
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیب کی عمارت اخلاق کی اینٹوں پر کھڑی ہوتی ہے، لیکن جب معاشرہ انا اور جہالت کے غلبے میں آ جائے تو انسان نما درندے جنم لیتے ہیں۔ سقراط نے کہا تھا کہ “ظلم کی انتہا یہ ہے کہ تم حق کو جانتے ہوئے بھی باطل کا ساتھ دو”۔ آج کوہاٹ کی زمین ایک ایسی ہی بیٹی کے خون سے رنگین ہوئی ہے جس کا قصور صرف مروجہ حدود اور حیا کی پاسداری کا حکم دینا تھا۔
ڈی ایچ کیو کوہاٹ کی سی ایم او ڈاکٹر مہوش حسنین کا قتل دراصل اس نظامِ عدل اور اخلاقی ڈھانچے کا قتل ہے جسے ہم ڈھونڈنے نکلے تھے۔ ایک مسیحا، جو شام کی ڈیوٹی کے بعد اپنے ننھے بچوں کی مسکراہٹیں سمیٹنے گھر جا رہی تھی، اسے محض اس لیے سات گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا کہ اس نے اسلامی اقدار اور حیا کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ایک مرد کو خواتین کے مخصوص حصے سے باہر جانے کا کہا۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔ ایک ڈاکٹر جو لوگوں کی جان بچانے کے لیے وقف تھی، وہ خود ایک ایسی انا کا شکار ہو گئی جس کے پیچھے کوئی منطق نہیں، صرف ایک جاہلانہ ضد تھی۔ ان کے معصوم بچے آج بھی اس دہلیز پر بیٹھے ہیں جہاں سے ان کی ماں اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔
یہاں مغربی منافقت اور ہمارے نام نہاد لبرل طبقے کا دوغلا پن بھی واضح ہوتا ہے۔ جب بات خواتین کے حقوق کی آتی ہے تو بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن جب ایک باحجاب اور باوقار خاتون ڈاکٹر اپنے کام کی جگہ پر اخلاقیات اور صنفی حدود کا نفاذ چاہتی ہے، تو معاشرے کا وحشی پن اسے خاموش کر دیتا ہے۔ کیا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ڈاکٹر مہوش کی چیخیں سنائی نہیں دیں؟ کیا ان کا حقِ زندگی کسی سیاسی ایجنڈے سے کم تر تھا؟ جدیدیت کے نام پر ہم نے ٹیکنالوجی تو اپنا لی، مگر انسانیت اور ظرف کے معاملے میں ہم پتھر کے دور سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔
ڈاکٹر مہوش حسنین نے اپنے فرض کی ادائیگی میں جان دے کر یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف دنیاوی عہدوں میں نہیں، بلکہ اپنے موقف پر ڈٹ جانے اور اللہ کے حضور سرخرو ہونے میں ہے۔ وہ ان شاء اللہ شہادت کے رتبے پر فائز ہیں، مگر سوال ان لوگوں کے لیے ہے جو خاموش تماشائی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اس وحشیانہ سوچ کا راستہ روکیں جو مسیحاؤں کو لہو لہان کر رہی ہے۔ انصاف کی فراہمی صرف ایک خاندان کی تسلی نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے بچوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
قتل ڈاکٹر مہوش حسنین؛ درندگی کا رقص