یومِ ترویہ: روح کی پیاس 67

یومِ ترویہ: روح کی پیاس

تحریر شئیر کریں

کیا آپ نے کبھی خود کو کھو کر اپنے رب کو پایا ہے؟

حج صرف مکہ کی سرزمین تک پہنچنے کا نام نہیں۔ یہ انسان کے باطن کا وہ سفر ہے جہاں وہ اپنی انا، اپنے غرور، اپنی خواہشات اور اپنی مصنوعی پہچانوں سے آزاد ہو کر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ ذوالحجہ کا آٹھواں دن، جسے یومِ ترویہ کہا جاتا ہے، اسی اندرونی سفر کی ابتدا ہے۔

یہ دن انسان کو سوچنے، ٹھہرنے اور اپنے اندر اترنے کی دعوت دیتا ہے۔ دنیا اس وقت بھی اپنی رفتار میں چل رہی ہوتی ہے، مگر ایک مومن مِنیٰ کی طرف بڑھتے ہوئے اپنی روح کی پیاس بجھانے نکلتا ہے۔

احمد ایک کامیاب انسان تھا۔ اچھی ملازمت، عزت، دولت، سب کچھ موجود تھا۔ لیکن اس کے اندر ایک عجیب خلا تھا۔ ایک ایسی خاموش پیاس جو کسی کامیابی سے نہیں بجھ رہی تھی۔ جب وہ مِنیٰ کے خیموں میں بیٹھا تو پہلی بار اسے احساس ہوا کہ مِنیٰ صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک کیفیت ہے۔

کہتے ہیں مِنیٰ کا تعلق تمنا سے ہے۔ انسان اپنی خواہشات کے ساتھ یہاں آتا ہے، مگر واپسی پر وہی شخص نہیں رہتا۔ کیونکہ یہاں آ کر اسے اپنے اندر چھپے ان بتوں کا احساس ہوتا ہے جنہیں وہ برسوں سے اٹھائے پھر رہا ہوتا ہے۔ تکبر، حسد، خود پسندی، لوگوں کی تعریف کی خواہش، دنیا کی محبت — یہ سب وہ خاموش بت ہیں جو دل کے اندر کھڑے رہتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ عبادت تو کرتے ہیں، مگر اپنے نفس کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یومِ ترویہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے صرف جسم کا سفر کافی نہیں، دل کا سفر بھی ضروری ہے۔

قدیم زمانے میں حاجی اس دن پانی جمع کرتے تھے تاکہ آگے کے سفر میں آسانی ہو۔ مگر روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ دن انسان کو صبر، یقین اور توکل جمع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کیونکہ عرفات کی تپتی دھوپ صرف جسم کو نہیں آزماتی، انسان کے اندر چھپے کمزور یقین کو بھی سامنے لے آتی ہے۔

روحانیت میں “آٹھواں دروازہ” ایک علامت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی دنیاوی شناختیں اتار دیتا ہے۔ نہ عہدہ باقی رہتا ہے، نہ دولت کی اہمیت، نہ خاندان کا غرور۔ وہاں صرف ایک حقیقت باقی رہتی ہے: بندگی۔

احرام اسی حقیقت کا اعلان ہے۔ دو سفید چادریں انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ ایک دن اسے دنیا کی ہر پہچان چھوڑ کر اسی سادگی کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ احرام صرف لباس نہیں، دنیا سے بے تعلقی کا عملی درس ہے۔

اس سفر کی سب سے خوبصورت بات خاموشی ہے۔ لیکن یہ صرف زبان کی خاموشی نہیں۔ اصل خاموشی دل کے شور کا ختم ہونا ہے۔ جب انسان کے اندر کی آوازیں مدھم پڑنے لگتی ہیں، تب وہ اپنے رب کی پکار سننے کے قابل ہوتا ہے۔

حج دراصل اللہ کو ڈھونڈنے کا سفر نہیں، کیونکہ وہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ یہ اپنے کھوئے ہوئے دل کو تلاش کرنے کا سفر ہے۔ اپنے نفس کی دیواریں گرانے کا سفر۔ خود کو مٹانے کا سفر۔

یومِ ترویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب تک اپنی انا قربان نہیں کرتا، اس کے لیے روحانیت کے دروازے نہیں کھلتے۔ اور جب وہ واقعی اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے، تب اس کے اندر ایک نیا سکون جنم لیتا ہے۔

اس حج کے موسم میں شاید سب سے ضروری طواف وہ ہے جو انسان اپنے دل کے گرد کرے۔ اپنے اندر جھانکے۔ اپنے چھپے ہوئے بتوں کو پہچانے۔ اور پھر انہیں توڑ کر اپنے رب کے حوالے ہو جائے۔

شاید یہی آٹھواں دروازہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں