ میں گامزن تھا مگر ایک رپوٹر کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے آپ کو دو مہینے جیل ہوئی اور کوہستان کو بند کر دیا گیا۔ نسیم حجازی صحافت سے اس قدر بد دل ہوئے کہ صحافت چھوڑ دی۔ صحافت کو خیر آباد کہنے کے بعد آپ اپنے اصل صنف ناول نگاری کی طرف آئے۔ ناول نگاری پر اپنے قدم جمائے اور اس صنف میں کامیابی حاصل کی۔
آپ کا پہلا ناول داستان مجاہد شائع ہوتے ہی مقبول ہونا شروع ہوگیا۔ آپ مسلمانوں کے تاریخ اورزوال اور عروج کی داستان پر مبنی ناول لکھتے تھے۔ ان کے ناول کو پڑھنے والا اس دور میں خود کو محسوس کرتا ہے۔
مشہور ناول
آپ کے مشہور ناول میں قیصر و کسریٰ ، اندھیری رات کے مسافر ، قافلہ حجاز اور کلیسا اور آگ شامل ہے جس نے قارئین سے داد وصول کی اور ان کا شمار مقبول کتابوں میں ہوتا ہے۔ نسیم حجازی کو پرائڈ آف پرفارمانس کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ان کے ناقدین بھی ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ نسیم حجازی کے ناولز پڑھ کر اگر یہ کہا جائے جو شعور اقبال کی شاعری میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے اجاگر کیا گیا تھا وہی ان کے ناولوں میں نظر آتا ہے۔
ہمیں تاریخ پر مبنی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے تا کہ ایسے لوگ ہمیں یاد رہیں۔ معروف رائٹر نسیم حجازی نے اپنے ناولوں کے زریعے تاریخ کو نوجوان نسل تک پہنچایا یہ وہ کارنامہ ہے جس کی وجہ سے وہ آج تاریخ میں۔زندہ ہیں۔