کالم نگار:روبینہ شاہین
۔
تاریخِ انسانی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا تعلق محض مادی وسائل سے نہیں، بلکہ اس فکری آزادی سے ہے جو کسی معاشرے کے افراد کو حاصل ہوتی ہے۔ جب سقراط نے زہر کا پیالہ پیا تھا، تو وہ دراصل فکر کی آزادی پر پہرہ بٹھانے والی آمریت کے خلاف احتجاج تھا۔ کائنات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جس زمین پر سوال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، وہاں بصیرت کے گلاب کبھی نہیں کھلتے۔
امریکی آئین کی پہلی ترمیم (First Amendment) محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ اس ریاست کی طاقت کا اصل منبع ہے۔ یہ ترمیم ہر شہری کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ ریاست کی پالیسیوں، چاہے وہ جنگ ہو یا امن، اس پر کھل کر تنقید کر سکے۔ قانون کی نظر میں کسی امریکی شہری یا مقیم کا ایران پر حملے کی مخالفت کرنا یا پرامن احتجاج کرنا کوئی جرم نہیں کہ اس کی پاداش میں شہریت منسوخ کی جائے یا اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے۔ اسلامی نقطہ نظر سے بھی ‘کلمہ حق’ کی اہمیت مسلم ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنی اقدار کو بھلا دیا اور مغرب نے اس اصول کو اپنا کر دنیا پر حکمرانی کی بنیاد رکھی۔
آج جب ہم لاریجانی کی بیٹی یا کسی بھی فرد کے اظہارِ رائے پر اسے ڈی پورٹ کرنے کی دھمکیاں سنتے ہیں، تو یہ خود امریکی آئین کی روح کے خلاف ایک ‘فاشسٹ’ طرزِ عمل نظر آتا ہے۔ پینٹاگان پیپرز کا تاریخی مقدمہ گواہ ہے کہ جب امریکی حکومت نے ‘نیشنل سیکیورٹی’ کے نام پر سچائی دبانا چاہی، تو وہاں کی عدالتوں نے نیویارک ٹائمز کا ساتھ دیا اور واضح کیا کہ عوام کو سچ جاننے کا حق حاصل ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ امریکہ جو کل دنیا کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح ابھر رہا تھا، اس کی چمک کا راز یہی “آزادیءِ اظہارِ رائے” تھی۔ وہ اس وقت عروج پر تھا جب وہ اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا، لیکن آج کا امریکہ جو غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اس کی پہچان آزادیءِ اظہار کو چھین لینا بنتی جا رہی ہے۔ جب کوئی ریاست اپنے ہی وضع کردہ قوانین سے خوف کھانے لگے اور سچائی کا راستہ روکنے کے لیے جبری ہتھکنڈوں پر اتر آئے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے زوال کا سورج ڈھلنا شروع ہو چکا ہے۔ مسلم دنیا کا زوال بھی صدیوں سے اسی آزادی کے فقدان کا شاخسانہ ہے، اور آج امریکہ اسی نقشِ قدم پر چل پڑا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ملتا۔
آزادیءِ اظہارِ رائے کوئی مراعات نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے جس کے بغیر ضمیر مردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر امریکہ یا مسلم دنیا کو اپنا وقار بحال کرنا ہے، تو انہیں اپنے معاشروں میں فکری تنوع کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ جب تک ہم مصلحتوں کے بت توڑ کر سچ کی اہمیت کو تسلیم نہیں کریں گے، زوال کا یہ سفر ختم نہیں ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی عدالتیں چاہے جو بھی فیصلہ کریں، اصل کامیابی ان کی ہے جو حق کے ساتھ کھڑے ہوئے، کیونکہ آخرت کی کامیابی کا راستہ بھی دیانت اور حق گوئی سے ہو کر گزرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے