
مجھے اچھی طرح یاد ہے، میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ رزق صرف پیٹ بھرنے یا روزی روٹی کا نام نہیں ہوتا۔ ارے! رزق تو اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ رزق میں اچھا نصیب شامل ہے، مخلص دوست شامل ہیں، پر سکون رشتہ دار شامل ہیں، اور ہاں، اس میں کتابیں اور اللہ کے سچے لفظ بھی شامل ہوتے ہیں۔
چھوٹی موٹی پریشانیاں زندگی میں آتی رہتی ہیں، اور مجھے بارہا یہ تجربہ ہوا کہ جب بھی دل بہت پریشان ہوتا، تو کہیں لکھی ہوئی کوئی چھوٹی سی عبارت بھی میرے لیے روشنی بن کر آ کھڑی ہوتی اور میرے سارے اندھیرے جھٹ سے چھٹ جاتے۔
زندگی کا سفر تو اپنے حال میں رواں رہتا ہے، اسے پرواہ نہیں ہوتی کہ مسافر رک گئے ہیں یا چل رہے ہیں۔ گھڑی کی سوئیاں مالک کائنات کے حکم سے بندھی اپنی رفتار پر چلتی رہتی ہیں۔ مگر میری زندگی میں تو وہ آزمائش آن کھڑی ہوئی جس کا میں نے کبھی وہم و گمان تک نہیں کیا تھا۔
💔 طلاق: جب لگا جان حلق میں اٹک گئی
اور یہ سب ہوا کب؟ شادی کے صرف سات ماہ بعد!
میرے خاوند نے مجھے غصے میں، فون پر، بس ایک لمحے میں طلاق دے دی۔ وہ لفظ میری روح میں چھید کر گیا۔
اس کے بعد صلح صفائی کی کوششیں شروع ہوئیں، لیکن ہر دروازہ بند ہوتا گیا۔ دو مہینے گزر گئے۔ عدت میں بس ایک ماہ باقی تھا۔ سب تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے۔ لگتا تھا جیسے میرے اندر کی ساری روشنی بجھ چکی ہے۔ میری پریشانی اتنی تھی کہ لگ رہا تھا جان حلق میں اٹک گئی ہے جو کسی بھی لمحے مجھے زندگی سے بیگانہ کر دے گی۔
مگر نہیں! میں مایوس نہیں تھی، میں نے ہار نہیں مانی تھی۔ میری دعائیں جاری تھیں، بس مجھے ایک سچے سہارے کی ضرورت تھی۔
✨ ام الیقین: لفظوں کی صورت میں میرا رزق
ایک رات میں فیس بک پر یوں ہی بیٹھی تھی، دل الجھا ہوا تھا کہ سامنے ایک نام آیا: ام الیقین (Um-ul-Yaqeen)۔ یہ نام ہی اتنا اثر انگیز تھا کہ میں نے فوراً مطالعہ شروع کر دیا۔
اور یقین مانیں! جوں جوں میں پڑھتی گئی، حقیقی یقین کی دولت میرے اندر آتی گئی۔ ام الیقین نے مجھے سچے معنوں میں اللہ کی رحمت اور اپنی ذات پر بھروسے کا مطلب سکھایا۔ مجھے پہلی بار لگا کہ میری دعاؤں میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی یا گڑبڑ تھی جسے مجھے ٹھیک کرنا تھا۔
ام الیقین کا وہ ایک جملہ میرے دل کی گہرائیوں میں، میری روح میں گڑ کر رہ گیا:
> “جو زمین پہ نہیں ہوتا آسمان پہ ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے۔
میں نے نئے سرے سے اپنے یقین کی حدوں پر کام کیا۔ عدت کے اس آخری ماہ میں، میں نے اسے بار بار پڑھا، سمیرا حمید کی وال پر ٹیگ شدہ اقتباسات کو خاص طور پر پڑھتی اور گڑ گڑا کر دعا کرتی رہی، کرتی رہی، کرتی رہی…
اور معجزہ ہو گیا!
پھر وہ وقت آیا، جب ایک اندھیری سیاہ رات سے روشن دن طلوع ہوا۔
اور میری صلح ہو گئی۔ وہ صلح جو ہر کوئی ناممکن سمجھ رہا تھا، اللہ کی رحمت سے ممکن میں بدل گئی۔ اللہ نے مجھے مایوس نہیں کیا!
مجھے آج بھی یقین ہے کہ ام الیقین کے لفظ میرے حصے کا سب سے بڑا رزق تھے جو عین وقت پر میرے حصے میں آئے اور مجھے حقیقی یقین سے مالا مال کر کے میری زندگی کو اندھیرے
سے روشنی میں بدل دیا۔
اور معجزہ ہو گیا