213

دسمبر آ چکا ہے

تحریر شئیر کریں

دسمبر آ چکا ہے… اور یہ دسمبر تمہارے بغیر نہیں، صرف تمہارے لیے ہے۔
یہ میرا عدّت کا آخری ہفتہ ہے… چند دن بعد ایک اور دروازہ بند ہو جائے گا۔
پر وہ دروازہ تم سے نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ جو رشتہ دل سے بندھ جائے
وہ کاغذوں یا تاریخوں سے کب ختم ہوتا ہے؟
سچ کہوں… جس لمحے یہ خیال آیا کہ
“میں اس گھر میں اکیلی ہوں مگر ہمارے بیچ کی نشانی—تمہاری بیٹی—
میرے پہلو میں سو رہی ہے…”
تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔
بھلا تم سے رشتہ ٹوٹ سکتا ہے؟
رشتہ ایک ہوتا ہے کیا؟
تم تو سانسوں میں، عادتوں میں، ہر دعا کے آخر میں ہو۔
تم سے رشتہ کیسے ٹوٹے گا… یہ تو زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
تم 8 سال، 8 ماہ اور 9 دن میری زندگی میں رہے—
کبھی خوشیاں بن کر، کبھی آزمائش بن کر،
مگر ہمیشہ میری قسمت کی لکیر بن کر۔
پھر ہماری بیٹی آئی…
اور زندگی کے سارے رنگ بدل گئے۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ آخری عمر کی اولاد کمزور ہوتی ہے،
انہیں کیا خبر کہ یہ اولاد تو دِل میں اُتر کر بس جاتی ہے۔
وہ بیٹی تمہاری شبیہ ہے…
اور جب میں اسے دیکھتی ہوں تو یوں لگتا ہے
جیسے تم مجھ سے دور نہیں، میرے دل کے سب سے قریب ہو
میں آج کی اس شام تم سے شکوہ نہیں کرتی۔
شکوے زندوں سے ہوتے ہیں۔
تم تو اب خاموش ہو گئے ہو۔
مٹی کی خاموشی میں کوئی جواب نہیں ہوتا۔
میں تو بس یہ کہنا چاہتی ہوں:
تم میرے لیے کبھی بنجر نہیں تھے۔
تم نے تھکایا ضرور،
مگر توڑا نہیں۔
تم چلے گئے،
مگر اپنے بعد ایک زندگی چھوڑ گئے—
وہ زندگی جس میں تمہارا رنگ
روز جھلکتا ہے۔
سنو…
اگر روحوں تک یہ لفظ پہنچتے ہیں
تو جان لینا:
میں نے تمہیں معاف کیا۔
سچ میں معاف کیا۔
اس لیے نہیں کہ تم نے غلط کیا تھا…
بلکہ اس لیے کہ اب تمہارے پاس
واپس آنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہا۔
تمہاری قبر تک میری دعا پہنچے—
میرا اللہ تمہاری بےچینی ختم کرے،
تمہاری روح کو سکون دے،
اور تمہاری خاموشی کو روشنی سے بھر دے۔
دسمبر کی آخری شام گواہ رہنا—
میں نے تمہیں رخصت کر دیا ہے…
مگر بھلایا نہیں۔
تم اب بھی وہی ہو:
میری زندگی کا ایک پورا باب
جو ختم تو ہوا
مگر مٹ نہیں سکا۔
روبینہ شاہین
60 December 2025

دسمبر آ چکا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں