ہیجڑے سے وکیل بننے تک کا سفر
نیشا راؤ 28 سالہ خواجہ سرا ہے۔جس نے محنت اور لگن سے وکالت کا امتحان پاس کر کے اپنی شناخت بنائی۔نیشا راؤ کا تعلق لاہور سے ہے۔وہ میٹرک کے بعد بھاگ کر کراچی آ گئ۔یہاں کراچی کی سڑکوں پہ دس سال تک بھیک مانگی اور اپنی وکالت کی تعلیم مکمل کی۔اس کا کہنا ہے میں دن میں بھیک مانگتی تھی اور رات میں اپنی تعلیم مکمل کرتی تھی۔نیشا راو نے ہیجڑے سے وکیل بننے تک کا سفر کیسے مکمل کیا۔اس کا کہنا ہے کہ مجھے بھیک مانگتے ہوۓ پولیس والوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔پھر کسی نے مشورہ دیا کہ تم وکیل بن جاؤ پولیس والے خود تم سے ڈریں گے۔بس پھر میں وکیل بن گئ۔
نیشاراؤ نے ہیجڑوں کے بارے میں بات کرتے ہوے کہا کہ یہ بھی انسان ہیں۔معاشرے کو چاہیے کہ وہ انھیں عزت دیں تاکہ وہ بھی زندگی میں آگے بڑھ سکیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو انکے اپنے بھی ساتھ رکھتے ہوۓ شرم محسوس کرتے ہیں۔