رمضان کا مہینہ خواتین کے لیے ایک ٹف ترین ٹاسک ہوتا ہے
تحریر : لبنٰی جمشید
قرآن کریم میں سورة بقرہ کی آیت نمبر 183 میں روزے کے بارے میں بیان ہے۔
ترجمعہ : اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے امید ہے کہ تم تقوی اختیار کرو گے۔
روزہ ہر بالغ و عاقل مسلمان, مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے تاہم وہ خواتین جو حیض اور نفاس کی حالت میں ہوں, وہ رمضان مبارک کے روزے صحتیاب ہونے کے بعد رکھ سکتی ہیں۔ یعنی کہ چھہٹ بالکل بھی نہیں ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ یہ خالص اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔
اس سال 2020 کے رمضان کے بابرکت مہینے میں خواتین کی ذمہ داریاں گذشتہ رمضان کی نسبت بڑھ گئی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث مرد حضرات گھر پر موجود ہیں ۔ اس سے قبل روزے کے دوران بچوں کی دیکھ بال اور کھانا پکانے کا اہتمام لازمی جزو تھے۔ اب کے سال اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں مردوں کی ایک بڑی تعداد اپنا تمام تر کام عورتوں سے کروانے کی عادی ہے۔
کیا اس رواج کو بدلنا چاہیے؟
اسلامی نظریے سے دیکھا جاۓ تو معاشرے میں کمانے کی ذمہ داری مردوں کے کندھے پر جبکہ گھر سنبھالنا عورتوں کا کام ہے۔ موجودہ دور میں مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر وہ کمانے میں مرد کا ساتھ دے سکتی ہیں تو مرد کے لیے بھی عورت کو گھر کے کاموں میں سپورٹ کرنا چاہیے۔ اس رمضان مرد حضرات کو نئی روایت قائم کرنی چاہیے تاکہ خواتین بخوبی اپنا کردار نبھا سکیں۔
خواتین اور کچن
رمضان کریم میں خواتین اور کچن لازم و ملزم ہیں۔ سحری سے شروع ہونے والا یہ سرکل رات گئے ختم ہوتا ہے۔ سحری کے لیے پکوان اور پراٹھے تیار کرنا۔ پھر دوبارہ سے صبح چھوٹے بچوں یا گھر ک ضعیف افراد کا ناشتا بنانا اس کے بعد افطاری اور ڈنر کا خاص اہتمام ۔۔ برتنوں کی دھلائی کچن اور دیگر گھر کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ کپڑوں کی دھلائی سے بھی رمضان میں استشنی حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مزے مزے کے پکوان خواتین کی ہی مرہون منت ہیں۔
عبادات کا اہتمام
مرد حضرات کی طرح خواتین کے لیے بھی رمضان کریم میں خصوصی عبادات کا اہتمام فرض ہے۔ فرض نمازوں کےعلاوہ صلواة تسبیح و تراویح سے ان کے دلوں میں عشق الہی پیدا ہوتا ہے۔ عبادت زندگی گزارنے کا بہترین قرینہ سکھاتی ہے۔ یہ عورت ہی ہے جس کے مرہون منت نسل آدم کی تخلیق و تربیت ہے۔ رمضان میں خواتین کے لیے اپنے بچوں خصوصاََ بیٹیوں کو گاہے بگاہے بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے رہناچاہیے تا کہ ان میں اسلامی شعور اجاگر ہو۔
اہل و عیال سے بھلائی
رمضان میں خواتین کو اپنے اردگرد کے رشتوں کا خاص احترام قائم رکھتے ہوۓ کسی بھی دل آزاری سے گریز کرنا چاہیے۔ اور مستحق خواتین کا خاص خیال رکھتے ہوئے ان کی ضروریات کو پورا کرکے روزے کا حق ادا کریں۔ غیبت اور چغلی سے پرہیز کریں تاکہ اللہ ان سے راضی ہو اور عبادات قبول فرماۓ۔
ہمیں خواتین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ اس سال رمضان 2020 میں ان کے کندھے کا بوجھ بانٹنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ عبادات کی حقیقی روح سے سرشار ہو سکیں۔