227

ملٹھی کے فوائد

تحریر شئیر کریں

تحریر: روبینہ شاہین

ملٹھی کے فوائد

ملٹھی… ایک سادہ سی لکڑی نما جڑ، مگر حقیقت میں اپنے اندر وہ تاثیر رکھتی ہے جس نے اسے صدیوں سے حکمت، طبِ نبویؐ اور گھریلو نسخوں میں خاص مقام دیا ہے۔ یہ پودا گرم اور نیم خشک علاقوں میں اگتا ہے، اس کے ذائقے میں ایک مٹھاس ہے جو زبان پر پھیلتے ہی حلق تک نرمی اور سکون اُتار دیتی ہے۔ موجودہ موسم میں جب گلے کی خراش، کھانسی اور نزلہ عام ہیں، ملیٹھی اپنی پوری تاثیر کے ساتھ فطرت کا ایک نرم سا تحفہ محسوس ہوتی ہے۔

—

اسلامی و تاریخی پس منظر

قدیم یونانی حکیم اسے “شفا بخش جڑ” کہتے تھے، اور عرب اس کے رس کو سلیمِ حلق یعنی گلے کا دوست کہتے رہے۔ بعض روایات میں اسے حلق، سینہ اور معدے کے لیے خیر کا سبب کہا گیا ہے، اور طبِ نبویؐ و طبِ یونانی دونوں میں اس کا استعمال مشترک پایا جاتا ہے— یہی اس کی افادیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

—

ملیٹھی کے اجزاء

100 گرام کے حساب سے:
کیلوریز: تقریباً 375
پروٹین: 9–10%
قدرتی شکر: 50% کے قریب
ریشہ: 13%
چکنائی: نہ ہونے کے برابر

اس کے علاوہ:
فاسفورس، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم، گلائسریزین، فلیونوئڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس کی بھرپور مقدار اسے غذا اور دوا دونوں کے طور پر طاقتور بناتی ہے۔

—

ملیٹھی کے فوائد

1) گلے کی خراش اور کھانسی کے لیے

اگر گلا پک گیا ہو، آواز بیٹھ جائے، یا سینے میں جلن ہو تو ملیٹھی کا قہوہ وہ نرمی بخشتا ہے جو کسی دوسری جڑی بوٹی میں یوں یکجا نہیں ملتی۔
اسے شہد کے ساتھ لینے سے کھانسی کی شدت ٹوٹتی ہے اور سانس کی گہرائی بحال ہونے لگتی ہے۔

—

2) دمہ اور سانس کی تنگی میں آرام

طبِ یونانی میں ملیٹھی کو “مفتحِ مجاری” یعنی سانس کی نالیوں کو کھولنے والی دوا کہا گیا ہے۔
اس کا رس بلغم کو نرم کرکے خارج ہونے میں مدد دیتا ہے، اور دمہ کے مریضوں میں سانس کی روانی بہتر کرتا ہے۔

—

3) معدہ، تیزابیت اور بھاری پن

اگر معدہ گرم رہتا ہے، تیزابیت اٹھتی ہے، یا کھانا دیر سے ہضم ہوتا ہے تو ملیٹھی اطمینان بخش راحت دیتی ہے۔
یہ معدے کی جھلی پر ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے، زخم بھرنے میں مدد دیتی ہے اور جلن کو ختم کرتی ہے۔

—

4) جگر کے لیے معاون

ملیٹھی میں موجود گلائسریزین جگر کو سوزش سے بچاتا ہے۔
قدیم اطباء اس کی جڑ کو “صاف کنندۂ جگر” کہتے آئے ہیں—
یہ خون کی صفائی، صفرا کے اخراج اور جگر کی کمزوری میں معاون سمجھی جاتی ہے۔

—

5) وائرس اور انفیکشن میں فائدہ

جدید تحقیق کے مطابق ملیٹھی میں قدرتی اینٹی وائرل عناصر موجود ہیں جو عام نزلہ، فلو اور گلے کے انفیکشن میں مدد دیتے ہیں۔
بخار، تھکن اور بدن درد میں اس کی تاثیر نمایاں ہوتی ہے۔

—

6) ذہنی تھکن اور کمزوری

قدرت نے اس جڑ میں طاقت بھری ہے—
یہ ہارمونز کو متوازن کرتی ہے، ذہنی دباؤ کم کرتی ہے اور جسم کو توانائی بخشتی ہے۔
خاص طور پر ایسے لوگوں کے لیے مفید ہے جو دائم تھکن اور کمزوری محسوس کرتے ہیں۔

7) جلدی بیماریوں اور سکن کے مسائل میں استعمال

اب ملیٹھی کو صرف گلے، معدے یا سانس کے لیے نہیں بلکہ جلدی مسائل میں بھی حیرت انگیز طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس کے قدرتی anti-inflammatory اور anti-bacterial اجزاء جلد کی سوزش، خارش، ایکنی، لالی اور الرجی میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔
ملیٹھی کا لیپ جلد پر جمی حرارت کم کرتا ہے، داغ دھبوں کو ہلکا کرتا ہے اور متاثرہ حصے کو ٹھندا سا سکون دیتا ہے۔
یہ اُن لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جن کی جلد موسم کی تبدیلی سے فوراً خراب ہو جاتی ہے۔

احتیاط

یہ ٹھنڈی تاثیر رکھتی ہے، اس لیے:
کم بلڈ پریشر والوں کے لیے بہترین
مگر بلڈ پریشر زیادہ ہو تو زیادہ استعمال سے پرہیز
حاملہ خواتین ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں

ملٹھی کے فوائد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں