اے خاکِ وطن اب تو وفاؤں کا صلہ دے
ام محمد سلمان
” اب تو ذرا سا چلتے ہی تھک جاتا ہوں، ایک وقت تھا کہ میلوں پیدل چل لیا کرتا تھا اور تھکن کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا تھا۔“ کرم دین نے لاٹھی ایک طرف رکھی اور بینچ پر بیٹھ کر گہرے گہرے سانس لینے لگا۔
”ٹھیک کہتے ہو دوست !! اب تو ٹانگوں میں دم ہی نہیں رہا… ذرا تیز چلوں تو سانس پھولنے لگتا ہے میرا بھی۔“
نور الٰہی نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور کرم دین کے برابر بیٹھ گیا۔
شام ڈھل رہی تھی۔ بوڑھے برگد کے موٹے تنے کے ساتھ بچھی یہ پتھر کی بینچ سالوں سے یہاں موجود تھی اور ان دونوں بزرگوں کی دوستی کی گواہ بھی۔ بوڑھا برگد بھی جیسے ان کے وجود کا عادی ہو گیا تھا۔ سورج کی کرنیں درخت کے گھنے پتوں کے عقب میں چھپنے لگی تھیں۔ ہلکا ہلکا اندھیرا سا چھانے لگا اور درخت پر بیٹھے پرندوں نے بے تحاشا شور مچانا شروع کر دیا۔
”کیسی خوب صورت آوازیں ہیں ان پرندوں کی.. کیا رونق لگائے رکھتی ہیں سبحان اللہ!!“ کرم دین نے جیب سے تسبیح نکالی اور سبحان اللہ کا ورد کرنے لگا۔
سڑک کے کنارے اور بھی کئی درخت تھے۔ جن میں کئی درخت ان دونوں کے ہاتھوں کے لگائے اور سینچے ہوئے تھے۔ فارغ وقت میں دونوں دوستوں کا یہی دلچسپ مشغلہ تھا… اپنا تھیلا اٹھاتے جس میں کھرپی اور مختلف بیج ہوا کرتے۔ مناسب جگہ دیکھ کر کھرپی سے زمین تیار کرتے اور بیج ڈال دیتے، چند دن باقاعدگی سے پانی دیتے اور پھر اپنے ہاتھوں سے لگائے ان پودوں کو پھلتے پھولتے دیکھتے۔
کالی سڑک دور تک ایک سیدھ میں جا رہی تھی جس کے کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کئی بینچیں رکھی ہوئی تھیں مگر ان دونوں کو یہی جگہ پسند تھی۔ جب بھی آتے اسی برگد تلے بیٹھتے۔ عصر کی نماز پڑھ کر واپس آتے تو مغرب تک یہیں اسی بینچ پر بیٹھے ماضی کی یاد تازہ کرتے رہتے…!
”یار کرم دین! مجھے تو اس درخت سے بڑی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ یہی ہمارے دکھ سکھ کا سانجھی ہے۔ تجھے یاد ہے جب ہم پہلی بار ملے تھے تب یہ درخت کتنا جوان تروتازہ اور سرسبز و شاداب تھا۔ اور اب اس کی کیا حالت ہو گئی ہے۔“
نور الٰہی نے ایک بھرپور نظر درخت پر ڈالتے ہوئے تاسف سے کہا…
”ہاہاہاہا… کرم دین!! اپنی حالت دیکھ! ہم بھی تو کسی خستہ عمارت کے کھنڈرات جیسے ہو گئے ہیں۔“ نور الٰہی تھکے تھکے سے لہجے میں دیر تک ہنستا چلا گیا۔
”سچ کہتے ہو دوست!! پچانوے سال کچھ کم تو نہیں ہوتے۔ اور تم تو مجھ سے بھی دو سال بڑے ہی ہو۔ پاکستان کو بنے چوہتر سال گزر گئے۔ سب کچھ اک خواب سا لگتا ہے۔ آزادی کی وہ تحریکیں، قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز تقریریں…. بچوں اور جوانوں کا جذبہ!! ایسا لگتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات تھی… جب ہم.. جب ہم…. اور پھر نور الٰہی کی زبان گویا تالو سے چپک گئی، آنکھیں کسی غیر مرئی نقطے پر جم گئیں اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اے خاک وطن تیرے لیے
جانے ظالموں نے میری بہن میری زیب النساء کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا! میری فاطمہ، میرے بچوں کی ماں…! عبد اللہ اور عبد الرحمن کی ماں… وہ جو کبھی گھر سے بڑی چادر کے بغیر نکلی ہی نہ تھی۔ میں جب اس روز گھر پہنچا تو قیامت برپا ہو چکی تھی۔ سب کچھ لٹ چکا تھا۔ فاطمہ کی نوچی کھسوٹی برہنہ لاش پڑی تھی، عبداللہ اور عبد الرحمٰن کے جسموں کے ٹکڑے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔ ابا جی کی لاش کنویں کے پاس پڑی تھی اور دادی صغراں اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔ اسی نے بتایا کہ سکھ بلوائی زیب النساء کو اٹھا کر لے گئے ہیں۔ میں دیوانہ وار بھاگا.. مگر کہاں جاتا…؟ چاروں طرف بربادی کے ڈیرے تھے۔ جلے ہوئے گھروں میں اکڑی ہوئی لاشیں تھیں۔ جانے میری بہنا کس حال میں ہوگی.. زندہ بھی ہوگی یا نہیں!!“
نور الٰہی پھر سسکنے لگا۔ جب جب ہجرت کی داستانیں دہرائی جاتی تھیں، تب تب اشکوں کے دریا بہتے تھے۔
بوڑھا برگد بھی ان کے دکھ پر شکوہ کناں تھا۔ لاہور کی لمبی سڑک پر ایستادہ اس پیپل کے پرانے درخت نے قیام پاکستان کے وقت کی ایسی کتنی ہی دردناک کہانیاں وجود میں آتے دیکھی تھیں۔ کتنے ہی خون آلود آنچل اپنی شاخوں میں سموئے تھے۔ کتنے ہی قافلوں کو لٹے پٹے یہاں سے گزرتے دیکھا تھا۔ وہ ان آنسوؤں اور آہوں کا گواہ تھا۔ تقسیم ہندوستان کی الم ناک تاریخ کا گواہ…!!
کرم دین بھی ایسی ہی ایک افتاد سے گزر کر یہاں تک پہنچا تھا۔ وہ ضلع امرتسر کے گاؤں نارائن گڑھ کا رہائشی تھا۔ اپنے باپ اور چھے بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ نارائن گڑھ میں ان کا برتنوں کو قلعی کرنے کا کارخانہ تھا جو خوب چلتا تھا۔ بڑے تینوں بھائی شادی شدہ تھے، باقی چار ابھی لڑکپن اور نوجوانی کی حدود میں ہی تھے اور تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔
اے خاک وطن تو ہی بتا
پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو خوشی خوشی اپنا مال و متاع سمیٹا اور ایک قافلے کے ساتھ پاکستان روانہ ہو گئے. یہ پیدل قافلہ تھا جو تقریباً آدھے میل پر پھیلا ہوا تھا۔ اور پھر بدقسمتی سے اس قافلے پر بھی حملہ ہو گیا. ایک بار پھر خون کی ندیاں بہہ گئیں، عصمتیں لٹ گئیں، بچے قتل کر دیے گئے، جوان عورتیں اغوا کر لی گئیں، مال و متاع لوٹ لیا گیا۔ قافلے کے مرد بڑی جی داری سے لڑتے رہے یہاں تک کہ قافلے کی عورتوں نے بھی جرات و بہادری سے مقابلہ کیا۔ مگر کب تک…. وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کتنے مر گئے کتنے بچ گئے۔ ایک بھگدڑ اور کہرام مچا تھا۔
”میں اپنے بھائی اصغر علی کا ہاتھ پکڑ کر گنے کی فصل کی طرف بھاگا اور چھپ گیا۔ ساری رات ہم وہاں چھپے رہے۔ پھر صبح ایک دوسرے قافلے کے ساتھ چل پڑے۔ راستے میں پھر حملہ ہوا اور اصغر علی میرا پیارا بھائی بھی قتل ہو گیا۔ میرے چھے بھائیوں میں سے کسی کا نام و نشان نہیں بچا، سب اس دھرتی پر قربان ہو گئے وہ جن کی آنکھوں میں اس ارض پاک کی مٹی کو چومنے کے خواب تھے!!“
کرم دین کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ گزرے وقتوں کی دردناک پرچھائیں گویا چہرے پر جم گئی تھی۔
وہ دونوں اپنے ماضی کے ان اندوہناک واقعات کو بھول ہی جاتے اگر جو اپنی قربانیوں کو پھلتے پھولتے دیکھ لیتے….!
اگر جو اس ملک خداداد کو اسلام کا محور و مرکز بنتے دیکھ لیتے!!
مگر شروع سے اب تک اسلامی قوانین کو پامال ہوتے ہی دیکھ رہے تھے۔ نہ جانے اس ملک پر کالی بھیڑوں کا سایہ کیسے پڑ گیا… قربانی کی داستانوں میں لٹیرے مال غنیمت لوٹنے کیسے پہنچ گئے… نہ صرف پہنچ گئے بلکہ سب کچھ ہی لوٹ لیا۔ اس ملک کے دامن کو داغ دار کر دیا۔ اسلام کی چمکتی پیشانی پر بدنما داغ بن گئے۔
اے خاک وطن اب کس سے کہیں
کرم دین اور نور الٰہی کا رونا صرف ماضی کا ہی نہ تھا، انھیں تو حال اور مستقبل کے اندیشوں نے بھی دہلا رکھا تھا۔ یہ ملک جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا، اسی مقصد اور صراط مستقیم سے ہٹانے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی تھیں.
مغرب کا وقت ہو چلا تھا. دونوں اٹھ کر تھکے قدموں سے مسجد کی طرف چل دیے۔
سامنے نظر اٹھائی… سڑک کے اس پار ایک بہت بڑا پبلک پارک تھا۔ جہاں شام کے وقت خوب رونق ہوتی تھی۔ چھوٹے بچے جھولوں پر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ عورتوں کے رنگین آنچل ہوا میں لہرا رہے تھے۔ کچھ بڑے بچے کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے میں مشغول تھے۔ کچھ یوں ہی بھاگ دوڑ میں مصروف تھے، کچھ لوگ روش پر چہل قدمی کررہے تھے۔ ایک طرف ٹھیلے والے کھڑے تھے جہاں گولا گنڈا اور دہی بھلوں پر خوب رش لگا تھا۔ اس پارک میں زندگی بڑے بھرپور طریقے سے سانس لے رہی تھی۔ مگر شاید کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ان کی ان آزاد سانسوں کی قیمت… کون کون کیسے کیسے چکا کر آیا ہے !!!
دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کو دیکھا! خستہ جسموں میں روح لڑکھڑا رہی تھی…. ایک جنوں خیز خواہش تھی یا حسرت، جو اب بھی جواں تھی اور زبانِ حال سے کہہ رہی تھی :
اے خاک وطن اب تو وفاؤں کا صلہ دے
میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں
اے خاک وطن اے خاک وطن