272

لاء آف اٹریکشن اور جنت

تحریر شئیر کریں

لاء آف اٹریکشن اور جنت
رونڈا برن کی کتاب “The Secret” میں بیان کردہ لا آف اٹریکشن کے اصول کے مطابق، جو کچھ آپ شدت کے ساتھ سوچتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں، وہ آپ کی زندگی میں حقیقت بن جاتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد یہ ہے کہ ہماری سوچوں کی توانائی اور ارتعاشات مخصوص فریکوئنسی پیدا کرتے ہیں، جو ہماری زندگی میں ہم آہنگ چیزوں کو کھینچتی ہیں۔

اگر ہم اس نظریے کو لے کر اپنے اصل گھر، یعنی جنت کا تصور کریں، تو یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی سوچوں کو اس سمت میں مرتکز کرسکیں گے۔ یہاں کچھ طریقے دیے گئے ہیں جن سے ہم جنت کا تصور کر سکتے ہیں:

1. تصور کرنا:

جنت کے حسین مناظر کے بورے میں تصور کریں سوچیں ہمارا اصل اور ابدی گھر کیسا ہوگا ؟ہر وہ چیز جس کا حصول دنیا میں مشکل ہے وہاں کتنا آسان ہوگا میں بچوں  کو قرآن پڑھاتے ہوئے تصور کرواتی ہوں کہ سوچیں آئس کریم کا پہاڑ ہے اور آپ اس پر لیٹ کر آئس کریم کھا رہے ہیں توبچوں کی آنکھیں ایک دم حیرت اور تجسس سے پھیل جاتی ہیں کیا ایسا بھی ممکن ہے؟اور میں کہتی بالکل ممکن ہے اگر ہم اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزاریں گے اور اچھے اچھے کام کریں گے تو یہ سب ممکن ہوگا ۔آپ بھی لاء آف اٹریکن اور جنت جو چیز پسند کرتے ہیں اس کے بارے میں تصور کر کے خود کو جنت کی نعمتوں کی تریب دے سکتے ہیں۔

2. جنت کے حصول کی دعا کرنا:

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نےصبھ وشام کی دعاوں میں جنت کی دعا کرنے کی تلقین کی ہے جنت ایک ایسی نعمت ہے جس سے بڑی کوئی نعمت نہیں اور اگر یہ چھن گئی خدانخواستہ تو اس سے بڑا کوئی نقصان بھی نہیں اس لئے روزانہ کی دعاوں میں اس کو مانگیں اور اس کے حصول کے لئے کوشش کریں ،عمل کریں۔روزانہ رات سوتے وقت دعا کے ساتھ ساتھ سوچیں ایک دن ہم جنت میں جائیں گے اور وہاں ک راتیں کیسے ہوں یں آج کل شدید گرمی میں تصور کریں حسین نظاروں کا آبشاروں کا،اچھا محسوس ہوگا۔

3. شکرگزاری:

جنت کے تصور کے ساتھ شکرگزاری کی عادت ڈالیں۔ جو چیزیں آپ کے پاس ہیں، ان کے لئے شکرگزار ہوں اور جنت میں موجود نعمتوں کی خواہش کریں۔شکر کی عادت نبیوں کی ہے کر سے اللہ اور دیتا ہے اور ناشکری سے جو پاس ہوتا وہ بھی چھن جاتا ہے

4. نیک کام:

نیک اعمال کریں زیادہ سے زیادہ تاکہ جنت کا حصول ممکن ہو سکے،قرآن میں اللہ کہتا ہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لئے جنت کی نعمتیں ہیں خالی ایمان لانے سے جنت نہیں ملے گی ،یہ مشقتوں کانٹوں سے بھرا راستہ ہے جسے طے کرنے والے ہی جنت کے حق دار ہوں گے ان شاء اللہ

5. قرآن وحدیث کا مطالعہ:

جنت کے بارے میں مستند معلومات کا زریعہ قرآن و حدیث ہیں اس لئے قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں ان اعمال کو عمل میں لائیں جو جنت تک پہنچا سکیں،جہنم سے بچنے کی دعائیں کریں تاکہ جنت کے قریب ہو سکیں ،نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی گارنٹی دیتاہوں وہ شرم گاہ اور زبان ہیں”اس طرح کی احادیث ہمیں اعمال پہ ابھارتی ہیں۔

رونڈا برن کی تھیوری کے مطابق، اگر ہم جنت کے تصور کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کریں اور اس کی شدت کے ساتھ سوچیں، تو یہ ہمارے روحانی سفر میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور ہمیں جنت کے قریب لے جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ ایک نظریاتی تصور ہے اور اس کی حقیقت کا انحصار ہر فرد کے ایمان اور یقین پر ہے۔

لاء آف اٹریکشن اور جنت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں