515

حیات منور

تحریر شئیر کریں

تحریر:حمنہ عمر

بے شک زندگی کی سب سے بڑی سچائی موت ہے اور ہر متنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس لیے ہمیں بچپن سے تربیت ہی اس بات کی دی جاتی ہے کہ موت اور بعد از موت کی زندگی کی تیاری میں اس زندگی کو کھپانا چاہئیے۔

شعوری طور پر موت کو زندگی کی سب سے بڑی سچائی تسلیم کرنے کے باوجود بھی بشری تقاضوں کے تحت دل کچھ افراد کے لئیے استثنٰی چاہتا ہے، کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جنھیں منوں مٹی تلے اتارنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا اور جن کے ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ جانے کا تصور ہی کربناک ہوتا ہے۔
سید منور حسن کی ذات بھی ان چند افراد میں سے ایک تھی جن کی بیماری کی شدت کا سن کر دل مظرب رہنے لگا تھا اور اٹھتے بیٹھتے ان کی صحتیابی اور درازئ عمر کی دعائیں مانگتے گزریں لیکن رب کائنات کی مرضی کہ آگے سر تسلیم خم کیے منور حسن صاحب کے چلے جانے کے بعد آج اشکبار آنکھوں سے اپنے احساسات قلم بند کرنے لگی ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائے اور ان کو جنت کے باغوں کا مکین ٹہھرائے۔ آمین

سید منور حسن جنھیں بجا طور پر تحریک اسلامی کے کارکنان مرشد گرداننے لگے تھے، آپ ایک سچے عاشق رسول، اسوہ رسول کی پیروی میں کوشاں رہنے، حق و صداقت کے علمبردار، رزم حق و باطل میں فولادی مومن اور حلقہ یاراں میں ریشم کی طرح نرم تھے۔ آپ کی پوری زندگی جدوجہد، جستجو، اقامت دین کے قیام اور ظالم حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے سے عبارت ہے۔

آپ کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو علم ہوتا ہے کہ آپ دہلی کے ایک سید گھرانے میں 5 اگست 1941 کو پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ کے خاندان نے پہلے دہلی سے لاہور اور پھر کراچی ہجرت کی اور کراچی میں ہی مستقل سکونت اختیار کرلی۔

آپ نے زمانہ طالبعلمی سے ہی سیاست شروع کی اور پہلے پہل بائیں بازو کی طلبہ جماعت نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ ہوئے کہ برصغیر پاک و ہند پر کارل مارکس ، لینن اور اسٹالن کی حقیقت آشکار نہیں ہوئی تھی اور چہار سو سویت یونین کا طوطی سر چڑھ کر بول رہا تھا، پروپیگنڈے کے سحر میں اچھے اچھوں نے کمزور اور بے بس طبقات کی مسیحائی اور نجات دہندگی کا علمبردار کمیونسٹ پارٹی اور ان کی پروردہ تنظیموں ہی کو جانا تھا لیکن منور حسن کی دور رس نگاہوں پر جلد ہی آشکار ہوا کہ بورژوا سرمایہ داری کی مخالفت تو بس ایک ڈھونگ ہے جبکہ ان کی اصل مخاصمت تو مذہب کے ساتھ ہے ، لہذا کچھ ہی عرصے میں خود کو اس کاروان سے الگ کیا اور حق کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہوئے جون 1960 میں اسلامی جمعت طلبہ سے وابستہ ہوئے، یوں ایک طالب علم سید اپنے دور کے مجدد سید ابوالاعلی کے کاروان کے سپاہی ٹھہرے، جنھیں بعد میں میر کارواں ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔

اسلامی جمعیت طلبہ میں آپ نے کارکن سے ناظم اعلیٰ تک مختلف ذمے داریاں بخوبی نبھائیں اور کارکنان جمعیت کے لہو کو گرمانے کے ساتھ انھیں نظریاتی طور پر درست سمت میں رہنمائی دینے کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔ آپ نہ صرف اسلام کے سچے پیروکار اور مولانا مودودی کے فکر دین کے بہترین علمبردار تھے بلکہ دور حاضر کے باطل فتنوں سے بھی آپ کی خوب شناسائی تھی یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ مدلل اور مؤثر انداز میں ہر فتنے کا پردہ چاک کیا اور ببانگ دہل حق بات کا اظہار کرتے رہے۔

عملی سیاست کے لیے آپ نے جماعت اسلامی کا انتخاب کیا، 1967 میں جماعت اسلامی کے رکن منتخب ہوئے، جماعت اسلامی سے طویل وابستگی کے دوران آپ مختلف اہم ذمے داریوں پر فائز رہے جس میں انتہائی قابل ذکر 27 سال تک جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی نبھانا اور محترم قاضی حسین احمد کی علالت کے بعد امارت سے معذرت پر سید منور حسن صاحب کا پانچ سال تک جماعت اسلامی کا امیر بننا ہے۔ آپ 29 مارچ 2009 سے 29 مارچ 2014 تک جماعت اسلامی پاکستان کے امیر رہے۔ آپ کی امارت کا دور جماعت اسلامی کے کی تاریخ میں ہمیشہ بہترین ادوار میں لکھا جائیگا، عالمی سامراج اور مقامی استعماری قوتوں کے خلاف آپ کے بے لاگ انداز بیان اور بے باک مؤقف نے جماعت اسلامی کو ایک ممتاز حیثیت کا حامل ٹہھرایا۔

آپ اگرچہ جمہوریت سے اسلامی انقلاب آنے کی توقع نہیں رکھتے تھے لیکن حقیقی جمہوری عمل کو لوگوں سے رابطے اور انھیں ملک میں رائج جاگیر داری اور سرمایہ داری نظام کے خلاف آگاہی عام کرنے کا ایک بہترین ذریعہ سمجھتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے خود بھی 1977 کے انتخابات میں کراچی سے حصہ لیا اور ملک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے منتخب ہونے والے ممبر کا اعزاز اپنے نام کیا۔

آپ کے پیش رو امیر جماعت محترم قاضی حسین احمد صاحب آپ کے انتہائی قدر دان تھے۔ آپ دونوں بزرگوں میں ہمیشہ سے انتہائی محبت ، ادب، احترام اور بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا رشتہ قائم رہا۔ جناب قاضی حسین احمد صاحب کی امارت سے علیحدگی اور اراکین جماعت کا جناب سید منور حسن صاحب کو امیر جماعت منتخب کرنے کا وقت نہ صرف وطن عزیز میں اسلامی افکار اور اسلامی تحریکوں کے لئے ایک کٹھن وقت تھا بلکہ دنیا بھر میں امریکی سامراج اور اس کے حواریوں کی یلغار کی وجہ سے اس عظیم منصب کے لیے آپ سے بہترین کوئی امیدوار تھا بھی نہیں کہ ملک کی اندرونی خراب حالات، خطے میں عالمی دہشت گرد امریکہ کا بڑھتا اثرورسوخ، ملک پر مسلط امریکی حواریوں کی حکومت ، برادر اسلامی ملک افغانستان میں خلافت کا سقوط، ملک میں موجود اسلام پسندوں پر طرح طرح کی پابندیاں، عرب مجاہدین کی کردار کشی ، اسلامی اقدار کو تضحیک کا نشانہ بنائے جانا اور غیر اسلامی کلچر کو سرکاری سطح پر عام کرنے کی روش ایک ایسے مرد درویش کی امارت کا تقاضہ کرتی تھی جو ببانگ دہل حق بات کا اظہار کرے، درست سمت کی طرف قوم کی رہنمائی کرے اور کسی بھی ظالم ، جابر اور آمر کے سامنے حق کے اظہار پر اس کی زبان کبھی نہ لڑکھڑائے اور جو مفاہمت سکھانے کے خلاف ہو اور ہر بلا سے لڑنے کے لیے سربکف ہو۔
سید صاحب اس دور میں اس شعر کی صورت ابھرے کہ

جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے، رہے نہ رہے
وہ سچ ہی کہتے ہیں ،جب بولنے پہ آتے ہیں

انتہائی حساس معاملات پر آپ کے اصولی مؤقف اور لاگ لپیٹ کے بغیر کی جانے والی گفتگو جب بھی تاریخ کا طالبعلم پڑھے گا یا سنے گا تو بے ساختہ آپ کو سیاست کے میدان کا مرد درویش قرار دیتے ہوئے پکار اٹھے گا کہ:

ہزار خوف ھوں لیکن زبان ھو دل کی رفیق
یہی رہا ھے ازل سے قلندروں کا طریق

آپ کی درویش مزاجی سے یاد آیا کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے بی بی سی اردو سروس کے ایک پروگرام میں جب آپ سے سوال ہوا کے آپ اپنے اثاثے ڈیکلئیر کیوں نہیں کرتے تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ اثاثے وہ ڈیکلئیر کریں گے جن کے پاس ہوں، اپنے اثاثوں کے بارے میں سید صاحب نے بتایا کہ کراچی میں سو گز زمین پر ان کی بیوی کے نام ایک گھر ہے جس میں ان کی رہائش ہے ، اس ایک گھر کے علاوہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں جو اثاثوں کے زمرے میں آئے۔

آپ کی درویش مزاجی کی ایک اور مثال جس کی نظیر عصر حاضر میں کہیں بھی نہ ملے کہ آپ کی بیٹی کی شادی ان دنوں ہوئی جب آپ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تھے، دوست ، احباب نے شادی کے موقع پر حسب روایت تحفے تحائف بھیجے اور آپ نے وہ تمام تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں یہ کہہ کر جمع کروائے کہ یہ منور حسن کو ذاتی حیثیت میں نہیں ملے بلکہ امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے ملے ہیں اس لیے میں انھیں لینے کا حقدار نہیں اور یہ سب جماعت کی ملکیت ہیں۔

بالکل ایسا ہی ایک واقع ہے کہ آپ نے اپنے بیٹے سید طلحہ حسن کی شادی کا کوئی مہنگا کارڈ چھپوانے کے بجائے اپنے ہاتھ سے انتہائی خوشخط اور دیدہ زیب انداز میں شادی کی دعوت تحریر کرکے بجھوایی اور ولیمے کے موقع پر جب نامی گرامی افراد موجود تھے ، آپ نے کسی قسم کے تصنع کا مظاہرہ کرنے کے بجائے چائے بسکٹ سے مہمانوں کی تواضع کی۔

اپنے دور امارت میں آپ کی اصول پسندی کو اکثر آپ کی سخت مزاجی سے تعبیر کیا جاتا رہا اور سیاسی معاملات میں آپ کی بے لچک تبصروں پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شدید تنقید بھی ہوتی رہی۔ ایک موقع پر جب آپ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر افغانستان اور وزیرستان پر حملہ آور امریکی فوجی ہلاک ہیں تو ان کے معاون پاکستانی فوجی کیوں کر شہید کہلا سکتے ہیں تو اقتدار کے ایوانوں میں گویا قیامت ٹوٹ پڑی اور آئی ایس پی آر نے جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا کہ اس بیان کو سید صاحب کا ذاتی بیان کہہ کر تنظیمی طور پر اس سے دستبردار ہوا جائے اور اس پر معذرت کی جائے لیکن سلام ہے مرکزی شوریٰ کے ان تمام معزز ممبران کو جنھوں نے اللہ کے سامنے سر جھکانے کے بعد کسی اور قوت کے سامنے نہ جھکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس مؤقف پر ڈٹنے اور معافی نہ مانگنے کا اعلان کیا۔

سید صاحب سیاسی معاملات میں فوج کی بے جا مداخلت کو سیاسی عمل کی موت اور ملک کے نقصان سے تعبیر کرتے تھے۔

آپ نے نیٹو افواج کو سپلائی میں پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ، ڈرون حملوں اور خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے “گو امریکہ گو” مہم چلائی اور عوام میں یہ شعور اجاگر کیا کہ امریکی مفادات کے لیے کی جانے والی اس خونریزی سے ہماری افواج کو لاتعلق ہو جانا چاہئیے۔ امریکہ کی شکست آپ یوں بیان کرتے تھے گویا کہ یہ نوشتہ دیوار ہو۔

آپ نے زندگی کی آخری سانس تک احیائے اسلام کی جدوجہد کی۔ آپ کا انتقال نہ صرف پاکستان کے لیے ایک المیہ ہے بلکہ دنیا بھر میں بر سرپیکار اسلامی تنظیمیں ایک طویل مدت تک آپ کی کمی کو محسوس کریں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سید صاحب کے مشن کو آگے لے جانے کی توفیق دے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور عالمی سامراج اور مقامی استعماری قوتوں کے خلاف سید صاحب جیسی متبادل توانا آواز عطا فرمائے۔

میں اپنی تحریر عائشہ غازی کی اس نظم پر ختم کروں گی کہ :

“وہ بجھ گیا ہے”

فضا پہ چھائی ہوئی سیاہی
بتا رہی ہے
کہیں کوئی آخری ستارہ چمک رہا تھا
وہ بجھ گیا ہے

وہ بجھ گیا ہے
جو ظلمتوں میں بھی روشنی پر ڈٹا رہا تھا
کہ جب بڑے نامدار سورج بجھے پڑے تھے
وہ اک اکیلا نحیف شعلہ کھڑا رہا تھا

ستم کے موسم میں
اپنے قاتل کے منتظر جب
خود اپنی قبروں میں سر جھکائے پڑے ہوئے تھے
کہ جب زبانیں خود اپنے پہرے پہ جاگتی تھیں
وہ بولتا تھا
وہ ایسی جرات سے بولتا تھا
کہ جیسے قاتل کا تاج شاہی اچھالتا ہو

ہوا کا سکتہ بتا رہا ہے
جو اتنے کتبوں کے بیچ زندہ کھڑا ہوا تھا
وہ آخری شخص مر گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں