396

پوسٹ چور

تحریر شئیر کریں

حمزہ خان

جب آپ امتحانی ہال میں پرچہ دے رہے ہوں اور پرچہ ختم ہونے پر جمع کروا رہے ہوں تو اچانک سے کوئی دوسرا آ کر آپ کا پرچہ چوری کر لے تو آپ کو جو دکھ اور پریشانی ہو گئی اس کا اندازہ ممکن نہیں ،انسان کی ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے ٹھیک اسی طرح جب ایک انسان محنت کر کے کوئی تحریر لکھتا ہے اور کوئی دوسرا اس کی پیٹھ پیچھے اس تحریر کو چوری کر کے اپنے نام سے شائع کر لے تو لکھنے والے کو بہت دکھ ہوتا ہے ،یہ بھی ایک قسم کی چوری ہے ۔ایسی ان گنت تحاریر نظروں سے گزرتی ہیں جو چوری ہوئی ہوتی ہیں ۔کچھ لوگ اصل ادیب کا نام ہٹا کر پوسٹ کاپی کر کے اپنے نام سے لگا لیتے ہیں ۔جبکہ کچھ لوگ کسی بھی تحریر کے ادیب کا نام معلوم ہونے کے باوجود بھی نہیں لکھتے(تحریر بےنامی چھوڑ دیتے ہیں )۔افسوس اس بات کا ہے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ یہ کچھ کر رہا ہے اور جب کسی کو ادیب کا نام لکھنے کے لیے کہا جاۓ تو وه انسان خفا ہو کر ناراضگی اختیار کر لیتا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے ایک محترمہ نے ایک بڑے گروپ میں پوسٹ لگائی جو کہ اس وقت کی بہت مشہور تحریر تھی اور ہزاروں لوگوں نے اسے کاپی کیا تھا ۔میں نے محترمہ سے انتہائی ادب سے درخواست کی کہ اس تحریر کے ادیب کا نام بھی لکھ لیں یا پھر یہ لکھ لیجیے کہ یہ پوسٹ میں نے کاپی کی ہے(اس کے بعد میں نے ہنسی کا ایموجی بھی بھیجا تاکہ ان کو برا نہ لگے اور میری بات انہیں سمجھ بھی آ جاۓ )لیکن ان محترمہ نے میرے لیے انتہائی غیر مناسب الفاظ کا استعمال کیا اور بدتمیزی پر اتر آئی ۔میں نے ان کی پروفائل دیکھی تو اس پر لکھا تھا کہ سٹوڈنٹ آف پی ۔ایچ ۔ڈی۔یہ دیکھ کر میں رو پڑا اور محترمہ سے معافی مانگی کہ جہاں اتنے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہے کہ ان کے ہاں ادب کا معیار صفر ہے تو دوسروں کا کیا ہو گا ۔ایک پڑھے لکھے انسان کو دوسروں کے لیے ہمیشہ مثال ہونا چاہیے ،پڑھے لکھے انسان کا عکس اس کے کردار ،گفتار اور بات کرنے کے سلیقے سے چھلکنا چاہیے ۔میں نے یہ بھی دیکھا کہ مختلف عشق حقیقی پر مبنی اشعار میں ردوبدل کر کے انہیں مزاحیہ بنا دیا گیا ہے جو کہ گناہ کبیرا اور قانون ایک بڑا جرم ہے(خدا راہ ایسا نہ کریں اور اردو ادب کا مذاق مت بنائیں )۔اگر آپ کو کسی تحریر کے ادیب کا یا شاعر کا نہیں معلوم تو تحریر کے نیچے کاپیڈ،منقول ،نامعلوم یا پھر فلاں کی وال سے کاپی کیا ہے لکھ لیا کریں لیکن نام کی جگہ مت چھوڑا کریں یہ لکھنے والے کے حق کے ساتھ حق تلفی ہے (کسی کا حق مارنا بھی گناہ ہے )۔کبھی بھی کسی دوسرے کی تحریر پر اپنا نام مت لکھا کریں میرے نزدیک یہ چوری ہے اور چوری کی سزا اسلام میں بہت سخت ہے ۔خدا راہ کسی کے اشعار یا پھر تحریر میں بھی ردوبدل اور مزاح مت شامل کیا کریں اس پر ہمارا کوئی حق نہیں ۔کچھ لوگ تو اپنی غلطی ماننے کے بجاۓ اکڑنا شروع کر دیتے ہیں ۔ایک دفعہ بنومحزومی کی فاطمہ نامی ایک عورت نے چوری کی تو اسے کے قبیلے والوں نے حضرت اسامہ بن زید کو حضرت محمّدؐ کے پاس اس عورت کو سزا سے بچانے کے لیے سفارشی بنا کر بھیجا ۔حضرت محمّدؐ نے فرمایا کہ “بنی اسرائیل اس وجہ سے تباہ ہوے کیونکہ وه طاقتور کو چھوڑ دیا کرتے تھے اور کمزور پر ظلم کرتے تھے ،اگر میری بیٹی فاطمہ بنت محمّدؐ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا “(یہ اسلام میں ایک چور کی سزا ہے )۔میں نے تلخ جملوں کا استعمال کیا ،شاید بہت سارے قارئین مجھ سے خفا ہو لیکن میں نے ہمیشہ سچ لکھنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے میری جان بھی جاۓ تو کوئی پرواہ نہیں ۔میں ایک زمہ داری آپ سب کو سونپتا ہوں کہ اگر آپ کو کوئی ایسا کرتا نظر آۓ تو اسے ضرور ٹوکیں اور اسے سمجھائیں کہ آپ غلط کر رہے ہیں ۔چلیں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم کسی کی تحریر چوری نہیں کریں گے اور ہر ایک تحریر کے نیچے اس کے لکھنے والے کا نام ضرور لکھیں گے (نہیں تو کاپیڈ وغیرہ لکھیں گے )۔آپ کوشش کریں گے ناں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں