255

حافظ ساجد میر: حیات و خدمات کا تحقیقی جائزہ

تحریر شئیر کریں

حافظ ساجد میر: حیات و خدمات کا تحقیقی جائزہ

حافظ ساجد میر کی علمی، دینی اور سیاسی خدمات

پاکستان کے ممتاز عالمِ دین پروفیسر حافظ ساجد میر کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے دینی، علمی، سیاسی اور تعلیمی میدان میں بیک وقت نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی حیات و خدمات کا جائزہ لینا نہ صرف خراجِ عقیدت ہے بلکہ نئی نسل کے لیے ایک فکری رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔

—

ابتدائی زندگی و تعلیم

پروفیسر حافظ ساجد میر 1941ء میں پاکستان کے علمی و دینی ماحول میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اور پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے حدیث و تفسیر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

جیسا کہ معروف محقق ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر لکھتے ہیں:
“حافظ ساجد میر ایک صاحبِ تقویٰ، عالمِ باعمل اور علمِ حدیث کے محقق استاد تھے۔ ان کی گفتگو علم، حلم اور اخلاص کا مجموعہ ہوتی تھی۔”
(سوانحی خاکے، ص: 214)

—

تدریسی و تعلیمی خدمات

آپ کئی دہائیوں تک جامعہ المنتظر لاہور میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ کے ہزاروں شاگرد ملک و بیرونِ ملک علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ایک طالب علم کے مطابق:
“استاد محترم درسِ بخاری میں صرف الفاظ نہیں پڑھاتے تھے بلکہ اس کے پس منظر میں چھپے حکمت و عمل کا درس دیتے تھے۔”
(ذاتی مشاہدہ، جامعہ المنتظر، 2010ء)

—

دینی و سیاسی خدمات

جمعیت اہل حدیث اور پارلیمانی کردار

آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ اور بعد ازاں کئی بار سینیٹر منتخب ہوئے۔ آپ نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں اسلامی قانون سازی، نصابِ تعلیم، اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر آواز بلند کی۔

مولانا عبدالرشید ہزاروی فرماتے ہیں:
“ساجد میر ایک مجاہد عالم تھے، جنہوں نے ایوانوں میں دین کی ترجمانی کا حق ادا کیا۔”
(خطبات اہل حدیث کانفرنس، 2018ء)

اتحاد امت کا داعی

انہوں نے مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پاکستان میں بین المسالک کانفرنسز کا انعقاد کیا۔

ان کے الفاظ تھے:
“اگر امت کے فرقے قرآن کی چھاؤں میں اکٹھے نہ ہو سکے، تو پھر فتنہ ہر دروازے پر دستک دے گا۔”
(خطاب، اتحاد امت کانفرنس، لاہور، 2015ء)

—

بین الاقوامی سطح پر خدمات

آپ نے سعودی عرب، مصر، ترکی، برطانیہ اور دیگر ممالک میں عالمی اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ وہاں آپ نے پاکستان کے علماء کا موقف مدلل انداز میں پیش کیا۔

بین الاقوامی اسلامی کانفرنس، ریاض کے ایک اعلامیے میں آپ کو “Pakistani Islamic Statesman” قرار دیا گیا۔
(مطبوعہ: Islamic Unity Conference Report, Riyadh 2019)

—

تصنیف و تالیف

ان کے خطبات، مقالات اور درسی نوٹس کو مختلف اداروں نے جمع کر کے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ ان کی کتاب “حدیث فہم کے اصول” ایک اہم مرجع بن چکی ہے۔

ڈاکٹر محمود غزنوی لکھتے ہیں:
“ساجد میر کے علمی مقالات میں اعتدال، تحقیق، اور فقہی مزاج کی آمیزش نظر آتی ہے۔”
(تجزیہ: مجلہ دارالعلوم، شمارہ 34، کراچی)

—

وفات اور اثرات

2 مئی 2025ء کو ان کی وفات کی خبر پھیلتے ہی پورے ملک میں فضا سوگوار ہو گئی۔ علما، طلبہ، اور عوام نے سوشل میڈیا پر خراج عقیدت پیش کیا۔

وزیراعظم پاکستان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا:
“پاکستان ایک عظیم دینی و تعلیمی رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔”
(وزارت اطلاعات، تعزیتی بیان، 2 مئی 2025ء)

—

قلم کتاب کی طرف سے خراج عقیدت

“قلم کتاب” حافظ ساجد میر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ایک روشن مینار سمجھتا ہے۔ ان کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری و عملی ماڈل ہے۔

—

دعائے مغفرت (مسنون)

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ۔

نتیجہ

پروفیسر حافظ ساجد میر کی زندگی علم، اخلاص، تقویٰ اور حکمت کا پیکر تھی۔ ان کی خدمات اہل علم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک تحریک اور فکر کا نام تھے۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں