
الاسکا کے افق پر 23 جنوری کی صبح ایک تاریخی پیغام لے کر آنے والی تھی۔ یہ وہ دن تھا جب 65 دنوں کی طویل اور سیاہ قطبی رات (Polar Night) کا خاتمہ ہونا تھا اور سورج کی پہلی سنہری کرن نے اس منجمد زمین کا بوسہ لینا تھا۔ مایا کے لیے یہ دن دہری خوشی کا حامل تھا؛ آج اس نے باقاعدہ طور پر کلمہ پڑھ کر اپنی زندگی اللہ کے نام کرنی تھی اور اسی مبارک گھڑی میں اس کا نکاح احمد سے ہونا طے پایا تھا۔
احمد کا رعب اور بستی والوں کی محبت
مایا کے گھر والوں کے لیے احمد کو قبول کرنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا تھا۔ احمد نے جس طرح اپنی سائنسی مہارت سے برف کے سینکڑوں فٹ نیچے چھپا ہوا میٹھا پانی تلاش کر کے بستی کی پیاس بجھائی تھی، اس نے اسے مقامی لوگوں کی نظر میں ایک “نجات دہندہ” بنا دیا تھا۔ احمد کا وہ پراجیکٹ نہ صرف سائنسی کامیابی تھی بلکہ انسانیت کی خدمت کی ایک اعلیٰ مثال تھی، جس کی وجہ سے مایا کے سخت گیر والد اور قبیلے کے سردار بھی احمد کے اخلاق اور صلاحیتوں کے گرویدہ ہو چکے تھے۔ بستی کے لوگ اب اسے ‘احمد’ نہیں بلکہ ‘محسنِ بستی’ کے نام سے پکارتے تھے۔
احمد کی خاموشی اور مایا کی بے چینی
نکاح کی تیاریاں عروج پر تھیں، مگر مایا کے دل میں ایک عجیب سی ہوک اٹھ رہی تھی۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے احمد کے رویے میں ایک سرد مہری محسوس کر رہی تھی۔ احمد پہلے سے کہیں زیادہ اپنی ڈائری اور مسجد کے کاموں میں مگن رہنے لگا تھا۔ وہ مایا سے بات تو کرتا مگر اس کی گفتگو میں وہ تپش نہیں تھی جس کی مایا تمنا کرتی تھی۔
“احمد! کیا تم اس فیصلے سے خوش نہیں ہو؟” مایا نے ایک شام مسجد کے صحن میں ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔ “تمہاری یہ خاموشی مجھے ڈرانے لگی ہے۔”
احمد نے نقشے سے نظریں ہٹائیں، ایک پل کے لیے مایا کی اداس آنکھوں میں دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں۔ “مایا، میں نے اپنی زندگی ایک بڑے مقصد کے لیے وقف کر دی ہے۔ نکاح میرے لیے صرف ایک بندھن نہیں، ایک امانت ہے۔ میں شاید دنیا کے ان مردوں جیسا نہ بن سکوں جو جذبات کی نمائش کرتے ہیں، مگر میں تمہارے ایمان کا وہ محافظ بنوں گا جس پر تم فخر کرو گی۔ میری سرد مہری کو نفرت نہ سمجھو، یہ میرے اندر کی وہ سنجیدگی ہے جو اس عظیم ذمہ داری کے احساس سے پیدا ہوئی ہے۔”
مایا کو اس کے جواب نے مطمئن تو کر دیا، مگر اسے احساس ہوا کہ احمد کی محبت عام لوگوں جیسی نہیں بلکہ ایک گہرے فلسفے میں ڈوبی ہوئی ہے۔
کینیڈا کی مسجد کی سچی داستان: ایمان کا سفر
نکاح سے ایک رات پہلے، جب مسجد کی تزئین و آرائش کا کام آخری مراحل میں تھا، مایا نے حیرت سے احمد سے پوچھا، “احمد، ہم نے اس مسجد کے لیے لکڑی اور سامان اتنی دور سے کیوں منگوایا؟ کیا یہ یہاں نہیں بن سکتی تھی؟”
احمد نے کام روک دیا اور مایا کو اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ “مایا، تمہیں ایک سچی کہانی سناتا ہوں جو تمہارے اس سوال کا جواب بھی ہے اور تمہارے ایمان کو تازہ بھی کرے گی۔ کینیڈا کے ایک انتہائی شمالی علاقے ‘انووِک’ (Inuvik) میں بھی یہی صورتحال تھی۔ وہاں کے مسلمانوں کو ایک مسجد کی اشد ضرورت تھی، مگر وہاں تعمیراتی سامان پہنچانا اور مزدور بلانا اتنا مہنگا تھا کہ لاکھوں ڈالر کی ضرورت تھی۔”
مایا نے حیرت سے پوچھا، “پھر انہوں نے کیا کیا؟”
احمد نے مسکرا کر بتایا، “وہاں کے مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مسجد کسی دوسرے شہر میں تیار کر کے یہاں لائیں گے۔ انہوں نے دو ہزار میل دور ‘ونی پیگ’ (Winnipeg) میں ایک چھوٹی سی مسجد تیار کی۔ اب سب سے بڑا چیلنج اسے چار ہزار کلومیٹر دور پہنچانا تھا۔ ایک صاحبِ خیر مسلمان نے اس مشن کے لیے بڑی رقم وقف کی اور فنڈز جمع ہوئے۔ اس مسجد کو ایک بہت بڑے ٹرک (Trailer) پر لاد دیا گیا۔”
“ٹرک پر مسجد؟” مایا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“ہاں مایا! وہ مسجد سڑکوں، کچے راستوں اور منجمد دریاؤں سے ہوتی ہوئی سفر کرنے لگی۔ راستے میں کئی بار پل تنگ آئے، کہیں ٹرک پھنس گیا، مگر مسلمانوں کا جذبہ کم نہ ہوا۔ لوگ راستوں میں کھڑے ہو کر اس ‘چلتی ہوئی مسجد’ کا نظارہ کرتے اور اس کے لیے دعائیں کرتے۔ آخر کار وہ مسجد سلامت اپنی منزل پر پہنچ گئی اور اسے ‘The Midnight Sun Mosque’ کا نام دیا گیا۔ آج وہ مسجد قطب شمالی میں اسلام کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ ہماری یہ مسجد بھی اسی جذبے کی کڑی ہے۔”
مایا یہ سن کر دنگ رہ گئی۔ اسے احساس ہوا کہ ایمان والے جب کچھ کرنے کا ارادہ کر لیں تو اللہ راستے خود بنا دیتا ہے۔
نکاح کی تقریب اور روایتی رسومات
23 جنوری کی وہ مبارک صبح آ پہنچی۔ جیسے ہی افق سے سورج کا ایک باریک سا کنارہ نمودار ہوا، پوری بستی “اللہ اکبر” کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ 65 دن بعد سورج کا چہرہ دیکھ کر مقامی لوگ خوشی سے نہال تھے۔
نکاح کی تقریب اسی قدیم مسجد کے ہال میں منعقد ہوئی جسے احمد نے دریافت کیا تھا۔ مایا نے روایتی سفید رنگ کا الاسکن لباس پہنا ہوا تھا جس پر نفیس کڑھائی تھی، اور سر پر سفید ریشمی حجاب اسے ایک تقدس آمیز خوبصورتی بخش رہا تھا۔ مایا کے والد نے قدیم روایت کے مطابق احمد کے کندھے پر قطبی ہرن کی کھال سے بنا ہوا ایک خاص ‘شال’ رکھا، جو اس بات کی علامت تھا کہ اب احمد ان کے خاندان کا معزز ترین رکن ہے۔
نکاح کے بعد بستی والوں کے لیے ایک بڑے کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ دسترخوان پر الاسکا کی انوکھی اور لذیذ ڈشز سجائی گئی تھیں۔ خاص طور پر “Reindeer Stew” (ہرن کا گوشت اور سبزیوں کا شوربہ) اور “Smoked Salmon” کے ساتھ ساتھ مایا نے اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی “Akutaq” پیش کی۔ مہمانوں نے احمد کی پسند کے مطابق لاہور کے ذائقے کی جھلک لیے ہوئے ‘زعفرانی قہوہ’ بھی نوش کیا۔
قبیلے کی خواتین نے مایا کے گرد جمع ہو کر اپنا روایتی رقص “Drums of the North” پیش کیا، جو اگرچہ خاموش تھا مگر اس کی تھاپ میں ایک روحانی سرور تھا۔ مایا کی سہیلیوں نے اسے رخصت کرتے وقت اس کے ہاتھوں پر بیریز کا عرق لگایا جو ان کے ہاں برکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
رخصتی اور احمد کا گھر
رخصتی کے بعد جب مایا احمد کے چھوٹے سے مگر پروقار گھر میں داخل ہوئی، تو اسے وہاں کی سادگی نے بہت متاثر کیا۔ دیواروں پر سائنسی نقشوں کے ساتھ ساتھ اللہ کے نام کی خطاطی والے فریم آویزاں تھے۔ احمد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پہلے دو رکعت نمازِ شکرانہ ادا کی۔
احمد جب مایا کے پاس آیا، تو اس کی سرد مہری اب ایک گہری عقیدت میں بدل چکی تھی۔ اس نے مایا کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہ دعا پڑھی جو رسول اللہ ﷺ نے سکھائی تھی۔
“مایا،” احمد نے دھیمی اور پرتاثیر آواز میں کہا، “آج سے تم اس گھر کی ملکہ ہو۔ یاد رکھنا، ہماری یہ زندگی صرف ایک دوسرے کے لیے نہیں، بلکہ اس رب کے لیے ہے جس نے ہمیں الاسکا کی اس دور افتادہ زمین پر یکجا کیا ہے۔ میری خاموشی میری کمزوری نہیں، میری طاقت ہے۔ میں تمہیں وہ سب سکھاؤں گا جو تمہارے ایمان کو کامل کر دے۔”
مایا نے احمد کا ہاتھ تھام لیا۔ اسے محسوس ہوا کہ سورج کی جو کرنیں باہر برف کو پگھلا رہی ہیں، وہی تپش اب اس کے اپنے دل کے اندر بھی اتر چکی ہے۔ اندھیرے کے مکین اب روشنی کے مسافر بن چکے تھے۔
اندھیرے کے مکین: قسط 22