
تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبوں کا زوال ہمیشہ وہاں سے شروع ہوا جہاں انسان نے مٹی کے ڈھیر کو سونا اور فنا ہونے والے اقتدار کو بقا سمجھ لیا۔ فرعون کے اہرام ہوں یا نمرود کی خدائی، وقت کی بے رحم موجوں نے ہر اس نام کو مٹا دیا جس نے غرور کے بت تراشے تھے۔ انسانی فطرت کا یہ المیہ رہا ہے کہ وہ حال کی چکا چوند میں اس مستقبل کو بھول جاتا ہے جو قبر کی پہلی دیوار کے پیچھے اس کا منتظر ہے۔
آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو شہرت اور دولت کے بڑے بڑے بت گرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ نام جو کبھی اقتدار کے ایوانوں میں گونجتے تھے، آج دیوالیہ پن اور رسوائی کی دھول میں اٹے ہوئے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل مال وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ ہو اور اصل کامیابی وہ ہے جو میزان میں بھاری پڑے۔ حیا اور اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ نعمتوں پر شکر اور اقتدار پر عجز اختیار کیا جاتا، مگر جب ضمیر سوداگر بن جائیں اور نظر صرف مادی اثاثوں پر مرکوز ہو جائے، تو ذلت مقدر بن جاتی ہے۔ ایمانی بصیرت بتاتی ہے کہ حلال کی تھوڑی سی پونجی اس حرام کے انبار سے بہتر ہے جو انسان کو دنیا میں تماشا اور آخرت میں رسوا کر دے۔
( جدیدیت کے علمبردار اور مغرب کے خوشہ چیں اسے محض ایک ‘معاشی اتار چڑھاؤ’ یا ‘قانونی پیچیدگی’ قرار دیں گے، مگر یہ وہی لبرل طبقہ ہے جو اخلاقی دیوالیہ پن پر خاموش رہتا ہے۔ مغرب کی منافقت دیکھیے کہ ایک طرف وہ حقوق اور شفافیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور دوسری طرف اپنی پناہ گاہوں میں دنیا بھر کے لٹیروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ دوغلا پن اس جدید جاہلیت کا شاخسانہ ہے جہاں انسان کو صرف ایک ‘صارف’ (Consumer) سمجھا جاتا ہے، اس کا روحانی وجود اور اخلاقی ذمہ داری کوئی معنی نہیں رکھتی۔
یہ تخت و تاج، یہ بینکوں کے اعداد و شمار، اور یہ لندن کی ٹھنڈی ہوائیں۔۔۔ یہ سب ایک پل کی مسافت پر ہیں۔ موت کے فرشتے کے سامنے کوئی پروٹوکول کام نہیں آتا اور نہ ہی کوئی وکیل دلیل دے سکتا ہے۔ ہم کس زعم میں جی رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس دولت کے لیے ہم نے اپنے ایمان کا سودا کیا، وہ ہمارے کفن میں ایک جیب تک نہیں بنا سکتی؟ بات بہت سادہ ہے مگر اسے سمجھنے کے لیے دلِ بینا چاہیے، ورنہ پتھروں کو تو کوئی ٹھوکر بھی راستہ نہیں دکھاتی۔
آئیے! اس سے پہلے کہ وقت کی ڈور کٹ جائے اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے، ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ دنیا کا دیوالیہ ہونا کوئی بڑا حادثہ نہیں، اصل حادثہ روح کا دیوالیہ ہونا ہے۔ حل صرف ایک ہی ہے: اپنے رب کی طرف رجوع، حقوق العباد کی ادائیگی اور اس ابدی کامیابی کی فکر جو ہمیں سرخرو کر سکے۔ یاد رکھیں، مٹی کا بدن مٹی میں مل جائے گا، صرف وہ “حرفِ معتبر” باقی رہے گا جو خالصتاً اللہ کے لیے لکھا یا بولا گیا۔
نظم: یہاں ہر کوئی مسافر ہے، ہر مسافر نے جانا ہے
یہ رستے سب سراب ہیں، یہ مٹی کا ٹھکانا ہے
نہ کر گمان اس پہ جو آج تیرے پاس ہے بندے
تجھے اک دن اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے
وہی ہے با شعور جو دنیا کو دنیا ہی سمجھے
جو آخرت کی کھیتی میں اپنا بیج بونا ہے
یہ ٹرینڈز مٹی، یہ شہرت مٹی، یہ دولت مٹی
فقط ایک نامِ حق ہے جس نے ہمیشہ رہنا ہے