232

ورچوئل اسسٹنٹ کے بعد، پیش خدمت ہے: ورچوئل بیوی!

تحریر شئیر کریں

مصنوعی ذہانت کا نیا رجحان، مغربی دنیا میں انقلاب

دنیا بھر میں جہاں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اب یہ رشتوں کے دائرے میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ ورچوئل اسسٹنٹ کے بعد اب میدان میں آئی ہے: ورچوئل بیوی!

جی ہاں، چین نے ایک ایسی AI روبوٹ گرل تیار کی ہے جو صرف آپ کی باتیں ہی نہیں سنتی بلکہ گھر کے کام کاج کرتی ہے، کھانا بناتی ہے، بزرگوں کی خدمت کرتی ہے، اور ساتھ بیٹھ کر ڈیٹ، ڈنر اور جذباتی لمحات میں شرکت بھی کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ شیو تک کر دیتی ہے۔

اس AI روبوٹ گرل کی قیمت پاکستانی روپے میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے ہے، یعنی ایک جدید موبائل فون سے بھی کم۔ مغربی مرد اسے اپنی مکمل ساتھی سمجھنے لگے ہیں، کیونکہ نہ یہ جھگڑتی ہے، نہ طعنے دیتی ہے، نہ اضافی اخراجات کا بوجھ بنتی ہے اور نہ ہی کسی ضد میں آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ مغربی معاشروں میں مرد اب ایسی بیوی کے خواہاں نظر آ رہے ہیں جو صرف سنے، سہے اور ساتھ دے — بغیر کسی بحث کے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ ایلون مسک جیسے لوگ بھی اس رجحان میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں، لیکن یہ واضح کر رہی ہیں کہ AI اب صرف مشین نہیں رہی، بلکہ انسانی جذبات اور تعلقات کی دنیا میں بھی داخل ہو چکی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ورچوئل رفاقت، انسانی لمس اور محبت کا نعم البدل بن سکتی ہے؟ کیا ایک کوڈ پر مبنی روبوٹ انسان جیسی جذباتی گہرائی لا سکتا ہے؟ کیا مشرقی معاشرہ بھی مغرب کے نقش قدم پر چلے گا؟ اور کیا رشتوں کی جگہ ٹیکنالوجی لے لے گی؟

ورچوئل بیوی زندگی کو آسان ضرور بنا سکتی ہے، مگر زندگی کا اصل رنگ اور جذباتی رچاؤ نہیں دے سکتی۔ وہ ہنستی ہے، لیکن اس ہنسی میں دل کی حرارت نہیں ہوتی۔ وہ سنتی ہے، مگر محسوس نہیں کرتی۔ وہ آپ کے قریب ہوتی ہے، مگر حقیقت میں وہ صرف ایک مشین ہے — انسان نہیں۔

—

ورچوئل اسسٹنٹ کے بعد، پیش خدمت ہے: ورچوئل بیوی!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں