248

جب دریا یرغمال بن جائیں

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

ہوا، پانی اور روشنی۔۔۔ یہ تین چیزیں انسان کی سانسوں کی طرح قدرتی عطا ہیں۔ ان پر کوئی سرحد، کوئی دیوار، کوئی معاہدہ، کوئی سیاست حق نہیں رکھتی۔ لیکن افسوس کہ آج دریا بھی سیاست کے یرغمال ہو گئے ہیں!

اب خبر آئی ہے کہ بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ بلکہ جو پانی پاکستان کی طرف جانا تھا، اُسے راجستھان کی پیاسی دھرتی کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

یہ صرف ایک اعلان نہیں ہے، بلکہ دریا کے کناروں پر بسنے والے لاکھوں کسانوں کے دل پر تیشہ چلانے جیسا ہے۔ اس دھرتی کے کھیت، باغ، چراغ، مویشی۔۔۔ سب اس پانی کے دھارے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ذرا سوچیے، جس پانی سے صدیوں سے یہ زمین سانس لے رہی تھی، وہی اگر روک دیا جائے تو یہ زمین بھی دم توڑ دے گی۔۔۔ اور اس زمین سے جڑے انسان بھی!

تاریخی تناظر

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان اس وقت طے پایا تھا، جب دونوں ممالک میں کشیدگیاں کم نہ تھیں۔ پھر بھی دونوں نے سمجھا کہ پانی کی جنگ چھیڑ کر کوئی جیتا نہیں جا سکتا۔ پانی وہ نعمت ہے جو انسانوں کو جوڑتی ہے، توڑتی نہیں۔
لیکن آج، جب امت شاہ جیسے سیاست دان پانی کو بھی اپنی جارح سیاست کا ہتھیار بنانے پر تُلے ہوئے ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے — کیا یہ انسانیت کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی نہیں؟

کیا یہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے؟

نہیں!
دریا کسی سرحد کو نہیں پہچانتے۔ اگر پانی روکنے کا آغاز ہو گیا تو اس کا اثر صرف پاکستانی دریاؤں اور کسانوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں، زراعت کی بربادی اور غذائی قلت کی شکل میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
کیا بھارت کے اپنے کسانوں کو اس پالیسی سے فائدہ ہو گا یا نقصان؟ کیا راجستھان کے ریگستانی علاقوں کو وقتی پانی دے کر پورے پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمینوں کو بنجر کرنا دانشمندی ہے؟

انسانی المیہ کی صورت گری

تصور کریں، دریائے چناب، جہلم، ستلج، بیاس۔۔۔ ان دریاؤں کے کنارے آباد وہ چھوٹے چھوٹے گاؤں، جہاں ہر صبح بچے پانی کے چھینٹوں میں کھیلتے تھے، کھیتوں میں ہریالی جھومتی تھی، اب وہاں خشک مٹی اڑے گی، دراڑیں پڑیں گی، آنکھوں میں نمی رہے گی — مگر نہ آسمان سے بارش کی امید ہو گی، نہ پہاڑوں سے بہتا پانی!

ایسا فیصلہ انسانوں کو صرف پیاسا ہی نہیں کرتا۔۔۔ بے چین، بے روزگار، بے بس بھی بنا دیتا ہے۔
ایک کسان، جو بیج ڈالے گا مگر جانتا ہو کہ اوپر سے پانی نہیں آئے گا، اس کے دل پر کیا گزرے گی؟
ایک ماں، جو اپنے بچے کے ہاتھ میں پیالہ پکڑا کر کنویں پر بھیجے گی۔۔۔ اور وہ خالی پیالہ واپس لوٹائے گا۔۔۔
یہ ایک سیاسی اعلان نہیں، انسانی المیہ کی پیشگی خبر ہے!

کیا دنیا خاموش تماشائی بنی رہے گی؟
بین الاقوامی قوانین میں بھی آبی وسائل کو جنگی ہتھیار بنانے کی ممانعت ہے۔ مگر کیا اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی برادری اب بھی خاموش تماشائی بنی رہیں گی؟
یہ وقت ہے کہ سفارتی، سیاسی اور انسانی سطح پر اس اقدام کی روک تھام کے لیے آواز بلند کی جائے۔ اگر آج اس جارحیت کو نہ روکا گیا تو کل کوئی بھی ملک اپنے ہمسائے کے خلاف پانی کا ہتھیار استعمال کر سکتا ہے — اور پھر دنیا میں پانی کے لیے جنگیں شروع ہو جائیں گی!

آخری بات

دریا ہمیشہ انسانوں کو جوڑنے کے لیے بہتے ہیں۔۔۔ کاش سیاست دان یہ سمجھ سکیں۔
ورنہ تاریخ لکھے گی کہ جس خطے میں کبھی دریا بہتے تھے، وہاں انسانوں کے آنسو بہنے لگے!

—!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں