عالم اسلام کے عظیم محقق ڈاکٹر حمید اللہ
ایک کلاس روم کا استاد کی نگاہیں کسی اور کا انتظار کر رہی ہیں وہ بار بار دروازے کی جانب دیکھتے۔ وقت کے ساتھ ان کی تشویش بڑھتی جارہی تھی۔ ان کی بے چین نگاہیں دروازے کا رخ کرتی اور ناکام پلٹ جاتی آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ اب تک نہ آیا ہو اور پھر ان کی پریشانی اگلے لمحے ختم ہوئی جب وہ دروازے پر کھڑا نظر آیا۔ ” کہاں تھے تم” استاد کے الفاظ میں ڈانٹ کی جگہ فکر تھی۔ جواب میں بچے نے کہا مجھے اندر آنے کی اجازت دی جائے پھر میں تفصیل سے بتاتا ہوں۔
استاد نے کہااندر آجاؤاور پھراندر آنے کے بعد پوچھا اب بتاؤ کیا بات ہے؟ ان کے لہجے میں شویش تھی وہ جلد جاننا چاہتے تھے کیونکہ بچے کا حلیہ اس قدر بگڑا ہوا تھا۔ بالوں میں مٹی اور لباس خستہ حال میں تھا۔
اس بچے نے کپکپاتی آواز سے بتانا شرو ع کیا کہ میرے والد کا گزشتہ رات انتقال ہوگیا تھا رات بھر ہم بہن بھائی درود اور قرآن پڑھتے رہے صبح جنازے کے ساتھ میں کتابیں بھی اٹھالایا۔ تدفین میں دیر ہوگئی جسکی وجہ سے آج مجھے آنے میں تاخیر ہوئی۔
استاد اپنے ا س شاگرد کی علم حاصل کرنے کی طلب پرحیران رہ گئے۔
یہ بچہ آج ڈاکٹر حمید اللہ کے نام سے جانے جاتے ہیں جن کے علم کی اسی طلب نے انہیں اتنا مقام دیا، علم کے سمندر کیو جہ سے وہ دنیا بھر میں اپنی قابلیت کیوجہ سے جانے جاتے تھے۔ ڈاکٹر حمیداللہ عالم اسلام کے بہترین سکالر نو فروری انیس سو آٹھ کو حیدراآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ اور مدرسہ نظامیہ سے عالم بنے جبکہ جامعہ عثمانیہ سے بی اے ، ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کئیے۔
اور پھر جرمنی کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپنی قابلیت کیو جہ سے بورڈ یونیورسٹی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ پھر انہوں نے پیریس سے ڈی لینڈ کی ڈگری حاصل کی۔
ڈاکٹر حمید اللہ ایک محقق، مصنف ، محدث ، فقیہ ، سیرت نگار اور استاد کی احثیت سےاپنی خدمات سر انجام دیں۔ انہیں بہت سی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ اسی لئے مختلف زبانوں میں انہوں نے چار سو کتابیں اور نوسو سینتیس علمی مقالے لکھے۔
ان کا ایک شاندار کارنامہ بھی موجود ہے جو صحیفہ ہمام بن منبہ جیسی علم کتاب کی دریافت تھی۔ یہ کتاب ابوہریرہ نے 98 ہجری میں یہ کتاب اپنے شاگردوں کو پڑھانے کے لئے لکھا تھا جس کا مسودہ حمید اللہ کو جرمنی کی لائبریری سے ملا اور آپ نے اسے شائع کروا کر پڑھانا شروع کیا۔
ڈاکٹر حمید اللہ نہ صرف علمی لحاظ سے سب سے اونچے تھے بلکہ اخلاق اور عاجزی انکساری میں بھی آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ آپ کو پوری دنیا کے لوگ قابل استاد اور علمی شخصیت کے حوالے سے جانتے ہیں۔ پاکستان بنتے وقت بھی آپ سے بہت سے علمی مشورے لئے گئے۔
آپ اپنی وطن سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ فرانس کی شہری احثیت لینے سے انکار کردیا آپ اتنے سخی اور عاجز تھے کہ جب حکومت پاکستانے آپ کو ستارہ امتیاز بہترین علمی کارگردگی پر دیا تو آپ نے اس میں ملنے والی رقم کروڑ روپے کو اسلامی فنڈ میں دے دیا۔
ایسے علمی اور عظیم لوگ ہمارے قوم کے اصل ہیرو ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے قوم کے اصل ہیرو سے اپنے بچوں کو متعرف کروائیں اور ان کی زندگی کو اپنی کتابوں اور نصاب میں شامل کریں۔