329

قصہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ

تحریر شئیر کریں

قصہ شہادت عثمان رضی اللہ عنہ

حضرت عثمان ؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق یہ یقین تھا کہ ان کی شہادت مقدر ہوچکی ہے۔[74]آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مرتبہ ان کو اس سانحہ سے خبردارکیا تھا اور صبر واستقامت کی تاکید فرمائی تھی،حضرت عثمان ؓ اس وصیت پر پوری طرح قائم تھےاورہر لمحہ ہونے والے واقعہ کے منتظر تھے، جس دن شہادت ہونے والی تھی، آپ روزہ سے تھے جمعہ کا دن تھا خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر ؓ وعمرؓ تشریف فرما ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ عثمان جلدی کرو، تمہارے افطار کے ہم منتظر ہیں،بیدار ہوئے تو حاضرین سے اس خواب کا تذکرہ کیا، اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ میری شہادت کا وقت آگیا،باغی مجھے قتل کرڈالیں گے،انہوں نے کہا امیر المومنین! ایسا نہیں ہوسکتا!فرمایا میں یہ خواب دیکھ چکا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ‘‘ عثمانؓ آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا،[75] میں یہ دونوں خواب مذکور ہیں اور ابن حنبل میں صرف پہلے خواب کا ذکر ہے)پھر پائجامہ جس کو کبھی نہیں پہنا تھا،منگوا کر پہنا،[76] اپنے بیس غلاموں کو بلاکر آزاد کیا اورقرآن کھول کر تلاوت میں مصروف ہو گئے۔

باغیوں نے مکان پر حملہ کر دیا،حضرت امام حسن ؓ جو دروازہ پر متعین تھے مدافعت میں زخمی ہوئے،چار باغی دیوارپھاند کر چھت پر چڑھ گئے، ایک دوسرے شخص کنانہ بن بشر نے آگے بڑھ کر پیشانی مبارک پر لوہے کی لاٹ اس زور سے ماری کہ پہلو کے بل گرپڑے، اس وقت بھی زبان سے ‘‘بسم اللہ توکلت علی اللہ’’ نکلا سودان ابن حمران مراوی نے دوسری جانب ضرب لگائی جس سے خون کا فوارہ جاری ہو گیا، ایک اورسنگدل عمر وبن الحمق سینہ پر چڑھ بیٹھا اور جسم کے مختلف حصوں پر پے درپے نیزوں کے نوزخم لگائے،کسی شقی نے بڑھ کر تلوار کا وارکیا،وفادار بیوی حضرت نائلہ نے جو پاس ہی بیٹھی تھیں ہاتھ پر روکا،تین انگلیاں کٹ کر الگ ہوگئیں،وارنے ذوالنورین ؓ کی شمع حیات بجھادی،اس بے کسی کی موت پر عالمِ امکان نے ماتم کیا، کائنات ارضی وسماوی نے خون ناحق پر آنسو بہائے ،کارکنانِ قضا وقدرنے کہا جو خون آشام تلوار آج بے نیام ہوئی ہے وہ قیامت تک بے نیام رہے گی اورفتنہ وفساد کا جو درازہ کھلا ہے وہ حشر تک کھلا رہے گا۔ [77] شہادت کے وقت حضرت عثمان ؓ تلاوت فرما رہے تھے،قرآن مجید سامنے کھلا تھا، اس خون ناحق نے جس آیت کو خون ناب کیا وہ یہ ہے: “فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللہُo وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ” “خدا تم کو کافی ہے اوروہ سننے اورجاننے والا ہے۔” جمعہ کے دن عصر کے وقت شہادت کا واقعہ پیش آیا، دودن تک لاش بے گوروکفن پڑی رہی،حرم رسول میں قیامت برپا تھی،باغیوں کی حکومت تھی، ان کے خوف سے کسی کو علانیہ دفن کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی،سنیچر کا دن گزرکررات کوچند آدمیوں نے ہتھیلی پر جان رکھ کر تجہیز وتکفین کی ہمت کی اورغسل دیے بغیر اسی طرح خون آلود پیراہن میں شہید مظلوم کا جنازہ اٹھایا اور کل سترہ افراد نے کابل سے مراکش تک کے فرماں روا کے جنازہ کی نماز پڑھی،مسند ابن جنبل میں ہے کہ حضرت زبیرؓ نے اورابن سعد میں ہے کہ حضرت جبیر بن معطم ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے پیچھے حش کو کب میں اس حلیم و برد باری کے مجسمہ اوربیکسی ومظلومی کے پیکر کو سپرد خاک کیا [78] بعد کو یہ دیوار توڑکر جنت البقیع میں داخل کر لیا گیا، آج بھی جنت البقیع کے سب سے آخر میں مزار مبارک موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں