کہر کے اس پار 119

کہر کے اس پار

تحریر شئیر کریں

شہر کی فصیلوں پر جب نومبر کی سرد اور بھاری دھند اترتی تھی، تو ڈینیل کو ایسا لگتا جیسے دنیا تھم گئی ہے۔ وہ اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچتا کہ کیا واقعی زندگی اتنی ہی “یقینی” ہے جتنی اس کے اسکول کی کتابوں میں لکھی گئی تھی؟ اس کا باپ ایک مضبوط تناور درخت کی مانند تھا، جس کے سائے میں ڈینیل نے کبھی دھوپ نہیں دیکھی تھی۔ لیکن پھر ایک رات وہ درخت گر گیا، اور سولہ سالہ ڈینیل اچانک ننگی زمین پر کھڑا تھا۔ اس کے سامنے پھیلا ہوا مستقبل اب ایک ایسی سڑک تھی جس پر میلوں تک گھنا کہر چھایا ہوا تھا۔
ڈینیل جب پہلی بار نوکری کی تلاش میں نکلا، تو اس کے پاس صرف دو چیزیں تھیں: ایک پرانی سائیکل اور اس کی ماں کی نصیحت کہ اپنی زبان کی مٹھاس اور کردار کی شفافیت کبھی نہ کھونا۔ وہ ایک بڑی عمارت کے دفتر میں داخل ہوا۔ مینیجر نے اس کی فائل دیکھی اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ تمہارے پاس تجربہ نہیں ہے، ڈینیل۔ ہمیں یہاں ‘یقین’ چاہیے، اور تم ایک ‘سوالیہ نشان’ ہو۔ اس دن ڈینیل کو سمجھ آیا کہ دنیا تجربے کو خدا مانتی ہے۔ وہ اگلی جگہ گیا، پھر اس سے اگلی۔ ہر جگہ سے ایک ہی جواب ملا کہ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ ایک شام، جب بارش ہو رہی تھی، ڈینیل ایک مینیجر کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا کہ سر، مجھے تنخواہ نہیں چاہیے۔ مجھے بس یہ سیکھنا ہے کہ یہ دنیا چلتی کیسے ہے۔ میں مفت کام کروں گا۔ مینیجر نے اسے ایسے دیکھا جیسے وہ کسی دوسرے سیارے کی مرکب ہو۔ اس نے اسے بھی ریجیکٹ کر دیا۔ ڈینیل دفتر سے باہر نکلا تو اسے عجیب سی خوشی محسوس ہوئی۔ اسے ریجیکشن میں مزہ آنے لگا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ یہ بند دروازے دراصل اسے ایک ایسے راستے کی طرف دھکیل رہے ہیں جو صرف اس کے لیے بنا ہے۔ وہ ایک ایسی لیبارٹری بن چکا تھا جہاں زندگی اپنے تجربات کر رہی تھی۔
وقت گزرا، اور آخر کار ایک بوڑھے تاجر نے ڈینیل پر بھروسہ کیا۔ چند سالوں میں ڈینیل نے کچھ رقم جمع کی اور اپنے بچپن کے بہترین دوست، مارک کے ساتھ ایک مشترکہ کاروبار شروع کیا۔ ڈینیل کو لگا کہ اب زندگی “سیٹ” ہوگئی ہے اور سب کچھ یقینی لگ رہا تھا۔ لیکن ایک صبح جب وہ دفتر پہنچا، تو وہاں تالے پڑے تھے۔ مارک غائب تھا، اور ڈینیل کی زندگی بھر کی جمع پونجی بھی۔ اس رات وہ فرش پر بیٹھا تھا۔ اسے یاد آیا کہ اس نے مارک پر اندھا اعتبار کیا تھا، کسی کاغذ پر کچھ لکھا نہیں تھا، کوئی گواہ نہیں تھا۔ اس نے سوچا کہ کیا دوستی اتنی ہی کمزور ہوتی ہے؟ لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ یہ دھوکا دراصل اسے ایک قدیم قانون سکھانے آیا تھا کہ اعتبار اللہ پر کرو، اور معاملات انسانوں کے ساتھ لکھ کر طے کرو۔ عدالتوں کے چکر، وکیلوں کی جرح اور لوگوں کے بدلتے رنگ دیکھ کر اسے انسانی نفسیات کے وہ پہلو نظر آئے جو کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھائے جاتے تھے۔
اکیاون سال کی عمر میں پہنچ کر، ڈینیل آج ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا تھا۔ نیچے وادی اب بھی کہر سے بھری ہوئی تھی، لیکن اب اسے اس کہر سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ اس نے سیکھ لیا تھا کہ دنیا کا پورا نظام ایک دھوکے پر مبنی ہے کہ کل کا دن یقینی ہے۔ لوگ انشورنس کرواتے ہیں، پکی نوکریاں ڈھونڈتے ہیں، دیواریں اونچی کرتے ہیں—صرف اس خوف سے کہ کہیں کچھ غیر یقینی نہ ہوجائے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر یقینی ہی زندگی کا حسن ہے۔ اس نے اپنی ڈائری نکالی اور لکھا کہ اللہ نے ہمیں اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ہم حالات کے کنٹرول میں رہیں، بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہم اپنے حصے کا کام کریں اور نتائج اس پر چھوڑ دیں۔ اس نے محسوس کیا کہ جب وہ فجر کے وقت اٹھتا ہے، جب وہ اپنے والدین کی یاد میں آنسو بہاتا ہے، جب وہ لوگوں کی حق تلفی کے بجائے انہیں ان کا حق زیادہ دینے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ کہر آہستہ آہستہ چھٹنے لگتا ہے۔ راستہ نظر نہیں آتا، لیکن اگلا قدم اٹھانے کے لیے روشنی ضرور مل جاتی ہے۔
سورج غروب ہو رہا تھا۔ ڈینیل جانتا تھا کہ ایک چیز سو فیصد یقینی ہے۔ وہ سڑک جو اسے ایک دن ایک خاموش قبرستان کی طرف لے جائے گی، جہاں نہ کوئی بزنس ہوگا، نہ کوئی ریجیکشن۔ اس نے لمبا سانس لیا، اپنا بیگ اٹھایا اور ڈھلوان کی طرف چل پڑا۔ اب اسے کسی معجزے کا انتظار نہیں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا ہر قدم، جو اللہ پر توکل کے ساتھ اٹھ رہا ہے، وہی اصل معجزہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں