ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب دوم
باب دوم: ‘خودی’ بنام الگورتھم
اکیسویں صدی کا انسان ایک ایسے عجائب گھر میں قید ہو چکا ہے جس کی دیواریں شیشے کی ہیں اور پہرے دار ‘ڈیٹا’ ہے۔ ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، اسے ‘انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب’ کہا جاتا ہے، لیکن اس انقلاب نے انسان سے اس کی سب سے قیمتی متاع چھین لی ہے: اس کی انفرادیت یعنی اس کی ‘خودی’۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور الگورتھمز اب محض ریاضیاتی فارمولے نہیں رہے، بلکہ یہ وہ ‘ڈیجیٹل خدا’ بن چکے ہیں جو ہماری زندگی کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس باب میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ علامہ اقبال کا فلسفہِ خودی کس طرح ہمیں اس ڈیجیٹل غلامی سے نجات دلا سکتا ہے۔
1. خودی کیا ہے؟ اقبال کا نقط نظر
اس سے پہلے کہ ہم الگورتھم کی یلغار کو سمجھیں، ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ وہ ‘خودی’ کیا ہے جس پر حملہ ہو رہا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی کوئی ایسی چیز نہیں جسے چھوا جا سکے، بلکہ یہ ایک ‘احساسِ بیداری’ ہے۔
اقبال اپنی کتاب “تشکیلِ الٰہیاتِ اسلامیہ” (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) میں فرماتے ہیں:
“انسانی انا (Ego) محض ایک حیاتیاتی اکائی نہیں بلکہ ایک فعال مرکزِ عمل ہے۔ یہ کائنات کی تمام قوتوں کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے۔”
خودی کا مطلب ہے کہ انسان اپنے فیصلوں میں آزاد ہو، وہ کسی خارجی دباؤ کے تحت عمل نہ کرے بلکہ اس کے افعال اس کے اپنے ضمیر اور ‘عشقِ الٰہی’ کے تابع ہوں۔
2. الگورتھم: جدید دور کا ‘بتِ تراش’
الگورتھم (Algorithm) دراصل ہدایات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو کمپیوٹر کو یہ بتاتا ہے کہ اسے ڈیٹا کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ بظاہر یہ ایک بے ضرر چیز معلوم ہوتی ہے، لیکن جب یہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ ملتا ہے، تو یہ ایک ‘ذہنی شکاری’ بن جاتا ہے۔
جدید مفکر یووال نوح ہراری اپنی کتاب ” Lessons for the 21st Century” میں خبردار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“اگر آپ خود کو نہیں جانتے، تو الگورتھم آپ کو جان لیں گے۔ وہ آپ کی نبض، آپ کے بلڈ پریشر اور آپ کے دماغی نیورونز کی حرکت سے یہ جان لیں گے کہ آپ کو کیا چیز خوش کرتی ہے اور کیا غمگین۔ اور جس دن مشنری عقل انسان کو ہیک کرنے میں کامیاب ہوگئی، اس دن ‘فری ول’ یعنی اختیارِ خودی کا قصہ ختم ہو جائے گا۔”
3. ‘ہیک’ ہوتا ہوا انسان: الگورتھم کیسے کام کرتا ہے؟
سوشل میڈیا ایپس فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹوک کے پیچھے بیٹھے الگورتھمز کا واحد مقصد آپ کی توجہ کو قید کرنا ہے۔
ڈوپامائن لوپ (Dopamine Loop):
ہر ‘لائک’ اور ‘شیئر’ آپ کے دماغ میں خوشی کا ایک ہارمون پیدا کرتا ہے۔ الگورتھم آپ کو اس کا عادی بنا دیتا ہے۔
فلٹر ببل : یہ آپ کو صرف وہی باتیں دکھاتا ہے جو آپ سننا چاہتے ہیں۔ یوں انسان ایک ایسی محدود دنیا میں قید ہو جاتا ہے جہاں نئی سوچ یا ‘خودی کی پرواز’ کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔یہاں اقبال کا وہ شعر صادق آتا ہے:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
الگورتھم ہمیں ‘اپنے من’ میں ڈوبنے سے روکتا ہے، یہ ہمیں ‘باہر کی دنیا’ کا تماشائی بنا دیتا ہے۔
4. ڈیٹا بنام روح: ایک فلسفیانہ جنگ
مصنوعی ذہانت کا پورا ڈھانچہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ انسان محض ایک ‘ڈیٹا سیٹ’ ہے۔ اگر ہم کافی مقدار میں ڈیٹا جمع کر لیں، تو ہم انسان کے ہر عمل کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔
لیکن اقبال اس کے برعکس کہتے ہیں۔ وہ انسان کو ‘ناقابلِ تسخیر’ مانتے ہیں۔
“خودی کی جلوتوں میں مصطفائی”
“خودی کی خلوتوں میں کبرائی”
جب انسان سجدے میں گرتا ہے یا اپنی خودی کو پہچانتا ہے، تو وہ تمام مادی قوانین سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ الگورتھم یہ کبھی نہیں سمجھ سکتا کہ ایک انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ چیز کیوں قربان کر دیتا ہے، کیونکہ مشین کے پاس ‘ایثار’ اور ‘محبت’ کا کوئی کوڈ نہیں ہے۔
5. ڈیجیٹل غلامی اور اقبال کی تنبیہ
اقبال نے اپنے دور کی ‘مغربی جدیدیت’ کو جس طرح دیکھا، آج کی ‘ڈیجیٹل جدیدیت’ اس کا اگلا قدم ہے۔ضربِ کلیم میں وہ فرماتے ہیں
:
عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تیری، دے کے تجھے فکرِ معاش
آج کی ‘فکرِ معاش’ اسکرین پر نظر آنے والا وہ ‘کمرشلزم’ ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہماری قیمت ہمارے برانڈز، ہمارے فالوورز اور ہماری ڈیجیٹل موجودگی سے ہے۔ ہم اپنی روح کا سودا کر کے ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔
6. خودی کا تحفظ: عملی لائحہ عمل
ہم اس ڈیجیٹل دلدل سے کیسے نکل سکتے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں تین بنیادی اصول اپنانے ہوں گے:
الف: بیداریِ فکر
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو سکرین پر نظر آ رہی ہے، وہ سچ نہیں بلکہ ایک ‘ڈیزائن کردہ ایجنڈا’ ہے۔ اپنی عقل کو الگورتھم کے حوالے کرنے کے بجائے اسے ‘نورِ بصیرت’ سے روشن کریں۔
ب: خلوت پسندی
اقبال کے ہاں ‘خلوت’ خودی کی تعمیر کے لیے لازمی ہے۔
خلوت میں خودی، جلوت میں خدائی
اگر آپ دن میں 24 گھنٹے سکرین سے جڑے ہیں، تو آپ کی خودی کبھی بیدار نہیں ہو سکتی۔ خاموشی کے لمحات، غور و فکر اور تلاوتِ قرآن وہ ذرائع ہیں جو الگورتھم کے سحر کو توڑتے ہیں۔
ج: تخلیقی عمل
الگورتھم تقلید سکھاتا ہے، خودی تخلیق سکھاتی ہے۔ مشین کبھی ‘تخلیق’ نہیں کر سکتی، وہ صرف ‘ری سائیکل’ کرتی ہے۔ جب انسان آرٹ، ادب یا فکرِ تازہ کی طرف جاتا ہے، تو وہ مشین کو شکست دے دیتا ہے۔
7. مستقبل کی جھلک: انسان بمقابلہ مشین
آنے والے وقت میں مقابلہ ‘طاقت’ کا نہیں بلکہ ‘شعور’ کا ہوگا۔ وہ قومیں یا افراد جو اپنی خودی کو الگورتھم کے سپرد کر دیں گے، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے۔ لیکن وہ جو اقبال کے شاہین کی طرح اپنی خودی کو پہچانیں گے، وہ ٹیکنالوجی کو اپنا غلام بنا لیں گے۔اقبال کا یہ پیغام اس باب کا نچوڑ ہے:
خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقامِ حیات
کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحانِ ثبات
خلاصہ کلام
الگورتھم آپ کو ‘ماپ’ سکتا ہے، مگر آپ کو ‘جان’ نہیں سکتا۔ آپ کی خودی اس کائنات کا وہ راز ہے جسے اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ اس سکرین کی دنیا سے باہر نکلیں، اپنے اندر جھانکیں اور اس شاہین کو بیدار کریں جسے آسمانوں کی وسعتیں پکار رہی ہیں۔
خودی کا احتساب: مشقیں اور سوالات
اس باب کے مطالعے کے بعد، اب وقت ہے کہ آپ اپنے ‘ڈیجیٹل وجود’ کا معائنہ علامہ اقبال کے فلسفہِ خودی کی روشنی میں کریں۔ درج ذیل مشقیں آپ کو الگورتھم کے سحر سے نکالنے میں مدد دیں گی:
1. ڈیجیٹل آئینہ
ایک کاغذ پر دو خانے بنائیں۔ ایک طرف وہ چیزیں لکھیں جو آپ الگورتھم کی وجہ سے پسند کرتے ہیں مثلاً وہ برانڈز، ویڈیوز یا ٹرینڈز جو آپ کو بار بار دکھائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ چیزیں لکھیں جو آپ کو حقیقی طور پر سکون دیتی ہیں مثلاً مطالعہ، فطرت، عبادت، یا اپنوں کے ساتھ گفتگو۔
سوال: آپ کی زندگی کا کتنا فیصد حصہ ‘الگورتھم’ کے زیرِ اثر ہے اور کتنا آپ کی اپنی ‘خودی’ کے؟
2. ‘خلوت’ کی مشق
علامہ اقبال فرماتے ہیں: “خلوت میں خودی، جلوت میں خدائی”۔
آنے والے 24 گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ ایسا مقرر کریں جس میں آپ کا فون آپ سے دور ہو اور آپ تنہائی میں بیٹھ کر صرف اپنے خیالات کا مشاہدہ کریں۔
تجربہ: کیا آپ کو تنہائی سے خوف محسوس ہوتا ہے؟ یا آپ کو اپنے اندر ایک نئی توانائی محسوس ہوتی ہے؟ یاد رکھیں، جو اپنی تنہائی سے ڈرتا ہے، اس کی خودی کمزور ہوتی ہے۔
3. الگورتھم کو ‘چیلنج’ کریں
آج اپنے سوشل میڈیا پر ان چیزوں کو تلاش کریں یا لائک کریں جو آپ کے معمول کے مزاج سے بالکل مختلف اور علمی نوعیت کی ہوں۔ مثلاً اگر آپ صرف تفریح دیکھتے ہیں، تو آج ‘فلسفہِ اقبال’ یا ‘کونیات’یعنی Cosmology کی ویڈیوز دیکھیں۔
مقصد: یہ مشق الگورتھم کے ‘فلٹر ببل’ کو توڑنے کے لیے ہے تاکہ آپ کو احساس ہو کہ دنیا اس سے کہیں بڑی ہے جو آپ کو دکھائی جا رہی ہے۔
4. پانچ سوالات خود احتسابی کے لیے
سونے سے پہلے ان پانچ سوالات کا جواب اپنے ضمیر کی عدالت میں دیں:
آج میں نے کتنا وقت ‘دوسروں کی زندگی’سوشل میڈیا پہ دیکھنے میں گزارا اور کتنا وقت ‘اپنی زندگی’ سنوارنے میں؟
کیا میرا آج کا کوئی بھی فیصلہ ایسا تھا جو خالصتاً میرا اپنا تھا، نہ کہ کسی اشتہار یا ٹرینڈ سے متاثر؟
کیا میں نے آج ٹیکنالوجی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا، یا ٹیکنالوجی نے مجھے اپنے مقصد کو یعنی اشتہارات کے لیے استعمال کیا؟
کیا میری ‘خودی’ آج کسی ‘لائک’ یا ‘کمنٹ’ کی محتاج تھی؟
اگر آج دنیا سے انٹرنیٹ ختم ہو جائے، تو کیا میری شخصیت کے پاس کچھ ایسا بچے گا جو قیمتی ہو؟
حرفِ آخر
یاد رکھیے! الگورتھم آپ کا خادم ہونا چاہیے، مخدوم نہیں۔ جب آپ اپنی پسند و ناپسند کا اختیار مشین کو دے دیتے ہیں، تو آپ کی ‘خودی’ مرنے لگتی ہے۔ اقبال کا شاہین کبھی کسی کے بنے بنائے گھونسلے میں پناہ نہیں لیتا، وہ اپنی پرواز خود تخلیق کرتا ہے۔
تبصرے بند ہیں