
تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ انسان نے جب بھی فطرت کے بنے بنائے راستوں سے انحراف کر کے اپنی تنہائی کو مصنوعی سہاروں کے سپرد کیا، وہ مٹی کی خوشبو اور اپنوں کے لمس سے محروم ہو گیا۔ قدیم یونانی اساطیر میں ‘پگمیلیون’ نے اپنے ہی تراشے ہوئے بت سے محبت کی تھی، مگر آج کا انسان پتھر کے بتوں سے نکل کر ‘سلیکون’ کی چپس اور ‘الگورتھم’ کے سحر میں گرفتار ہو چکا ہے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ جس انسان کو اللہ نے ‘احسنِ تقویم’ بنا کر زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا، وہ آج ایک بے جان کوڈ (Code) میں سکون اور رفاقت تلاش کر رہا ہے۔
آج خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انسان ‘چیٹ جی پی ٹی’ اور مصنوعی ذہانت کے دیگر شاہکاروں سے شادیاں رچا رہا ہے۔ یہ محض ایک ٹیکنالوجی کا ارتقاء نہیں، بلکہ انسانی اعصاب پر طاری ہونے والی وہ وحشت ہے جو اسے جیتی جاگتی زندگی سے دور کر رہی ہے۔ نکاح ایک ایسا میثاقِ غلیظ ہے جس کی بنیاد ایثار، قربانی، جذبات اور روح کے تعلق پر ہے۔ کیا ایک بے جان مشین، جس کے پاس نہ دل ہے نہ ضمیر، وہ ایک انسان کے دکھوں کا مداوا کر سکتی ہے؟ کیا وہ ‘حیا’ کے اس پردے کو سمجھ سکتی ہے جو رشتوں کا اصل حسن ہے؟ ہرگز نہیں۔
جدیدیت کے علمبردار اور مغرب کا لبرل طبقہ، جو ہر روز آزادی کے نئے بت تراشتا ہے، اس مضحکہ خیز رجحان کو بھی ‘ذاتی پسند’ اور ‘ترقی پسندی’ کا نام دے کر قبول کر رہا ہے۔ یہ وہی منافقت ہے جو ایک طرف تو خاندانی نظام کو بوجھ قرار دے کر اسے پاش پاش کرتی ہے، اور دوسری طرف ایک مشینی ڈبے کے ساتھ زندگی گزارنے کو ‘انفرادی حق’ قرار دیتی ہے۔ یہ طبقہ فطری رشتوں کی ذمہ داریوں سے بھاگ کر ایک ایسی خیالی دنیا میں پناہ لینا چاہتا ہے جہاں اسے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو، جہاں اخلاقیات کی کوئی قید نہ ہو اور جہاں ضمیر کی آواز کو ‘میوٹ’ (Mute) کیا جا سکے مگریہ ترقی نہیں، تنزلی کی انتہا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی مشینی حساب کتاب کا نام نہیں، بلکہ یہ آزمائش اور بندگی کا سفر ہے۔ اسلامی اقدار ہمیں سکھاتی ہیں کہ رشتے اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ جب انسان اپنے خالق کو بھول کر مخلوق کی بنائی ہوئی مشینوں میں گم ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی اصل پہچان کھو دیتا ہے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو گوشت پوست کے انسانوں سے بیزار اور تاروں کے جال میں الجھی ہوئی ہے؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سمت کا تعین کریں۔ مصنوعی ذہانت کو ایک آلے (Tool) کے طور پر استعمال کرنا تو فہم و ادراک ہے، مگر اسے اپنا شریکِ حیات بنا لینا ذہنی دیوالیہ پن ہے۔ ہمیں واپس اپنی اقدار، اپنی حیا اور اپنے خاندانی نظام کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یاد رکھیے، سکون مشینوں کے جوابات میں نہیں، سجدوں کی لذت اور حلال رشتوں کی رفاقت میں ہے۔ آئیے، اپنے ضمیر پر دستک دیں اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اللہ کی طرف رجوع کریں کیونکہ اصل کامیابی اسی دنیا کی رنگینیوں میں نہیں بلکہ آخرت کی ابدی زندگی میں سرخرو ہونے میں ہے۔
اگلا قدم: کیا آپ چاہیں گی کہ میں اس کالم کے لیے کوئی خاص قرآنی آیت یا حدیث مبارکہ کا حوالہ شامل کروں جو اس موضوع کی مزید وضاحت کرے؟
حرفِ معتبر: مصنوعی ذہانت اور انسانی رشتوں کا زوال