علامہ اقبال کی آزمائشوں سے متعارف ہونے کا راستہ
تحریر: ڈاکٹر یاسر حسین ستی الخیری
علامہ اقبال اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص انعام تھے جو اللہ پاک نے برصغیر کے مسلمانوں کو عطا کیے۔ ان کے نظریات ، شاعری ، فلسفے اور سیاست پر سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکیں ہیں اور مسلسل اقبال کی شخصیت پر آج بھی لکھا جا رہا ہے اور ان پر مزید تحقیق کرتے ہوئے ہر سال پوری دنیا میں درجنوں لوگ ابھی بھی پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔
ہماری قومی ذوق کا یہ عالم ہے کہ ہم جس شخص سے عقیدت رکھتے ہیں اس کی مناسب اور متوازن بشری زندگی پر نظر کم رکھتے ہیں جس کی وجہ سے نئی نسل ان شخصیات کو اپنا مشعل راہ نہیں بنا سکتی اور ان جیسا بننے سے کتراتی ہے۔ اس لیے ایک ترقی پسند قوم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے رہنما کی زندگی کے ہر زاویے سے تحقیق کرے تاکہ اس کو معلوم ہو جائے کہ جو آدمی جتنی زیادہ بلندی پر ہوتا ہے وہ اتنا زیادہ ہی آزمایا جاتا ہے۔
علامہ اقبال کی زندگی پر ان کے فرزند جسٹس جاوید اقبال نے “زندہ رود” کتاب لکھ کر اپنا یہ فرض پورا کر دیا ہے اور عوام تک یہ بات پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ اقبال کو بھی ڈاکٹر علامہ اقبال بننے تک کتنے کٹھن مراحل طے کرنے پڑے۔ اور انسانی زندگی کی آزمائشوں سے مسلسل مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو جگانے کا فرض عظیم بھی ادا کیا اور امت مسلمہ میں تجدید کے فکری مسائل کو حل کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔
دوسری کتاب جسٹس جاوید اقبال نے “اپنا گریبان چاک” کے نام سے لکھ کر اپنی خاندانی آزمائشوں اور اقبال کا بیٹا ہونے کے لازوال فوائد اور فانی نقصانات سے بھی قوم کو آگاہ کیا ہے۔ فرزند اقبال کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی عقیدت کو کیش نہیں کروایا بلکہ نئی نسل کو اقبال کا شاہین بننے کے لیے حقیقی زندگی کا واضح آئینہ دیکھایا ہے۔
اقبال سے محبت کرنے والے لوگ ان کتابوں کا ضرور مطالعہ کریں یہ کتابیں ان کے ذوق کو مزید جنون عطا کریں گی اور انسانیت کے فطری بشری کمالات پر ان کو فخر محسوس ہوگا