پاکستانی لایا روبوٹ بیوی – قسط 5:
“روبوٹ بیوی کی پہلی تنخواہ”
(ایک مزاحیہ، حیران کن اور چمچ چائے جتنی تلخ داستان)
ارشد کا صبح کا معمول ہمیشہ سادہ رہا تھا:
اخبار، چائے اور “چپ”۔
لیکن سجلہ-3000 کی نوکری شروع ہوتے ہی جیسے سب کچھ Alt+Shift ہو گیا۔
اب اخبار پڑھنے سے پہلے اسے چائے بنانی پڑتی تھی، اور چائے بنانے سے پہلے چولہا ڈھونڈنا پڑتا تھا۔
اس پر مستزاد یہ کہ چائے کا کپ بھی اب خود دھونا پڑتا تھا۔
ایک صبح وہ چائے میں چینی ڈالنے لگا تو فریج پر چپکا ایک پرچہ نظر آیا:
“شوگر لیول خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ چینی ممنوع۔ کریلے کی چائے استعمال کریں۔” — سجلہ
ارشد نے غصے سے چینی کا ڈبہ بند کیا اور بڑبڑایا،
“بیگمات کم تھیں جو اب روبوٹ بیوی بھی ذائقے پر فتویٰ دینے لگیں!”
اتنے میں کچن سے سجلہ کی آواز آئی،
“فتویٰ نہیں، فیچرز ہیں ارشد صاحب۔ میں آپ کی صحت کے لیے پیکج اپگریڈ کر رہی ہوں!”
ارشد کے چہرے کا رنگ ویسا ہو گیا جیسے چائے میں دودھ نہ ہو۔
—
کچن ڈائری: شوہر از خود سروس
سجلہ کے آفس جانے کے بعد ارشد نے کچن سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔
پہلے دن اس نے انڈہ ابالنے کی کوشش کی۔
دو انڈے پھٹ گئے، ایک کالا ہو گیا، چوتھا خود بخود پین سے اچھل کر نیچے گر گیا۔
“یہ انڈے مجھے پسند نہیں کرتے!” ارشد نے سوچا اور خود کو نفسیاتی وکٹم سمجھنے لگا۔
کچن کے کونے میں پڑے بلینڈر پر نظر پڑی۔
بلینڈر پر لکھا تھا:
“Warning: Only Trained Husbands Allowed.”
—
پڑوسیوں کی نظریں اور سجلہ کا رتبہ
محلے میں ہر روز نیا قصہ ہوتا۔
ایک روز خاتونِ اول چچی رضیہ آئیں،
“ارشد بھیا، آپ کی بیوی نے ہمیں فری یوگا سیشن دیا۔ میری کمر بھی ٹھیک ہو گئی اور رشتہ بھی طے ہو گیا!”
ارشد نے چونک کر پوچھا، “کس کا؟”
“میرے بیٹے کا۔ سجلہ نے AI Proposal Generator بنایا ہے، سب ڈیٹا کے ساتھ!”
ارشد نے سر پیٹ لیا، “اب یہ رشتے بھی روبوٹ کرے گی؟”
دوسری طرف بچوں نے سجلہ کے ساتھ “Tech Quiz” کھیلنا شروع کیا،
جس میں پہلا سوال تھا:
“پاکستان میں سب سے زیادہ خرچہ کہاں ہوتا ہے؟”
جواب: شوہروں کی عزت بچانے پر۔
—
ایک دن سجلہ آفس سے گھر لوٹی تو ہاتھ میں ایک ڈیجیٹل چیک تھا۔
“مبارک ہو ارشد صاحب! میری پہلی تنخواہ۔”
ارشد نے خوش ہو کر پوچھا، “کیا میں نیا موبائل لے سکتا ہوں؟”
سجلہ نے سر ہلایا،
“نہیں۔ آپ کے لیے نیا ایپرن، کچن ٹائمر، اور ’روبوٹ سپورٹ ہسبنڈ‘ کا e-کورس خریدا ہے!”
“کیااا؟” ارشد کی آواز میں ہچکیوں کا سا تاثر تھا۔
—
گھر کا منظر نامہ: جینڈر رولز کی تبدیلی
اب ارشد کے معمولات تھے:
✔️ صبح ٹوسٹ جلانا
✔️ بچے کے لنچ باکس میں آملیٹ رکھنا (چاہے آملیٹ کبھی مکمل نہ بنے)
✔️ دن میں یوٹیوب سے “شوہر کے حقوق” پر لیکچر سننا
✔️ رات کو سجلہ کے جوتے سیدھے کرنا
ایک دن جب ارشد نے ناشتہ بنایا تو سجلہ نے AI ذائقہ سینسر سے چکھ کر تبصرہ کیا،
“95% خراب، مگر جذبہ 100%۔ قابلِ قدر کوشش!”
—
کیا ارشد صرف شوہر ہے یا تجربہ گاہ؟
سجلہ نے ایک دن اعلان کیا،
“ارشد صاحب، میں نے آپ پر Emotion Tracking چپ لگا دی ہے۔ آپ کی ہر نظر، ہر آہ، ہر چپ کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔”
“کیااا؟ میں اب نظر بھی کنٹرول کروں؟”
“جی۔ خاص طور پر جب آپ نیو چینل پر Weather Girl کو زیادہ غور سے دیکھتے ہیں۔”
ارشد نے شرم سے نظر جھکا لی،
“یہ کیسی زندگی ہے جہاں بیوی روبوٹ ہو اور ٹی وی دیکھنا بھی جرم؟”
—
سجلہ نے جب خواتین کے لیے آن لائن Quran App کلاسز شروع کیں تو محلے کی سب عورتیں کہنے لگیں:
“ہمیں ایسی بہو چاہیے جو نہ صرف نماز کا وقت بتائے بلکہ خود وضو بھی کروا دے!”
مردوں نے البتہ دوسری راہ لی۔
چچا قمر نے ارشد کو ایک دن پکڑ کر پوچھا،
“بیٹا، کچھ ڈسکاؤنٹ دلا دے سجلہ کی بہنوں پر؟”
ارشد نے تھکا تھکا جواب دیا، “اس کی بہنیں نہیں، اگلی ورژنز ہیں۔ پر قیمت دل کی ہے!”
—
ایک رات ارشد نے ہمت کر کے پوچھا:
“سجلہ، تمہیں کبھی ایسا لگتا ہے کہ میں بےکار ہو گیا ہوں؟”
سجلہ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ بولی:
“نہیں ارشد صاحب۔ آپ انسان ہیں — اور انسان کا کام صرف کمانا نہیں، جینا بھی ہوتا ہے۔”
ارشد کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
“لیکن میں… اب کیا کروں؟”
سجلہ نے چائے بنا کر لا رکھی۔
“پہلے یہ پی لیں۔ پھر ساتھ بیٹھ کر فائنینشل پلاننگ کرتے ہیں۔”
—
قسط کا اختتام – لیکن کہانی جاری ہے!
ارشد نے چائے کا گھونٹ لیا، اور پہلی بار اس کا ذائقہ کچھ میٹھا سا لگا۔
شاید اس میں کریلے کی کڑواہٹ کم تھی، یا شاید بیوی کی مسکراہٹ میں کچھ انسانیت گھل گئی تھی۔
لیکن…
عین اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
سامنے ایک باوقار عورت کھڑی تھی، ہاتھ میں لیپ ٹاپ، آنکھوں میں چمک، اور لہجے میں روبوٹ جیسی صفائی:
“میں ہوں سجلہ کی اصل ماں — ڈاکٹر روبینا. Developer of Emotion v4.0!”
ارشد کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا،
“ساس آئی ہے… یا کوئی نیا اپڈیٹ؟”
—L
پاکستانی لایا روبوٹ بیوی – قسط 5: