سوچ بدلیے
سوچ کا یہ اندازجوآپ کے ہزارمسئلوں کی جڑ ہیں.
جس کی علامات یہ ہیں.
اگر آپ اس سوچ کے متحمل ہیں تو آپ ہمیشہ دوسروں سے ایسی توقعات رکھیں گے.
اگلے کو خود کیوں سمجھ نہیں آتا!!!
اگلے کو خود پتہ کیوں نہیں لگتا!!!
اگلے کو خود احساس کیوں نہیں ہوتا!!!!
اگلا خود ہی میرا کام کر لے گا!!!!
اگلا خودہی بتا دے گا!!!! وغیرہ وغیرہ.
“سوچ کے اس انداز کے, آپ کی شخصیت پر اثرات”
آپ دن بدن اپنی خوشیوں اور دیگر امور کے لیےدوسروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں.
آپ اپنی باتیں آدھی ادھوری کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں. کہ اگلا خودہی سمجھ لے گا.
آپ اپنا موقف واضح رکھ کر بات کرنے کا ہنر کھونے لگتے ہیں.
آپ اپنے احساسات کا مناسب طریقے سے اظہار نہ کرنے کی وجہ سے ہر وقت جلنے کُڑھنے لگتے ہیں. کہ اگلے کو خودہی احساس کیوں نہیں ہوتا.
یہ بھی پڑھیے
مثبت سوچ اور ہمارے صحابہ اکرام
آپ بذات خود اپنا کوئی کام پورا نہیں کر پاتے.
آپ اندر ہی اندر گھٹن کا شکار ہونے لگتے ہیں.
اورپھر ایک دن آپ اپنا موقف واضح نہ کر سکنے اور اپنے احساسات اور مسائل سمجھا نہ سکنے کی وجہ سے آپ اپنے پیاروں پر پھٹ پڑتے ہیں. جس کی وجہ سے آپ مزید مسائل میں گھڑجاتے ہیں… اور خود کو کوسنے لگتے ہیں. کہ کاش میں ایسا نہ کرتا.
اس کا حل کیا ہے
ہمیشہ اپنا موقف واضح رکھیں. دو ٹوک لہجے میں بات کریں.
مبہم اور غیر واضح بات نہ کریں.
اگلے کو ہر گز اندھیرے میں نہ رکھیں.
زیر لب گفتگو کے دائرے میں رہ کر بات کریں.
مناسب اندازاور مناسب وقت پر اپنے احساسات کا اظہار ضرور کریں.
اپنے اندر دوسروں کی وجہ سے چھو ٹے چھوٹے “عقدے “نہ بننیں دیں…. (یعنی اپنے دماغ میں طرح طرح کی سوچوں کی کھچڑی نہ پکنے دیں.)
خود پر یقین رکھیں. کہ آپ کو اللہ نے” احسن تقویم “پر بنایا ہے.
اور اس بات پر یقین رکھیں کہ ہم دنیا میں سیکھنے آئے ہیں. یہ زندگی ہمارے پاس مہلت ہے کہ ہم اپنے آپ کو دن بدن بہتر بنا کر اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں.
یاد رہے!!! اللہ نے انسان کو Hardware دے کر بھیجا ہے.اپنا Soft ware اس نے خود ہی بنانا ہے.
*لاتقنطو من رحمت اللہ(القرآن) *
سوچ بدلیے
ملتمس دعا:کنیز فاطمہ