306

مایوس

تحریر شئیر کریں

مایوس

اگر تم اپنی زندگی سے الجھ بیٹھی ہو اور مایوس ہو گئی ہو تو سنو پیاری!
میری یہ تحریر تمہارے نام ہے۔
اداس نہ ہو۔ تمھارا رب تمھارے ساتھ ہے۔ کیا تمہیں اپنے رب پہ یقین نہیں ہے کہ وہ تمہیں تمہاری مشکل سے نکال دے گا؟ میں جانتی ہوں کچھ بھی جلد ٹھیک نہیں ہوتا، وقت لگتا ہے۔ سلجھنے میں وقت لگتا ہے، اندھیرے کے چھٹنے میں اور اجالے کے نمودار ہونے میں بھی وقت لگتا ہے لیکن یہ گزرتا وقت یقیناً بعد میں بہت خوبصورت ہوگا۔ تاخیر میں ہی خیر ہو گی۔ جانتی ہو کیسے؟ کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ جب اسکا دنیا سے دل بھر جاتا ہے تو وہ اپنے رب کی طرف لپکتا ہے۔ اس دوران تم بھی بار بار رجوع الی اللّٰہ کرو گی اور تم یہ بھی جان چکی ہو گی

کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی آسرا نہیں، ہاں سننے والے بہت ہیں لیکن وہ تمام سننے والوں سے بہترین ہے۔ تو پتہ ہے کیا؟ یہ وقت تمہیں تمہارے رب کے قریب کردے گا۔ تم صبر رکھو۔ اللّٰہ کی طرف خود کو جھکا دو۔ وہ بڑا قدردان ہے، وہ تمہیں کبھی اگنور نہیں کرتا۔ تمہاری بے شمار غلطیوں کے باوجود وہ تمہیں تھامے ہوئے ہے۔ تم قرآن کھول کر تو دیکھو وہ تمہیں دلاسے دیتا ہے، کبھی لَا

تَقْنَطُوْا (مایوس نہ ہو) تو کبھی لاَ تَحْزَنْ (غم نہ کرو) کی صورت میں۔ اسکی رحمت میں بڑی وسعت ہے۔ یقین رکھو کہ وہ تمہاری تنگی کو اپنی رحمت سے وسیع کردے گا۔ وہ تمہارے بہتے آنسوؤں کا بدلہ بہت خوبصورت انداز میں دے گا۔ اور دیکھو پیاری دعاؤں سے اللّٰہ کے ساتھ اپنا رشتہ مظبوط کرو۔ وہ تمہیں تمہاری اصل راہ دکھا دے گا۔ یہ بھی یقین رکھو کہ سب سے پائیدار تعلق رب العالمین کے ساتھ ہی ہے، اس پر بھروسہ تمہیں کبھی گرنے نہیں دے گا۔ اس سے امید تمہیں خالی نہیں لٹائے گی۔ اس کی محبت تمہیں کافی ہے اور تمہارے سارے ناطوں سے جن سے تم آج اکتا بیٹھی ہو صرف وہی قریب تر ہے۔ دیکھو تمہارا رب خود فرماتا ہے کہ:

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ(۱۸۶)
اور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں نزدیک ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں۔ (البقرہ : 186)

تو سنو کیا یہ اللّٰہ کی تمہارے لیے محبت نہیں ہے کہ وہ فرما رہا ہے فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ تو اداسی کیسی؟ تم نے تو مومنہ کی صفت اپنانی ہے اور مومنہ کبھی مایوس نہیں ہوا کرتی۔ اس پر یقین رکھو، اپنے معاملات اس کے حوالے کر دو اور کہو
وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ
اور میں اپنے معاملات اللّٰہ کو سونپتی ہوں۔

اور پھر وہ تو اللہ ہے۔ تمہاری اس بات کا بہت مان رکھے گا اور تمہارے سب کام سنوار دے گا۔ ان شاء اللہ۔

ازقلم سلمیٰ نواز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں