ایک جنگل میں شیر بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کے دربار میں دو مشہور مشیر رہتے تھے — کلیلہ اور دمنہ۔ دونوں اپنی عقل اور چالاکی کے لیے پورے جنگل میں مشہور تھے۔
ایک دن جنگل کے کنارے سمندر سے ایک عجیب خبر آئی۔
پرندے چیخ رہے تھے، بندر شور مچا رہے تھے، اور ہر جانور ایک ہی بات کر رہا تھا:
“دنیا میں تیل نام کی کوئی چیز ہے… اور اس کے بغیر بڑے بڑے شہر رک جاتے ہیں!”
دمنہ فوراً دربار پہنچا اور بولا: “حضور! دنیا کے انسان آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک طاقتور بادشاہ دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ اس سے خرید و فروخت بند کر دو۔”
شیر نے حیران ہو کر پوچھا: “پھر اس کمزور بادشاہ کا کیا بنے گا؟”
کلیلہ مسکرایا: “حضور… کبھی کبھی جسے ہم کمزور سمجھتے ہیں، وہ دراصل کھیل سمجھ رہا ہوتا ہے۔”
دمنہ نے نقشہ کھولا اور بولا: “سمندر میں ایک تنگ راستہ ہے جہاں سے دنیا کا بیشتر تیل گزرتا ہے۔”
شیر بولا: “تو پھر؟”
کلیلہ نے کہا: “اگر راستہ خطرناک ہو جائے… تو بازار خود بدل جاتا ہے۔”
چند دن بعد جنگل میں نئی خبر آئی: “تیل مہنگا ہو گیا! شہر چیخ رہے ہیں! کارخانے رکنے لگے ہیں!”
ہرن، بندر، ہاتھی سب حیران تھے۔
دمنہ ہنس کر بولا: “حضور! جنہوں نے خریدنا چھوڑا تھا… اب وہی سب سے پہلے خریدنے کو بے چین ہیں۔”
شیر نے پوچھا: “یہ کیسے ممکن ہے؟”
کلیلہ نے آہستہ سے جواب دیا: “جب پانی کا واحد کنواں بند ہونے کا خدشہ ہو… تو پیاسے لوگ قیمت نہیں پوچھتے۔”
چند دن بعد خزانے بھرنے لگے۔ جنگل کے جانور حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
شیر نے کلیلہ اور دمنہ سے کہا: “تم دونوں کی عقل واقعی حیران کن ہے۔ مگر مجھے بتاؤ، اس قصے کا اصل سبق کیا ہے؟”
کلیلہ نے کہا: “طاقت صرف پنجوں اور دانتوں میں نہیں ہوتی…”
دمنہ نے بات مکمل کی: “طاقت راستوں کو سمجھنے میں ہوتی ہے۔”
اور دونوں نے ایک ساتھ کہا: “جو راستوں کو سمجھ لے… وہ بازار کو چلا سکتا ہے۔”
سبق:
کبھی کبھی سب سے بڑی جیت شور سے نہیں،
بلکہ خاموشی سے کھیلی گئی چال سے حاصل ہوتی ہے۔
تبصرے بند ہیں