
صحت کے ماہرین صدیوں سے لونگ اور دارچینی کو قدرتی شفا کا خزانہ کہتے آئے ہیں۔ “کتاب الطب النبوی” میں دونوں کو بدن کو گرمائش، قوت اور ہاضمے کے لیے نہایت مفید بتایا گیا ہے۔ طبِ ہندس اور یونانی اطبا بھی انہیں جسمانی توازن کے لیے بنیادی مصالحہ قرار دیتے ہیں۔
مشہور یونانی حکیم جالینوس کے ایک قول کے مطابق:
“دارچینی بدن میں وہ حرارت پیدا کرتی ہے جو قوتِ ہاضمہ کو مضبوط کرتی ہے۔”
اسی طرح قدیم چینی طب میں درج ہے:
“لونگ دل و دماغ کو بیدار کرتی ہے اور معدے کے نظام کو روا رکھتی ہے۔”
جدید تحقیق بھی انہی فوائد کی تائید کرتی ہے۔ Journal of Medicinal Food میں شائع ایک ریسرچ کے مطابق:
“دارچینی خون میں گلوکوز کے لیول کو متوازن رکھنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے، جس سے وزن اور توانائی دونوں پر مثبت اثر پڑتا ہے۔”
جبکہ International Journal of Food Sciences میں درج ہے:
“لونگ میں موجود Eugenol سوزش کم کرتا ہے اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات رکھتا ہے۔”
1. ہاضمہ بہتر
قدیم طب کی مشہور کتاب “الحاوی” میں لکھا ہے:
“لونگ و دارچینی کا جوشاندہ بھاری پن اور نفخ کو کم کرتا ہے۔”
2. وزن اور میٹابولزم
جدید تحقیق کے مطابق دارچینی انسولین حساسیت بہتر بناتی ہے، جبکہ لونگ جسمانی چربی کے میٹابولزم کو سپورٹ کرتی ہے۔
3. سردی، فلو اور قوتِ مدافعت
طبِ مشرق میں دونوں کو سردی کے موسم کی سب سے طاقتور جڑی بوٹیاں سمجھا جاتا ہے۔
استعمال کا قدیم و جدید طریقہ
ایک کپ پانی میں 2 لونگ اور آدھی چھڑی دارچینی ڈال کر 5–7 منٹ ابالیں۔
حکیم ابنِ سینا نے بھی مشابہ قہوہ کو “جسم کی قوت بڑھانے والا” قرار دیا ہے۔
لونگ اور دارچینی کا کمال