399

بات سمجھے تو بات کچھ بھی نہ تھی

تحریر شئیر کریں

بات سمجھے تو بات کچھ بھی نہ تھی

ام محمد سلمان

”اب تو زندگی ایک سرائے سی بن گئی ہے جہاں ہر وقت دکھوں اور پریشانیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔“ فائزہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا اور پاس پڑی بید کی کرسی پر بیٹھ گئی ۔
کیا ہوا بیگم! اتنی گرمی میں ایسی ٹھنڈی آہ اور ایسا فیس بکی سا جملہ ۔۔۔۔ بھئی واہ! گرم چائے کا کپ بھی ساتھ ہوتا تو مزہ ہی آ جاتا۔“

”اتنی گرمی میں بھی آپ کو چائے کی سوجھ رہی ہے ؟“ اسے حیرت ہوئی
”ارے بیگم سنا نہیں… لوہا، لوہے کو کاٹتا ہے اور گرمی، گرمی کو مارتی ہے۔ اور سچ کہوں جب سے بات معیشت پر آئی ہے تو چائے کچھ زیادہ ہی محبوب ہو گئی ہے۔ “
اپنی بات پر خود ہی ہنستے ہوئے بیوی کی طرف دیکھا تو وہاں ہنوز غم کے بادل چھائے ہوئے تھے اور آنکھیں سامنے دیوار پہ لگے اے سی پر جمی تھیں۔

”یا اللہ خیر ! اے سی پر کون سی بجلیاں گرانے والی ہیں یہ آنکھیں؟ بس کرو بیگم یوں گھورتے رہنے سے بھی چیزیں ٹوٹ پھوٹ جایا کرتی ہیں ۔“

”آپ کو اٹکھیلیاں سوجھ رہی ہیں جب کہ میں سخت بیزار ہوں۔ آخر آپ اس اے سی کو بیچ کیوں نہیں دیتے؟ خواہ مخواہ دیوار پہ اتنا مہنگا شو پیس لگا رکھا ہے! “

”ارے بیگم اے سی اور شو پیس میں تمہیں فرق نظر نہیں آتا ؟ غضب خدا کا ۔۔۔ ستر اسی ہزار روپے کا ایسا خاندانی نسل کا انورٹر اے سی خرید کر لایا تھا میں اور ایک تم ہو کہ کفرانِ نعمت کررہی ہو ۔“

”تو کیا فائدہ ایسی نعمت کا! جو تپتی دوپہر میں بھی دو ٹھنڈی سانسیں نہ دے سکے۔ دیوار پہ لگا دل ہی جلاتا رہتا ہے۔ بیگم نے منہ کے زاویے از حد بگاڑتے ہوئے کہا ۔

”اے سی تو ہم ہرگز نہیں بیچیں گے یہ تو طے ہے ۔“ میاں نے شان بے نیازی سے جواب دیا۔

”تو پھر چلا دیجیے نا دو گھڑی کے لیے ذرا کمرہ ٹھنڈا ہو جائے تو بند کر دیجیے گا۔ جب سے اس نئی حکومت نے بجلی مہنگی کی ہے، ہم تو اے سی کی ٹھنڈک کو بھی ترس گئے ہیں۔ وہ منت کرنے والے لہجے میں بولیں۔

”ہرگز نہیں!! ایک ایک یونٹ کی قیمت ڈبل ہو چکی ہے بیگم اور مقررہ یونٹ سے زیادہ جلے تو بل اور ڈبل ہو جائے گا۔ بجلی کے بل ہیں کہ آئی ایم ایف کے قرضوں کی طرح سود در سود بڑھتے اور چڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ کچھ خبر بھی ہے تمہیں! اب ہم وہ کبھی کبھار اے سی چلانے والی عیاشی سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ اب اگر چلایا تو بل بھرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ پھر آدھے مہینے تک فاقے منظور ہیں تو چلا لو اے سی۔ اور صرف فاقوں ہی کی کیا بات اور نہ جانے کتنے ضروری اخراجات پورے ہونا رہ جائیں گے۔ جیسے ساری زندگی بغیر اے سی کے گزارا کیا ہے نا! اب بھی کرو۔ ان کا موڈ خراب ہو چکا تھا سو کروٹ لے کر لیٹ گئے۔

سہ پہر کے تین بجے تھے۔ پیسنے میں شرابور فائزہ ایک بار پھر ہاتھ منہ دھو کر آئی۔ ذرا دیر کو پنکھے کی ہوا ٹھنڈی محسوس ہوئی پھر وہی گرم تھپیڑے ۔۔۔
اللہم اجرنی من النار بے اختیار دل سے دعا نکلی ۔

پچھلے سال ہی کی تو بات ہے گرمی شدید ہوئی تو جیسے تیسے جوڑ توڑ کر کے اے سی خریدا تھا، روزانہ تو نہیں لیکن جب جب گرمی بڑھتی اور لو چلنے لگتی تو دوپہر میں دو تین گھنٹوں کے لیے چلا لیا کرتے تھے، کچھ وقت سکون اور خوشی سے گزر جاتا تھا۔ مگر اب وہ بھی مقدر میں نہ رہا۔ اس نے ایک بار پھر دوپٹے سے پسینہ پونچھا اور دل میں کہنے لگی ۔۔۔ تیرے بھید تو ہی جانے مولی! سالوں گرمی میں ترسنے کے بعد ایک اے سی کی سہولت میسر آئی تھی، اب وہ بھی نہ رہی۔ جیسے تیسے کر کے قرض لیا پھر سروس فنڈ نکلوا کے وہ قرض ادا کیا اور کچھ دن بھی سکھ کے نہ دیکھے۔ آنکھوں میں بے بسی سے آنسو بھر آئے ۔
”چل چھوڑ فائزہ ۔۔۔ آنسو پونچھ لے۔ اب رونے سے کیا فائدہ ۔۔۔ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اور بندے کا کام ہے رب کی رضا میں راضی رہنا۔ دکھ سکھ سب اس کے اختیار میں ہیں، وہ جب چاہے حالات بدلنے پر قادر ہے۔ حکمران اور اشرفیہ چاہے لاکھ سنگ دل ہو جائیں میرا رب تو مہربان ہے ہمیشہ سے اور ہمیشہ رہے گا۔
رب کا شکر احسان ہے اس کی اور بہت نعمتیں ہیں ہم پر ۔۔۔ اس نے گرمی سے بے نیاز پڑھائی میں مگن اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جو امتحانات کی تیاری میں مصروف تھا اور ماحول کی اسے کوئی پروا نہ تھی۔ وہ اپنے ہدف کے حصول میں مگن تھا نا اس لیے ۔۔۔
تو میرا ہدف کیا ہے ؟ بیٹھ کے گرمی اور حکومت کو کوستے رہنا ۔۔۔؟ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا
ہرگز نہیں!
ان ذرا ذرا سی باتوں پر کیا پریشان ہونا۔ جو رب چاہے سو ہو ۔ کسی کی کیا مجال کوئی ہمیں پریشانی میں مبتلا کر سکے۔ سب میرے مولیٰ کی طرف سے آزمائشیں ہیں! اور آزمائشیں کب ہمیشہ رہتی ہیں! کیا پتا کچھ دن میں یہ سب افراتفری ٹھیک ہو جائے ، بجلی کے نرخ سستے ہو جائیں اور مہنگائی کا یہ دیو کسی غار میں جا کر سو جائے۔
اور یہ حکمران ،،،، ان کی کیا مجال بھلا ۔۔۔ اللہ تعالٰی جب چاہے انھیں سیدھا کر کے رکھ دے، پھر کسی کی کیا مجال کوئی ذرا بھی ٹیڑھ پن دکھا سکے۔

دراصل ہم انسانوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی قیمت گرا لی ہے رب العالمین کی نظروں میں! جس دن یہ قیمت چڑھ جائے گی ، اس دن سارے سودے سستے ہو جائیں گے۔
بس اللہ ہم سے راضی ہو جائے ہمارے گناہوں کو بخش دے تو سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ۔ اور بھلا کون سی مصیبت ہمیشہ رہتی ہے۔ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بس تھوڑے دن کی تو گرمی ہے پھر موسم اچھا ہو جائے گا ان شاءاللہ۔ اس نے اپنے دل کو سمجھایا اور ایک بے نیاز سی نظر اے سی پر ڈالی۔

دنیا ویسے ہی مومن کا قید خانہ ہے اور بھلا قید خانے میں کہاں اے سی ہوتے ہیں پگلی۔۔۔!! مومن کا اصل گھر جنت ہے اور وہاں بالکل گرمی نہیں ہوگی بڑا فرحت بخش موسم ہوگا۔
اففف! یہ سوچتے ہی اس کے رگ و پے میں خوشی سی دوڑ گئی۔ اور دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی….
اللہم انی اسئلک الجنۃ الفردوس
پیارے اللہ میں تجھ سے جنت الفردوس کا سوال کرتی ہوں!


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں