انسانی فطرت کا یہ ایک عجیب خاصہ ہے کہ وہ اکثر ہیچ اور عارضی لذتوں کے حصول میں ان لمحات کو گنوا دیتا ہے جو اس کی ابدی کامیابی کی بنیاد بن سکتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں سرخرو ہوئیں جنہوں نے وقت کی قدر کو پہچانا۔ رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جو روح کی تطہیر اور خالق سے تعلق جوڑنے کے لیے عطا کیا گیا تھا، مگر افسوس کہ آج ہم نے اس مبارک مہینے کو لہو و لعب اور میدانوں کی زینت بنا کر ایک رمضان اور کرکٹ المیہ پیدا کر دیا ہے۔
آج جب ہم رمضان کی مقدس راتوں میں Time management کی بات کرتے ہیں، تو ہمارا نوجوان موبائل کی اسکرین پر West indies cricket team vs zimbabwe national cricket team standings دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس بابرکت مہینے میں عبادت کے بجائے کھیل کا یہ خبط ایک قومی المیہ بن چکا ہے۔ وہ وقت جو سجدوں کے لیے تھا، وہ اب england cricket team کی کارکردگی پر بحث کرنے میں گزر جاتا ہے۔ حیا اور اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم اپنی نظروں اور دلوں کی حفاظت کرتے، مگر ہماری ترجیح یہ بن چکی ہے کہ south africa national cricket team کے پوائنٹس ٹیبل پر کیا پوزیشن ہے۔
رمضان میں سحری اور افطاری کے اوقات میں Diet management اور Sleep management کا ستیا ناس کر دیا گیا ہے تاکہ رات بھر کرکٹ کھیلی جا سکے یا میچ دیکھے جا سکیں۔ یہ طرزِ زندگی نہ صرف ہماری صحت کے لیے تباہ کن ہے بلکہ ہماری روحانیت کو بھی دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ رمضان اور کرکٹ المیہ دراصل ہماری ترجیحات کے بگڑنے کا نام ہے۔
جدید لبرل طبقہ اسے ‘اسپورٹس مین اسپرٹ’ کا لبادہ پہنا کر پیش کرتا ہے، مگر یہ درحقیقت ہمیں اپنی جڑوں سے کاٹنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ جب ہم Screen management کو نظر انداز کر کے سوشل میڈیا پر یہ سرچ کرتے ہیں کہ yoast seo paraphrasing keyword adjustment کیسے کرنی ہے یا یہ کہ yoast seo kes krta ہے تاکہ کرکٹ کی ویب سائٹس پر ٹریفک لائی جا سکے، تو ہم بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد ‘تقویٰ’ کی ٹریفک کو اپنے دل کی جانب موڑنا تھا۔ مغرب کی منافقت دیکھیے کہ وہ ہمیں تفریح کے نام پر غافل رکھتے ہیں اور ہم اپنی بہترین توانائیاں لایعنی کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں۔
اختتام
یاد رکھیے! میدانِ کرکٹ کی جیت اور ہار عارضی ہے، مگر آخرت کا میدان وہ ہے جہاں کوئی دوسرا موقع نہیں ملے گا۔ ہمیں اپنے اس ‘کرکٹ کے جنون’ کو لگام دینی ہوگی اور رمضان کی حرمت کا پاس رکھنا ہوگا۔ حل صرف ایک ہی ہے: ضمیر کی آواز سنیں، اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنی زندگی کو ان چاروں مینجمنٹ (وقت، خوراک، نیند اور اسکرین) کے اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ اللہ ہمیں اس رمضان اور کرکٹ المیہ سے بچنے اور اس مہینے کو اپنی بخشش کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔