1,675

تجوید کی ضرورت کیوں ؟

تحریر شئیر کریں

 

تجوید کی ضرورت و اہمیت

(Importance of Tajweed in Quran Recitation)

قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا آخری اور محفوظ کلام ہے، جسے جس انداز، جس لہجے اور جس طریقے سے نازل کیا گیا، اسی طرح پڑھنا بھی مسلمانوں پر لازم ہے۔ قرآن کو درست اور خوبصورت انداز میں پڑھنے کے لیے جس علم کی ضرورت ہوتی ہے، اسے علمِ تجوید کہا جاتا ہے۔

تجوید کا مقصد قرآنِ کریم کی تلاوت کو محض خوبصورت آواز تک محدود رکھنا نہیں، بلکہ ہر حرف کو اس کے اصل حق کے ساتھ ادا کرنا ہے، تاکہ معنی میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو اور کلامِ الٰہی جیسا نازل ہوا ویسا ہی پڑھا جائے۔

تجوید کے لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی

لفظ تجوید عربی زبان کے مادہ “ج و د” سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی ہیں:

سجانا

سنوارنا

عمدہ بنانا

خوبصورت بنانا

یعنی کسی چیز کو اس کے بہترین معیار پر لے آنا۔

اصطلاحی معنی

اصطلاح میں تجویدِ قرآن سے مراد ہے:

> قرآنِ مجید کو اس طرح پڑھنا کہ ہر حرف کو اس کے مقررہ مخرج سے، اس کی تمام صفات کے ساتھ ادا کیا جائے۔

علمِ تجوید کی رو سے کسی حرف کو آگے پیچھے، باریک یا موٹا، نرم یا سخت پڑھنا محض آواز کا فرق نہیں بلکہ معنی کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، اسی لیے تجوید کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

مخارج اور صفات کیا ہیں؟

مخارج (Makharij)

لفظ مخارج، مخرج کی جمع ہے، جس کا مطلب ہے:

> کسی حرف کے نکلنے کی جگہ

انگریزی میں اس کے لیے Exit Point کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

عربی زبان کے 29 حروفِ تہجی ہیں، جن کے 17 مخارج مقرر ہیں، اور یہ مخارج پانچ بنیادی مقامات سے نکلتے ہیں:

1. حلق

2. زبان

3. ہونٹ

4. ناک

5. خشیوم (ناک کی اندرونی گونج)

ہر حرف کا اپنا مخصوص مخرج ہے، اور اسی جگہ سے اس حرف کو ادا کرنا تجوید کی بنیاد ہے۔

صفات (Sifaat)

لفظ صفت سے مراد ہے:

> وہ کیفیت جو حرف کو ادا کرتے وقت پائی جاتی ہے

مثلاً:

حرف موٹا پڑھا جائے گا یا باریک

آواز میں نرمی ہوگی یا سختی

سانس کے ساتھ ادا ہوگا یا بغیر سانس کے

یہ تمام کیفیات صفات کہلاتی ہیں۔

👉 یاد رہے:

علمِ تجوید کا دارومدار انہی دو چیزوں پر ہے:

1. حرف کہاں سے ادا ہو رہا ہے؟ (مخرج)

2. کس کیفیت کے ساتھ ادا ہو رہا ہے؟ (صفت)

مراتبِ تجوید (Levels of Tajweed)

تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے کے تین معروف مدارج ہیں:

1. ترتیل

ٹھہر ٹھہر کر، سکون اور اطمینان کے ساتھ پڑھنا۔

یہ قرآنِ مجید پڑھنے کا افضل طریقہ ہے، جیسا کہ قرآن میں بھی اس کی ترغیب دی گئی ہے۔

2. تدویر

نہ زیادہ تیز اور نہ زیادہ آہستہ، بلکہ درمیانی رفتار سے پڑھنا۔

یہ عام تلاوت میں سب سے زیادہ رائج انداز ہے۔

3. حدر

تیز رفتار سے پڑھنا، مگر قواعدِ تجوید کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔

یہ طریقہ عموماً تراویح میں استعمال ہوتا ہے۔

تجوید کا شرعی حکم

علماءِ امت کے مطابق:

تجوید کے تمام قواعد سیکھنا فرضِ کفایہ ہے

یعنی اگر کچھ لوگ اس علم میں مہارت حاصل کر لیں تو باقی امت سے گناہ ساقط ہو جاتا ہے۔

لیکن قرآنِ مجید اس حد تک درست پڑھنا کہ نماز صحیح ہو جائے، فرضِ عین ہے

یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اتنی تجوید ضرور سیکھے جس کے بغیر اس کی نماز درست نہیں ہو سکتی

نتیجہ

علمِ تجوید کوئی اضافی یا اختیاری علم نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کو صحیح، محفوظ اور باادب طریقے سے پڑھنے کا ذریعہ ہے۔

قرآن جیسا نازل ہوا، ویسا ہی پڑھنا ہی اس کا حق ہے، اور یہی علمِ تجوید کا اصل مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں