مطالعہ صرف انسانی روح کی غذا ہی نہیں بلکہ ترقی اور بقا کا ضامن بھی ہے۔ جو قومیں کتاب سے جُڑی رہتی ہیں، وہی دنیا پر حکمرانی کرتی ہیں، اور جو قومیں کتابوں سے منہ موڑ لیں، وہ پستی اور زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو کتاب سے محروم کر دیا گیا۔ وہ امت جس پر پہلی وحی “اقْرَأْ” (پڑھ) نازل ہوئی، آج کتابوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟ اور اس کا حل کیا ہے؟
جب کتاب ہماری ساتھی تھی!
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کا کتابوں سے مضبوط رشتہ تھا، وہ دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔
اندلس (اسپین) کے علمی مراکز روشنی کے مینار تھے۔
بغداد کی بیت الحکمت میں دنیا بھر کے علوم پر تحقیق کی جاتی تھی۔
ابنِ سینا، ابن رشد، الخوارزمی، اور فارابی جیسے مسلمان سائنسدانوں نے ایسے کارنامے انجام دیے جو آج بھی جدید سائنس کی بنیاد ہیں۔
لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے کتاب کو چھوڑا، علم سے دوری اختیار کی، تحقیق ترک کی، اور محض روایات پر اکتفا کرنے لگے، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔
ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟
تعلیم کو بوجھ سمجھ لیا، جب کہ دنیا نے اسے طاقت بنا لیا۔
کتابوں کو الماریوں میں قید کر دیا، جب کہ دوسروں نے انہیں زندگی کا حصہ بنا لیا۔
مطالعہ ترک کر دیا، اور دوسروں کے علم کا محتاج ہو گئے۔
نتیجہ؟
ہماری قوم پسماندگی، جہالت اور زوال کا شکار ہو گئی۔
ہمارے نوجوان کتاب کی بجائے موبائل اور سوشل میڈیا کو اپنا ساتھی بنا چکے ہیں۔
ہم دوسری اقوام سے پیچھے رہ گئے کیونکہ ہم نے علم کے بجائے خواہشات کو ترجیح دی۔
کتاب کی واپسی: ایک نئی تحریک!
اگر ہم اپنی عظمت واپس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں کتابوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسی تحریک کی ضرورت ہے جو:
ہر ہاتھ میں کتاب تھما دے۔
گرد آلود شیلفوں میں قید کتابوں کو دوبارہ کھولا جائے۔
والدین اور اساتذہ بچوں کو کتابوں کی طرف راغب کریں۔
تعلیم اور تحقیق کو زندگی کا لازمی جزو بنایا جائے۔
قلم کتاب اسی مشن پر کام کر رہا ہے کہ کتاب کو دوبارہ ہماری زندگیوں میں شامل کیا جائے۔
وہ وقت دور نہیں!
کبھی ایسا دور بھی تھا جب کتاب کے بغیر سونا محال تھا۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں، مشرف دور سے پہلے تک کتاب پڑھنا ہماری عادت تھی۔ لیکن آج ہمارا حال دیکھیں:
ہمارے بچے سوشل میڈیا پر وقت ضائع کر رہے ہیں۔
تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
گھروں میں کتابوں کی جگہ اسکرینز نے لے لی ہے۔
لیکن امید اب بھی باقی ہے! ہمیں آج سے عہد کرنا ہوگا کہ ہم کتاب کو اپنی زندگی کا ساتھی بنائیں گے۔
ان شاء اللہ، وہ وقت زیادہ دور نہیں جب کتاب ہماری زندگی میں دوبارہ واپس آ جائے گی!